تحریر: روشن دین دیامری۔۔
گزشتہ اتوار کو اسلام آباد نیشنل پریس کلب میں ایک فری میڈیکل کیمپ کا انعقاد کیا گیا۔ بظاہر یہ ایک فلاحی اقدام تھا، مگر اس کی منصوبہ بندی اور نگرانی میں کی گئی سنگین کوتاہی نے اسے ایک فرد کے لیے شدید ذہنی اذیت کا سبب بنا دیا۔
پریس کلب کے باہر اس وقت کلائمیٹ چینج سے متعلق ایک احتجاج جاری تھا، جس کی کوریج کے لیے میں وہاں موجود تھا۔ واپسی پر اندر میڈیکل کیمپ جاری تھا، چند صحافی دوست بھی موجود تھے، اس لیے میں بھی معمول کے چیک اپ کے لیے کیمپ میں چلا گیا۔ وہاں ابنِ سینا لیب کے ساتھ ایک اور لیب موجود تھی جو خود کو “یونیورسل لیب” ظاہر کر رہی تھی۔چند بنیادی ٹیسٹس کروائے گئے جن میں بلڈ ٹیسٹس، شوگر، کولیسٹرول اور ہیپاٹائٹس سی (HCV) شامل تھے۔ اگلے ہی دن یونیورسل لیب کی جانب سے مجھے HCV پازیٹو کی رپورٹ بھیج دی گئی۔ اس ایک رپورٹ نے مجھے شدید ذہنی دباؤ میں مبتلا کر دیا۔ ہیپاٹائٹس سی جیسا مرض محض ایک طبی تشخیص نہیں، بلکہ اس کے ساتھ سماجی خوف، ذہنی اضطراب اور مستقبل کے خدشات جڑے ہوتے ہیں۔ تقریباً ڈیڑھ دن تک میں ایک ایسی کیفیت سے گزرا جسے بیان کرنا مشکل ہے—یہ وہ اذیت تھی جو کسی بھی غیر ذمہ دار رپورٹ کے نتیجے میں کسی بھی شخص پر مسلط کی جا سکتی ہے۔
جب میں نے یہ رپورٹس ڈاکٹروں اور قریبی دوستوں کے ساتھ شیئر کیں تو سب کا متفقہ مشورہ تھا کہ فوری طور پر کسی مستند ادارے سے دوبارہ ٹیسٹ کروایا جائے۔ اس کے بعد میں نے ایکسَل لیب سے HCV کا دوبارہ ٹیسٹ کروایا، جس کی رپورٹ اگلے دن موصول ہوئی اور اس میں نتیجہ نیگیٹو آیا۔یہ سوال اب صرف ایک غلط رپورٹ تک محدود نہیں رہا۔ اصل سوال یہ ہے کہ نیشنل پریس کلب جیسے معتبر ادارے کے اندر کن بنیادوں پر ایسی غیر معروف یا مشکوک لیبز کو فری میڈیکل کیمپ کے نام پر جگہ دی جاتی ہے؟ کیا ان اداروں کی رجسٹریشن، کوالٹی کنٹرول اور ٹیسٹنگ اسٹینڈرڈز کی کوئی جانچ پڑتال کی جاتی ہے؟
فری میڈیکل کیمپ لگانا بلاشبہ ایک اچھا عمل ہے، مگر یہ ذمہ داری بھی اتنی ہی بڑی ہے۔ صحت سے جڑا ایک غلط نتیجہ کسی انسان کو مریض بنا سکتا ہے، اس کے ذہن کو مفلوج کر سکتا ہے اور اس کے خاندان کو خوف میں مبتلا کر سکتا ہے۔
نیشنل پریس کلب کی انتظامیہ اور صحافتی تنظیموں سے گزارش ہے کہ آئندہ ایسے کیمپس کے انعقاد سے قبل صرف رجسٹرڈ، مستند اور قابلِ اعتماد طبی اداروں کو اجازت دی جائے۔ نامعلوم یا غیر معیاری لیبز کو مدعو کر کے صحافیوں اور شہریوں کو ذہنی اذیت میں مبتلا کرنا کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔یہ معاملہ محض میری ذات کا نہیں، بلکہ ہر اس شخص کا ہے جو ایسے کیمپس پر اعتماد کر کے اپنی صحت کی جانچ کرواتا ہے۔ صحت مذاق نہیں، اور نہ ہی غلط رپورٹنگ کی قیمت کوئی ایک فرد اکیلا ادا کرے۔(روشن دین دیامری)۔۔
(زیرنظر تحریر صحافی کی سوشل میڈیا پوسٹ ایکس سے لی گئی ہے تاکہ دیگر احباب کو آگاہی حاصل ہوسکے۔۔ اس تحریر کے مندرجات سے عمران جونیئر ڈاٹ کام یا اس کی پالیسی کا متفق ہونا ضروری نہیں۔۔ علی عمران جونیئر)۔۔
