health reporting award express tribune top position par

غیر حاضر پارلیمنٹ

ایکسپریس ٹریبیون کا اداریہ۔۔

ایک ایسے وقت میں جب پاکستان معاشی بحالی اور سیاسی تقسیم جیسے سنگین چیلنجز سے دوچار ہے، ملک کے منتخب نمائندے اپنی سب سے بنیادی ذمہ داری، یعنی پارلیمنٹ میں حاضری، سے حیران کن حد تک لاتعلق دکھائی دیتے ہیں۔ فافن کی جانب سے قومی اسمبلی کے 23ویں اجلاس سے متعلق جاری کردہ تازہ حاضری رپورٹ کے مطابق 332 میں سے 276 اراکینِ قومی اسمبلی 12 سے 22 جنوری کے دوران کم از کم ایک اجلاس میں غیر حاضر رہے۔ صرف 56 ارکان، یعنی محض 17 فیصد، ایسے تھے جو تمام اجلاسوں میں شریک ہوئے۔

یہ دائمی غیر حاضری پارلیمانی عمل کو کھوکھلا کر رہی ہے اور نمائندہ جمہوریت کا مذاق بن کر رہ گئی ہے۔ وزیرِ اعظم شہباز شریف ایک بھی اجلاس میں شریک نہیں ہوئے، جبکہ پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے بھی کسی اجلاس میں شرکت نہیں کی۔ جب اقتدار کے اعلیٰ ترین منصب پر فائز شخصیات پارلیمنٹ کو اختیاری سمجھیں تو نچلی سطح تک یہ پیغام جاتا ہے کہ جواب دہی بعد میں بھی دیکھی جا سکتی ہے۔ سب سے زیادہ حاضری والا اجلاس، جس میں 222 ارکان شریک ہوئے، نجی اراکین کا دن تھا، جہاں ذاتی دلچسپی کے بل منظور کیے گئے۔

یوں محسوس ہوتا ہے کہ قانون ساز اس وقت زیادہ متحرک ہوتے ہیں جب قانون سازی ان کے اپنے مفادات سے جڑی ہو، جبکہ معمول کی حکمرانی یا انتظامی نگرانی کے معاملات ان کی ترجیح نہیں بنتے۔ اسی تناظر میں فافن کی جانب سے آئین کے آرٹیکل 66 کو مؤثر بنانے اور پارلیمانی کمیٹیوں کے نظام کو مضبوط کرنے کی تجویز بروقت ہے۔ آرٹیکل 66(3) کے تحت ضروری قانون سازی نہ ہونے کے باعث پارلیمانی کمیٹیاں محض علامتی حیثیت رکھتی ہیں اور حقیقی نگرانی کا کردار ادا کرنے سے قاصر ہیں۔ یہ کمزوری عالمی اداروں کی نظروں سے بھی اوجھل نہیں رہی، حتیٰ کہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے بھی پاکستان کے طرزِ حکمرانی میں محدود شفافیت پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔

دوسری جانب عوام یہ سب کچھ خاموشی سے دیکھ رہے ہیں۔ جب شہریوں سے کمر کسنے اور قربانیاں دینے کا مطالبہ کیا جاتا ہے تو انہیں یہ توقع رکھنے کا پورا حق ہے کہ ان کے منتخب نمائندے اپنی ذمہ داریاں دیانت داری سے نبھائیں گے۔ مسلسل غیر حاضری، بالخصوص سینئر قیادت اور وزرا کی جانب سے، ریاست کی اس اخلاقی حیثیت کو کمزور کرتی ہے جس کے تحت وہ عوام سے قربانی کا تقاضا کر سکتی ہے۔ اب ضرورت صرف حاضری بڑھانے کی نہیں بلکہ رویہ بدلنے کی ہے۔ پارلیمنٹ کو سخت حاضری قوانین نافذ کرنا ہوں گے، جن میں محض علامتی کٹوتیوں سے بڑھ کر مؤثر سزائیں شامل ہوں۔ اسی طرح اجلاسوں اور حاضری کے ریکارڈ کو عوام کے لیے زیادہ نمایاں اور قابلِ رسائی بنایا جانا چاہیے تاکہ حقیقی جواب دہی کو فروغ مل سکے۔(بشکریہ ایکسپریس ٹریبیون)

Facebook Comments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں