فلم انڈسٹری کی بحالی حکومتی سرپرستی کے بغیر ممکن نہیں، اداکار شاہد۔۔

پاکستان کی فلم انڈسٹری کی سرکاری سطح پر سر پرستی کی جائے  تو وہ آج بھی دنیا بھر میں پاکستان کا ڈنکا بجا سکتی ہے یہ بات پاکستان فلم انڈسٹری کے معروف اداکار شاہد حمید نے اپنے اعزاز میں منعقدہ تقریب میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا جس کا اہتمام کراچی پریس کلب اور پاکستان فلم ٹی وی جرنلسٹس ایسوسی کی جانب سے کیا گیا تھا اس موقع پر کراچی پریس کلب کے صدر فاضل جمیلی اور جوائنٹ سیکرٹری فاروق سمیع نے فلم اسٹار شاہد کو اجرک اور سندھی ٹوپی کا تحفہ پیش کیا جبکہ فلم ٹی وی جرنلسٹس ایسوسی ایشن کے چیئرمین اطہر جاوید صوفی اور صدر عبدالوسیع قریشی نے معزز مہمان کو خؤش آمدید کہا،  فلم اسٹار شاہد نےپروگرام” گپ شپ “میں مزید اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں پاکستان فلم انڈسٹری عروج پر تھی اور معاشی صورتحال بھی بہتر تھی  پھر مارشل لا دور میں بحران کا شکار ہوئی ایک اچھی فلم کے لیے اچھے پروڈیوسر کا ہونا ضروری ہے، اس موقع پرصدر کے یو جےطاہر حسن خان سنئیر صحافی شمس کیریو ،بانسری نواز استاد سلامت حسین،عظیم ایڈوکیٹ ،انٹر نیشنل پروموٹر ناصر شیخ ،ڈاکٹر توصیف احمد ،حسن ذیدی،کے علاؤہ صحافیوں اور  الیکٹرانک میڈیا کے نمائندوں کی بڑی تعداد بھی موجود تھی میڈیا سے گفتگو میں فلمسٹار شاہد کا کہنا تھا کہ کراچی سے ہمیشہ محبتیں ملیں جس کا تسلسل جاری ہے،جب بھی یہاں آتا ہوں بہت زیادہ پذیرائی دی جاتی ہے، پاکستانی فلمی صنعت کی ازسرنوبحالی حکومتی سرپرستی سے ممکن ہے،کیونکہ فلم انڈسٹری کی مسلسل زبوں حالی کی وجہ ابھی چیلنجز زیادہ بڑھ چکے ہیں،اس سلسلے میں نئے سینما گھروں کی تعمیر اور فلم پروڈکشن کے حکومتی سرمایہ کاری ناگزیر ہے ان کا کہنا تھا کہ ذوالفقارعلی بھٹو کے دوران میں فلمی صنعت عروج پر تھی میں ذوالفقار علی بھٹو کا بہت بڑا عاشق ہوں،ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں مجھ سمیت دیگراداکاروں کو  جتنی پذیرائی ملی اتنی عزت پھر کبھی نہیں ملی،اداکار شاہد کا کہناتھا کہ مجھے اس بات کا پتہ چل چکا تھا کہ بھٹو صاحب کا فیصلہ ہوچکا ہے،جس صبح پھانسی کا فیصلہ لکھا جاناتھا اس سے  ایک رات قبل میں کسی اعلی درجے پر فائز شخصیت  کے گھر پر رات کے 2 بجے پہنچا،ان سے گھریلو مراسم تھے،انھیں نیند سے جگا کر میں نے ان سےگذارش کی کہ ذوالفقار بھٹو کو پھانسی نہ دیں، جواب میں وہ صاحب غصے میں آگئے اور انھوں نےتم کوئی سیاستدان ہوجو یہ بات کہہ رہے ہو،یاد رکھو کے تم ایک فلمی اداکار ہو؟،بعدازاں بھٹو کوتختہ دار پر لٹکا دیا گیا،جو کہ میری نظرمیں پاکستان کا بہت بڑا نقصان تھا،قائد اعظم کے بعد بھٹو کی شخصیت سیاسی اعتبار سے سحرانگیز تھی،سن 71 کی جنگ کے حوالے سے ہماری ذاتی پروڈکشن کے تحت بننے والی فلم میں پاکستانی اداروں اور افواج پاکستان نے بہت سپورٹ کیا، اس مشکل سبجیکٹ کی فلمبندی کے لیے اس وقت کے ٹینکس اور ہوائی جہاز مہیا کیے گئے،ان کا کہنا تھا کہ بنگلہ دیش کے ساتھ مشترکہ فلم سازی پرکام ہونا چاہیئے کیونکہ ماضی میں یہ سلسلہ کامیاب رہا ہے،  آخر پاکستان فلم اینڈ ٹی وی جرنلسٹ ایسوسی ایشن کے صدر عبدالوسیع قریشی نے فلمسٹار شاہد کی آمد پر ان کا شکریہ ادا کیا اور ان کے شاندار فنی کیرئیر پر روشنی ڈالی۔۔

Facebook Comments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں