saat samandar paar dosto ke naam

لاہور پریس کلب کو “دیال سنگھ مینشن “بننے سے بچا لیا

تحریر: امجد عثمانی۔۔

اللہ کریم دی نیوز کے صوفی مزاج  نیوز ایڈیٹر جناب عمران شیخ کی قبر کو منور کرے کہ وہ پس پردہ لاہور پریس کلب کے بہت بڑے خیر خواہ تھے۔ ۔۔وہ 2023 کے دسمبر میں جناب ارشد انصاری کو گھیر گھار کے پریس کلب نہ لاتے تو آج نہ چمکتا دمکتا پریس کلب ہوتا نہ فیز ٹو کادروازہ کھلتا۔ ۔۔ہاں لاہور پریس کلب کے 25فیصد ممبران نارنگ منڈی کے قرب و جوار نام نہاد مسکن راوی میں “بھٹک” رہے ہوتے۔۔۔۔۔!

یادش بخیر۔۔۔۔بلند قامت عمران شیخ صاحب جناب ارشد انصاری کے کاندھے پر ہاتھ رکھے کلب کے صحن میں اچانک میرے پاس آئے۔۔۔وہ مصر تھے کہ ارشد انصاری الیکشن لڑیں۔۔۔۔میں نے بھی کلب کے لوگو کی طرف اشارہ کرکے  ارشد انصاری صاحب سے کہا کہ الیکشن لڑیں اور لاہور پریس کلب کے لوگو کو بچائیں ۔۔۔تب استقبالیے کے ماتھے پر سجا لاہور پریس کلب کا لوگو ماند پڑ چکا تھا۔۔۔۔۔وہ کہنے لگے میں اکیلا کیوں۔۔۔آپ بھی ساتھ دیں ۔۔۔میں نے بھی ہاں کردی۔۔۔۔۔!

۔پھر 2024 کا  الیکشن ہوا اور اللہ کریم نے ہمیں عزت دی۔۔۔۔عزت کے ساتھ ایک چیلنج بھی اور وہ یہ کہ ہمیں یار لوگوں سے ایک تباہ حال پریس کلب ملا۔۔۔۔پھر اللہ کریم کے کرم سے 2024پریس کلب کی تاریخ کا بہترین سال ٹھہرا۔۔۔۔میں صرف ایک سال کی بات کروں گا کہ میں اس کا جواب دہ بھی ہوں۔۔۔۔اس سال جناب ارشد انصاری کی شبانہ روز کاوشوں سے فیز ٹو لانچ ہوا۔۔۔۔پانچ کروڑ گرانٹ ملی۔۔۔پریس کلب کا بدترین مالی بحران ختم  ہوا۔۔۔۔سولر  سسٹم لگا۔۔۔۔بجلی کے پرانے بل ادا ہوئے۔۔۔ملازمین کی تنخواہوں کا نظام درست ہوا۔۔۔بقایا جات تک دیے گئے۔۔۔۔اور ایک اور شاہ کار اور وہ ہے سٹیٹ آف دی آرٹ گوشہ نماز۔۔۔۔۔اس کا کریڈٹ بھی جناب ارشد انصاری کو جاتا ہے۔۔۔۔۔

میں اور پریس کلب کے بہترین فنانس سیکرٹری برادرم سالک نواز نے بھی ارشد انصاری کے دست وبازو بن کر کلب کو سنوارنے کا بیڑہ اٹھایا۔۔۔۔

میں نے ذاتی طور پر جو کام کیے اس پر ایک طائرانہ نظر ڈالتے ہیں کہ یہ کالم تفصیلات کا متحمل نہیں۔۔۔۔میں نے

1:لاہور پریس کلب کی بھوت بنگلہ عمارت پر توجہ دی اور  ایک ملٹی نیشنل پینٹ ساز کمپنی” برائیٹو پینٹس” کی سپانسرشپ سے پوری بلڈنگ کو رنگ و روغن سے مزین کرکے اس کا حسن دوبالا کردیا۔۔۔مجھے وہ دن بھی یاد ہے جب لابی میں بیٹھے ہمارے سنئیر ز جناب بخت گیر چودھری اور حارث مرغوب کے سر پر قلعی کا تھوبڑا گرا اور وہ شرمندہ ہوگئے۔۔۔۔

2:لاہور پریس کلب کی تباہ شدہ ظہیر کاشمیری لائبریری پر توجہ دی اور اسے سپانسرشپ سے سٹیٹ آف دی آرٹ”ای لائبریری”بنادیا۔۔۔۔6نئی الماریاں ۔۔۔نئی میز اور 16کرسیاں۔۔۔نئی ایل سی ڈی اور سی سی ٹی وی کیمرا۔۔۔الماریوں میں سینکڑوں نئی کتابیں اور لاکھوں ای بکس۔۔۔۔

3:لاہور پریس کلب کی بند پڑی ویب سائٹ پر توجہ دی اور پنجاب انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ کے تعاون سے Lahore press club .comکے نام سے خوب صورت ویب لانچ کر دی اور اس کے لیے بھی نئی ایل سی ڈی سپانسر کرائی۔۔۔کسی پرائیویٹ ادارے کی یہ پہلی ویب سائٹ ہے جس کی ہوسٹنگ پی آئی ٹی بی نے اپنے ذمہ لی

4:لاہور پریس کلب کے ڈیجیٹل سٹوڈیو پر توجہ دی اور وہاں بھی پوڈ کاسٹ سمیت نئے آلات نصب کیے

