صحافی،انسانی حقوق کی تنظیموں اور سول سوسائٹی کے تحت یوم عالمی آزادی صحافت کے موقع پر اتوار کو کراچی پریس کلب میں سیمینار منعقد ہوا۔ سیمینار کا انعقاد کراچی یونین آف جرنلسٹس کے زیر اہتمام اور ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کے اشتراک سے کیا گیا۔ کراچی یونین آف جرنلسٹس نے کیا۔سیمینار کی صدارت کے یوجے کے صدر طاہر حسن خان نے کی۔سیمینار میں پیپلز پارٹی کی رہنماء شرمیلا فاروقی ۔سینئر صحافی مظہر عباس. پی ایف یوجے کے رہنماء لالہ اسد پٹھان۔کے یوجے کے جنرل سیکریٹری سردار لیاقت کشمیری ۔مزدوررہنمائوں ناصر منصور۔کامریڈ زہرا خان.امتیاز فاران خان سمیت دیگر شریک ہوئے۔یوم عالمی آزادی صحافت کے سیمینار میں پاکستان میں آزادی صحافت کی موجودہ صورتحال۔پیکا اور دیگر قوانین کے صحافت پر اثرات اور صحافیوں کے تحفظ کے لیے تجاویز پر تفصیلی روشنی ڈالی گئی ۔مقررین نے کہا کہ صحافت جمہوریت کی بنیاد اور آزادی اظہار معاشرے کی روح ہے۔صحافیوں کے خلاف بڑھتے حملے اور مقدمات آزادی صحافت کے لیے خطرہ ہیں۔ مقررین نے کہا کہ پاکستان میں گزشتہ ایک سال کے دوران صحافیوں کے خلاف حملوں، دھمکیوں، ہراسانی، گرفتاریوں اور مقدمات میں تشویشناک اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جو آزادیٔ اظہارِ رائے اور جمہوری روایات کیلئے سنگین خطرہ ہے۔انہوں نے کہا کہ مختلف قومی و بین الاقوامی رپورٹس کے مطابق صحافیوں کو پیشہ ورانہ ذمہ داریاں ادا کرنے کے دوران شدید دباؤ، عدم تحفظ اور قانونی پیچیدگیوں کا سامنا ہے، جبکہ عالمی پریس فریڈم انڈیکس میں پاکستان کی تنزلی بھی اس صورتحال کی عکاسی کرتی ہے۔پیکا اور دیگر قوانین کے تحت صحافیوں کے خلاف مقدمات کے اندراج نے میڈیا سے وابستہ افراد میں خوف و ہراس پیدا کیا ہے جبکہ سنسرشپ کے رجحانات میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ اہل اقتدار سے سوال کرنا ہی آزادی صحافت کی اصل روح ہے اور سچائی کو دبانے کی ہر کوشش جمہوری عمل کو کمزور کرنے کے مترادف ہے۔ صحافت کا بنیادی مقصد عوام تک درست، مستند اور غیر جانبدار معلومات پہنچانا ہے۔اس لیےصحافیوں کے آئینی، قانونی اور پیشہ ورانہ حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جانا چاہیے۔سیمینار کے شرکاء نے ہم پیکا قوانین مسترد کرتے ہیں۔ یہ ایک جابرانہ سیاہ قانون ہے۔ جسے خاص طور پر صحافیوں کو دبانے اور پاکستان کے میڈیا کے پورے منظرنامے کو خاموش کرنے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔ہم مطالبہ کرتا ہے کہ پاکستان الیکٹرانک کرائمز ایکٹ (پیکا) کو واپس لیا جائے اور اس کے بعد قومی اسمبلی، سینیٹ اور ان کی متعلقہ کمیٹیوں میں مکمل جانچ پڑتال کے ساتھ مطلوبہ ضوابط پر تفصیلی بحث کی جائے۔پیکا قانون کے تحت صحافیوں کے خلاف قائم تمام مقدمات فوری اور غیر مشروط طور پر واپس لیے جائیں۔حکومت اشتہارات کی پالیسی کو آزاد میڈیا کو سزا دینے کے آلے کے طور پر استعمال کرنے کے رجحان کو روکے۔میڈیا ورکرز کو ان مالی مشکلات سے تحفظ فراہم کیا جائے۔ شرکاء نے یہ عزم بھی کیا کہ وہ تمام جمہوری قوتوں کے ساتھ مل کر شہریوں کے آئینی اور سیاسی حقوق کے تحفظ کے لیے جدوجہد جاری رکھیں گے۔شرکاء نے صحافیوں کو رائے دی کہ دور جدید کے مطابق صحافتی خدمات کے لیے اپنی صلاحیتوں کو بڑھایا جائے۔
