عابد تہامی کیلئے زندگی کا بڑا ایوارڈ

تحریر: امجد عثمانی۔۔

لاہور پریس کلب کے نثار عثمانی آڈیٹوریم میں ایک باوقار صحافی کے اعزاز میں سجی یہ ایک پر وقار تقریب تھی۔۔۔۔تقریب کیا تھی جناب عابد تہامی کی 40 سالہ صحافت کاجشن تھا۔۔۔۔یوں لگا جناب عابد تہامی کو خراج تحسین پیش کرنے کے لیے لاہور کے تمام صحافی ہی امڈ آئے۔۔۔ہر کسی نے اپنے انداز میں فیچر رائٹر۔۔۔کالم نگار اور 14 کتابوں کے مصنف عابد تہامی کو خراج تحسین پیش کیا اور ان کے اعلی کردار کی گواہی دی۔۔۔۔۔میں نے اپنے 60 سیکنڈ کے خطاب میں کہا کہ جناب عابد تہامی تدریسی اور عملی صحافت کے قابل صد احترام استاد ہیں اور استاد کا صرف ایک ہی پروٹوکول ہے کہ اس کے ہاتھ چومیں جائیں ۔۔۔گھٹنے چھوئے جائیں اور اس کے قدموں میں بیٹھا جائے۔۔۔۔یہ اس تقریب کا مختصر ترین اظہار خیال تھا۔۔۔۔میں نے تقریب کے بعد عملی طور جناب عابد تہامی کے ہاتھوں کو بوسہ بھی دیا کہ عمل سے زندگی بنتی ہے ۔۔۔جناب عابد تہامی لاہور پریس کلب کے لائف ممبر بھی ہیں اور میں سمجھتا ہوں کہ یہ لاہور پریس کلب کی خوش بختی ہے کہ اس گئے گزرے دور میں بھی عابد تہامی ایسے با کردار صحافی بھی اس معتبر ادارے کے لائف ممبر ہیں۔۔۔۔

یادش بخیر ۔۔۔۔جناب عابد تہامی سے میرا  پہلا غائبانہ تعارف 1995کو شکرگڑھ کالج میں دو حوالوں سے ہوا۔۔۔ایک تو انگریزی کے استاد جناب پروفیسر عابد کھوکھر کی وجہ سے جو گورنمنٹ کالج لاہور سے فارغ التحصیل ہو کر نئے نئے لیکچرار بنے تھے۔۔۔وہ تہامی صاحب کے شاگرد تھے اور ہمارےاستاد ٹھہرے۔۔۔وہ بات بات پر تہامی صاحب کا حوالہ دیا کرتے تھے۔۔۔تعارف کا دوسرا حوالہ شکرگڑھ کالج میں ان کی کتابوں کے نتیجے ایک ایڈونچر تھا۔۔ایڈونچر یہ تھا کہ پروفیسر جعفر صاحب ہمارے فارسی کے مہربان استاد تھے لیکن صحافت کے جنون میں ہم شاہ جی سے بھی” ہاتھ”کر گئے کہ کالج میں ریگولر طالب کے طور پر باقاعدہ دو سال فارسی کی کلاس لی۔۔۔۔۔تھرڈ ائیر میں اچھے نمبر لیے۔۔۔۔۔۔فورتھ ائیر کے تمام ٹیسٹ کلئیر کیے لیکن جب بی اے امتحان کے لیے داخلے کا وقت آیا تو ہم کالج سے “غائب “ہو گئے۔۔۔۔۔پنجاب یونیورسٹی اولڈ کیمپس گئے۔۔۔۔۔۔لائن میں لگ کر جرنلزم سبجیکٹ کے ساتھ پرائیویٹ داخلہ بھجوادیا۔۔۔۔۔امر واقعہ یہ تھا ہم کالج میں فارسی مگر پس پردہ گھر میں صحافت کی تیاری فرما رہے تھے۔۔۔۔۔۔جناب عابد تہامی سے جناب عبدالسلام خورشید تک ،تمام بڑے اساتذہ کرام کی ساری کتابیں حفظ کر چکے تھے…..شکرگڑھ کالج میں صحافت کا مضمون نہیں تھا تو ہمارے پاس یہی آپشن تھا کہ” پرائیویٹ” ہو جائیں سو ہم ہوگئے۔۔۔۔جعفر شاہ صاحب ہماری اس “نا زیبا حرکت “پر ہم سے کئی سال کئی سال خفا رہے ۔۔۔۔۔آخر 2008میں ہماری دعوت پر ہمارے پاس روزنامہ آج کل تشریف لائے….میں نے انہیں جناب تنویر عباس نقوی سمیت اپنے کئی دوستوں سے ملوایا…..جاتے وقت مجھے گلے لگایا اور کہنے لگے آج مجھے خوشی ہوئی ہے۔۔۔۔آپ کا فیصلہ درست تھا۔۔۔میری خوش نصیبی کہ عملی صحافت میں آنے کے بعد تہامی صاحب جب بھی ملے مہربان استاد کے انداز میں ملے۔۔۔۔حسن اتفاق دیکھیے کہ آج کی تقریب میں جناب عابد تہامی کا ایک تعارف روزنامہ پنجاب پوسٹ کے ایڈیٹر انچیف کے طور پر ہوا تو مجھے جناب تنویر عباس نقوی یاد آگئے۔۔۔غالبا نائن الیون کے بعد یہ افغان جنگ کا زمانہ تھا۔۔۔ تب روزنامہ پنجاب پوسٹ شام کا اخبار تھا اور نقوی صاحب اس کے ایڈیٹر تھے۔۔۔سرخی جمانے کے ماہر ایڈیٹر نقوی صاحب نے ایک مذہبی جماعت کے سربراہ کے ایک بیان کو تیز سرخی کے ساتھ  لیڈ سٹوری کے طور شائع کر دیا۔۔۔اخبار چھپتے ہی حکومت ایکشن میں آگئی اور حریت پسند تنویر عباس نقوی کو گرفتار کرکے جیل بھجوادیا۔ ۔۔ نقوی صاحب تو ہنسی خوشی جیل کاٹ کر کچھ دنوں بعد رہا ہو گئے لیکن پنجاب پوسٹ کو آزادی نہ ملی۔۔۔۔اللہ کرے جناب عابد تہامی کی زیر ادارت روزنامہ پنجاب پوسٹ نئے عزم کے ساتھ خوب اڑان بھرے اور مطلع صحافت پر چھا جائے۔۔بہر حال جناب عابد تہامی کے اعزاز میں سجی یہ تقریب لاہور پریس کی تاریخ کی بڑی تقریب تھی اور تقریب کا متفقہ اعلامیہ یہ تھا کہ تہامی صاحب ایک نیک نام صحافی ہیں جن کے دامن پر کوئی داغ نہیں۔۔۔۔ کسی صحافی کے لیے اس سے بڑا اعزاز کوئی نہیں ہو سکتا کہ ہم عصر اس کی دیانت کی قسمیں اٹھائیں۔۔۔تہامی صاحب خوش بخت ہیں کہ انہیں زندگی کا بڑا “ایوارڈ” مل گیا۔۔۔(امجد عثمانی)۔۔!!!!

Facebook Comments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں