لاہور پولیس آپے سے باہر،شاہدرہ میں شیرجوانوں کا صحافیوں پر تشدد،حوالات میں بھی بند کر ڈالا،بیٹے کی گرفتاری کا سن کر ایک صحافی کی والدہ مبینہ اطلاعات کے مطابق دل کا دورہ پرنے سے انتقال کر گئیں،پولیس نے والدہ کی ہلاکت کا سن کر بھی صحافی کو حوالات میں بند کیے رکھا،پولیس کا صحافیوں کیخلاف انتقامی کاروائیوں کا آغازکردیا۔ تفصیلات کے مطابق لاہور کے علاقہ شاہدرہ تھانے کی حدود میں شاہدرہ تھانے کے ایس آئی وسیم ارشد نے رپورٹ درج کرائی کہ وہ تھانے کے گیٹ پر موجود تھا اور اپنی گاڑی آلٹو گرین کلر میں بیٹھ کر گاڑی اسٹارٹ کررہا تھا کہ کچھ فاصلے پر کھڑے میڈیا/صحافی جن میں نعیم بھٹی، محمد فہیم، محمد کلیم اور سات آٹھ نامعلوم افراد نے زبردستی میری گاڑی روک لی اور زبردستی مجھے گاڑی سے باہر نکالا، گالم گلوچ اور ہاتھا پائی شروع کی جس سے میری سرکاری وردی کی شرٹ بھی پھٹ گئی اور روڈ کے درمیان میں کھڑے ہوکر روڈ بلاک کر محکمہ پولیس اورافسران کے خلاف نعرے بازی کرنے لگے جنہیں تھانہ سے نفری بلاکر قابوکیا۔ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کیا جائے۔ شاہدرہ پولیس نے ملزمان کو حوالات میں ڈال کر ایف آئی آر نمبرپنتالیس سو دس ،دوہزار پچیس درج کرلی۔۔تاریخ اندرج ایف آئی آر تیرہ ستمبر ساڑھے چار بجے صبح بتایاگیا ہے۔
