ڈاکٹر عامر لیاقت کی نازیبا ویڈیوز وائرل کرنے کے کیس کی سماعت کے دوران ملزمہ دانیہ شاہ اپنے لیاقت علی خان گبول ایڈووکیٹ کے ہمراہ عدالت میں پیش ہوئیں۔مد عیہ وکیل نے سماعت ملتوی کرنے کے لیے عدالت میں درخواست بھجوادی جس میں سماعت ملتوی کرنے کی استدعا کی گئی ہے۔ عدالت میں ملزمہ دانیہ شاہ کے وکیل لیاقت علی خان نے سماعت ملتوی کرنے کی مخالفت کی۔ عدالت نے ملزمہ دانیہ شاہ کی بریت کی درخواست پر مدعیہ کو اور ایف آئی اے کو آ خری موقع دیتے ہوئےسماعت 2 اکتوبر تک ملتوی کردی۔کراچی میں جوڈیشل مجسٹریٹ شرقی ون کی عدالت میں مدعی مقدمہ کے وکیل کی طرف سے ملزمہ دانیہ شاہ کے کیس کی سماعت ملتوی کرنے کی درخواست دائر کرنےاور ایف آئی اے کے سرکاری وکیل کے پیش نہ ہونے پر عدالت سے جرمانہ عائد کرنے کی استدعا کی گئی۔ ملزمہ کے وکیل لیاقت گبول ایڈووکیٹ نے کہا کہ۔۔ایف آئی اے نے دانیہ شاہ کے خلاف جھوٹا کیس بنایا ہے اس لیے ایف آئی اے مقدمہ نہ چلانے کے لیے تاخیری حربے استعمال کررہی ہے۔ ایف آئی اے آج تک دانیہ شاہ کے خلاف ویڈیو بنانے اور اسے ٹرانسفر کرنے کا الزام ثابت نہیں کرسکی۔ مدعیہ اور ایف آئی اے کے پاس دانیہ شاہ کے یوٹیوب انٹرویو کے علاؤہ کوئی ثبوت نہیں ہے۔ مدعیہ نے دانیہ شاہ کے علاوہ ملزم یاسر شامی پر بھی وڈیو وائرل کرنے کا الزام لگایا تھا جس کو ڈسٹرکٹ سیشن جج شرقی کی عدالت بری کر چکے۔ ملزمہ دانیہ شاہ کے خلاف عامر لیاقت کی وڈیو وائرل کرنے کا کیس نہیں بنتا ایف آئی اے نے بغیر کسی انکوائری کے مقدمہ درج کیا ہے۔اس لیے ایف آئی اے بریت کی درخواست پر بحث کرنے سے بھاگ رہی ہے۔ دانیہ شاہ پر مقدمہ تین سال سے چل رہا ہے لیکن مدعیہ اور ایف آئی اے دانیہ شاہ کے خلاف الزام ثابت کرنے میں ناکام رہی ہیں۔ واضح رہے کہ ملزمہ دانیہ شاہ کے خلاف ایف آئی اے نے عامر لیاقت کی ویڈیو وائرل کرنے کا مقدمہ اس کی بیٹی دعا عامر کی مدعیت میں درج کیا ہوا ہے۔
