ڈیلی پاکستان سے وابستہ اینکر پرسن یاسر شامی کے خلاف بے بنیاد الزامات، جھوٹا پراپیگنڈہ اور بدنامی کی منظم مہم چلانے پر عدالت نے سابق رکن قومی اسمبلی عامر لیاقت حسین کی پہلی مطلقہ بشریٰ اقبال کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کردیے۔عامر لیاقت کی مطلقہ نے یاسر شامی کے خلاف سائبر کرائم کا کیس دائر کر رکھا تھا۔ اس کیس کے دوران ملزمہ اپنے سوشل میڈیا پر پراپیگنڈہ کرتی اور جھوٹ پھیلاتی رہی۔ اس نے سائبر کرائم کے کیس کی غلط رپورٹنگ کی اور یاسر شامی پر جھوٹے الزامات لگاتی رہی۔ملزمہ کے بے بنیاد الزامات کے خلاف یاسر شامی نے ایف آئی اے سائبر کرائم سے رجوع کیا اور استدعا کی کہ بشریٰ اقبال کی طرف سے ان کی ذات پر جو الزامات لگائے جا رہے ہیں ان کے ثبوت فراہم کیے جائیں۔ ایف آئی اے سائبر کرائم میں یاسر شامی کی طرف سے 10 مئی 2024 کو پیکا ایکٹ 2016 کی دفعات 20 اور 24 کے تحت شکایت درج کروائی گئی ۔کئی ماہ تک نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) نے اس معاملے کی تحقیقات کیں۔ تحقیقات مکمل ہونے کے بعد مقدمہ عدالت کو بھیجا گیا۔عدالت نے متعدد بار عامر لیاقت کی مطلقہ کو پیش ہونے کیلئے نوٹسز جاری کیے۔ بار بار سمن کیے جانے پر بھی وہ عدالت میں پیش نہیں ہوئی تو اس کے قابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کیے گئے ۔ وارنٹ کے باوجود ملزمہ عدالت میں پیش نہیں ہوئی جس پر عدالت نے اس کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کردیے۔ عدالت کی طرف سے ملزمہ کو 16 اکتوبر کو پیش ہونے کا حکم دیا گیا ہے
