معروف صحافی ارشد شریف شہید کی بیوہ صومیہ ارشد نے آئینی عدالت میں ایک درخواست دائر کرتے ہوئے ارشد شریف قتل کیس میں ازخود نوٹس کو برقرار رکھنے اور شہید کی والدہ کی جانب سے دائر آئینی درخواست میں نامزد افراد کو عدالت میں طلب کرنے کی استدعا کر دی ہے۔ درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ ارشد شریف کے قتل کا معاملہ نہایت سنگین نوعیت کا ہے اور اس میں اب تک کئی اہم پہلوؤں پر مکمل اور شفاف تحقیقات نہیں ہو سکیں۔ صومیہ ارشد نے عدالت کو آگاہ کیا کہ ازخود نوٹس کے خاتمے سے انصاف کے تقاضے پورے نہیں ہوں گے، اس لیے عدالت اس نوٹس کو برقرار رکھتے ہوئے کارروائی کو منطقی انجام تک پہنچائے۔درخواست کے مطابق ارشد شریف کی والدہ کی جانب سے پہلے ہی آئینی درخواست دائر کی جا چکی ہے، جس میں متعدد افراد کو نامزد کیا گیا ہے، تاہم تاحال ان افراد کو عدالت میں طلب نہیں کیا گیا۔ بیوہ صومیہ ارشد نے استدعا کی کہ عدالت ان تمام نامزد افراد کو طلب کر کے ان کا مؤقف سنے تاکہ حقائق سامنے آ سکیں۔درخواست میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ارشد شریف کا قتل صرف ایک فرد کا نہیں بلکہ آزادیٔ صحافت اور آئین کے تحت بنیادی حقوق کا معاملہ ہے، اس لیے اس کیس کو معمولی سمجھ کر بند کرنا انصاف کے منافی ہوگا۔ صومیہ ارشد نے عدالت سے شفاف، غیر جانبدار اور مؤثر تحقیقات کو یقینی بنانے کی اپیل کی ہے۔واضح رہے کہ ارشد شریف کو اکتوبر 2022 میں کینیا میں فائرنگ کے ایک واقعے میں قتل کیا گیا تھا، جس کے بعد پاکستان میں اس معاملے پر ازخود نوٹس لیا گیا۔ یہ کیس اب بھی اعلیٰ عدالتی فورم پر زیرِ سماعت ہے اور صحافتی حلقوں کی جانب سے انصاف کے تقاضے پورے کرنے کا مطالبہ مسلسل کیا جا رہا ہے۔
