تحریر: شہزاد احمد۔۔
لاہور پریس کلب کے سالانہ انتخابات کا میدان سج گیا ہے ایک طرف تو جرنلسٹ گروپ کے صدر کے امیدوار ارشد انصاری اور دوسری جانب پروگریسو گروپ کے اعظم چوہدری ان کے مد مقابل موجود ہیں جبکہ الیکشن میں سب امیدوار فیز ٹو کے ووٹرز کو راغب کرنے کیلئے مختلف ہتھکنڈے استعمال کررہے ہیں پہلے تو ہمیں یہ دیکھنا ہوگا کہ فیز ٹو وزیر اعلی پنجاب مریم نواز کا انیشیٹیو ہے جبکہ پنجاب میں وزیر اعلی مسلم لیگ ن سے ہین جبکہ لاہور پریس کلب اس حوالے سے بھی اہم ہے کہ یہ کلب پاکستان اور مسلم لیگ ن کے دل کی حیثیت رکھتا ہے ارشد انصاری کا واضح جھکاؤ مسلم لیگ ن کی طرف ہے جبکہ پروگریسو گروپ کے ارکان کی اکثریت پی ٹی آئی اور عمران خان کے ہمدردوں پر مشتمل ہے ان کے گروپ کے امیدواروں کی اکثریت حکومت مخالف بیانیہ کے حوالے سے خاص شہرت کے حامل ہیں ایسے میں اگر پروگریسو گروپ جیت جاتا ہے تو کیا وہ مسلم لیگ ن سے مخاصمت کی سیاست نہیں کرے گا؟ اور اگر ایسا ہی ہوا تو فیز ٹو پس پشت چلا جائے گا لہذا پریس کلب کے باشعور ووٹرز اپنے ووٹ کا حق استمعال کرتے ہوئے اس پہلو کو مدنظر رکھیں کہ فیز ٹو کا مستقبل ارشد انصاری سے وابستہ ہے اگر اپنے اہل خانہ کا محفوظ مستقبل چاہیتے ہیں تو ارشد انصاری کو بھاری اکثریت سے کامیاب کروائیں۔۔آپکا مخلص شہزاد احمد
