سینئر صحافی ،کالم نویس اور تجزیہ کار ایازامیر کاکہنا ہے کہ ۔۔ویسے تو دونوں اطراف ٹی وی چینلوں پر کہانیاں چل رہی ہیں لیکن ماننا پڑے گا کہ چیخ و پکار اور غلط رپورٹنگ میں انڈیا کا مقابلہ کرنا مشکل ہے۔ ہر چینل اُن کا گولہ باری میں لگا ہوا ہے۔ اُن کی ایک جرنلسٹ ہیں پالکی شرما جو کہ انگریزی میں ایک پروگرام کرتی ہیں۔ پڑھی لکھی اور جاذبِ نظر ہیں‘ انگریزی بھی خوب بولتی ہیں اور انڈین پوزیشن کی خوب ترجمانی کرتی ہیں۔ چیختی چنگھاڑتی نہیں ہیں‘ خوش اسلوبی سے انڈیا کی ترجمانی کرتی ہیں چاہے وہ ترجمانی خالص یکطرفہ خبروں اور پراپیگنڈا پر مبنی ہو۔ لیکن اچھی بات یہ ہے کہ اُن کی بنائی کہانی میں اصل کہانی مل جاتی ہے۔دنیانیوزمیں اپنے تازہ کالم میں وہ لکھتے ہیں کہ کالم لکھنے سے پہلے اُن کا پروگرام کھولا۔ ظاہر ہے یہ گزرے ہوئے کل کی بات تھی اور اُسی صبح پاکستان کے بھاری حملے ہندوستانی ٹھکانوں پر ہوئے تھے۔ پالکی جی نے اقرار کیا کہ اتنے ٹھکانوں پر حملے ہوئے ہیں اور ان حملوں میں پاکستان نے جہاز‘ میزائل اور بہت کچھ اور استعمال کیا ہے۔ نقصان کا انکار کیا لیکن حملوں کی تصدیق تو ہو گئی۔ وہ مزید لکھتے ہیں کہ ۔۔ان جھڑپوں سے ہندوستان کو اتنا احساس تو ہو گیا ہوگا کہ دریاؤں کے پانیوں کے ساتھ کھیلنا اتنا آسان کام نہیں ہوگا۔ چھوٹی سی باتوں پر اِتنا کچھ ہو گیا ہے تو کسی قسم کی آبی جارحیت کی جائے تو سوچا جاسکتا ہے کہ اُس کا ردِعمل کیا ہوگا۔ پاکستان کو بھی اپنے آبی ذخائر کا زیادہ احساس ہونا چاہیے۔ یہ جو چولستان کی نہروں کے بارے میں سوچا جا رہا تھا ایسے ڈراموں سے دور رہنا بہتر ہے۔ ملک کے وسیع تر تناظر کو بھی اب دیکھنے کی ضرورت ہے۔
غلط رپورٹنگ میں انڈیا کا مقابلہ مشکل ہے، ایازامیر۔۔
Facebook Comments