5:فنانس سیکرٹری جناب سالک نواز سے مل کر کیفے پر توجہ دی۔۔۔وہاں مائیکرواوون تک نہیں تھا۔۔۔کونسل ممبران کے لیے اس بنیادی سہولت کا بندوبست کیا۔۔۔یہ وہی کیفے ٹیریا تھا جہاں ایک میز پر چائے کے لیے چار رنگ کے کپ ہوتے ۔۔ٹرک ہوٹل کے جگ تھے۔۔ٹھنڈا پانی نایاب۔۔۔۔پانی کے لیے گلاس نہیں ملتے تھے۔۔۔۔مین مینو ایک چینل کا خیراتی کھانا تھا جسے پیکیج کا نام دیا گیا تھا۔۔۔۔

6:لاہور پریس کلب لاہور پریس کلب کی تاریخ میں دوسری مرتبہ خواتین ممبرز کا ٹور سپانسر کرایا۔۔۔

7:لاہور پریس کلب کی تاریخ میں پہلی مرتبہ خواتین میں بریسٹ کینسر کی تشخیص کے لیے میموگرافی بس کلب آئی۔۔۔کینسر کے علاج کے لیے ایک کمپنی سے ایم او یو بھی کیا

8:لاہور پریس کلب کے کونسل ممبران کے لیے دارالعرفان منارہ کلر کہار کا ایک روزہ دورہ بھی ارینج کیا۔۔۔۔

9:رمضان المبارک میں محفل حسن قرآت و نعت کا اہتمام۔۔۔2کونسل ممبرز اور ایک کلب ملازم کو عمرے کا ٹکٹ سپانسر کرایا۔۔۔۔۔

10:لاہور پریس کلب کی تاریخ میں ربیع الاول میں پہلی مرتبہ باقاعدہ سیرت کانفرنس کا اہتمام۔۔۔مدینہ منورہ سے اسلامی سکالر جناب ڈاکٹر احمد علی سراج نے خطاب کیا۔۔۔۔

11:لاہور پریس کلب میں 3روزہ شان دار کتاب میلہ سجایا۔۔۔کونسل ممبرز کو کتابوں کی خریداری پر 50فیصد رعایت دی گئی

12:تین آئی کیمپ اور الاحسان آئی ہسپتال کے ساتھ کونسل ممبران کے مفت علاج کا معاہدہ کیا

13:شوگر سمیت 8میڈیکل کیمپ۔۔۔مہنگے ٹیسٹ اور مفت ادویات

14:لاہور پریس کلب عملی طور پر صحافت وادب کا گہوارہ بنادیا۔۔۔ریکارڈ ادبی تقریبات۔۔۔مشاعرے ہوئے۔۔۔سنئیر صحافیوں اور ادیبوں کے ساتھ شامیں منائیں ۔۔۔۔

15:لاہور پریس کلب کے ملازمین کا بھی خیال رکھا۔۔۔دس سال سے رمضان پیکیج اور کرسمس پیکج کا انتظام کیا۔۔۔۔

16:سالک نواز نے فیض ہال میں بنے زنگ آلود جم کا نقشہ ہی بدل دیا۔۔۔ایکسر سائز کے لیے نئی مہنگی مشینیں لگوائیں۔۔۔۔سپورٹس سرگرمیوں کے لیے نئے ٹینس ٹیبل ۔۔کیرم بورڈ سپانسر کرائی۔۔۔کیرم اور چیس ٹورنامنٹ کرائے۔۔۔۔۔

2025میں فیز ٹو ایک قدم آگے بڑھا۔۔۔پنجاب حکومت نے روڈا کو چوالیس کروڑ دے دیے جس کے بعد ایک ایم او یو ہوا اور اور پی جے ایچ ایف نے ممبران کو چالان فارم بھی جاری کردیے جس کا کریڈٹ بھی جناب ارشد انصاری کو جاتا ہے۔۔۔۔اسی طرح ایف بلاک میں بھی پیشرفت ہوئی اور پچھلے سال ڈیمارکیشن کے بعد اس سال الیکٹریفیکیشن بھی ہوگئی جو جناب افضال طالب کی بہترین کاوش ہے۔۔۔۔پھر بھی “پائنیرز ” دعویٰ کرتے ہیں کہ کلب نہیں بدلا۔۔۔۔ہم آکر کلب سنواریں گے۔۔۔۔

یار لوگوں کا مسئلہ یہ ہے کہ وہ بھی باتوں میں زمین و آسمان کے قلابے ملا دیتے لیکن بات کام کی ہو تو چراغوں میں روشنی نہیں رہتی۔۔۔۔جس کا ثبوت یہ ہے کہ 2025 میں بھی یار لوگوں کے پاس نائب صدر کے اہم عہدے  سمیت دو تین گورننگ باڈی نشستیں بھی تھیں۔۔۔۔کوئی ایک کام بتادیں ۔۔اس سال بھی کلب میں ایک ہی کمیٹی نے کام کیا اور وہ خاکسار کی سربراہی میں آرٹ کلچر اینڈ ٹکنالوجی کمیٹی تھی۔۔۔۔اورہاں اس سال کلب میں صرف تین عملی کام ہوئے۔۔۔۔موبائل چارجنگ سسٹم۔۔۔۔گوشہ نماز میں گیزر اور دو عمرے کے ٹکٹ۔۔۔اس پر بھی  میرے دوستوں محمد عبداللہ اور رانا خالد کو شاباش دیں۔۔۔!!!شکر ہے ہم نے لاہور پریس کلب کو” دیال سنگھ مینشن” بننے سے بچا لیا۔۔(امجد عثمانی)۔۔

Facebook Comments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں