کیا پیکا ایکٹ پھیکا پڑنے والا ہے؟

صوبے پیکا ایکٹ کے تحت مقدمہ درج نہیں کرسکتے،قائمہ کمیٹی۔۔

سینیٹر علی ظفر کی زیر صدارت قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،  سینیٹر افنان اللہ کی جانب سے پیش کردہ موشن پکچرز ترمیمی بل 2025 اگلے اجلاس تک مؤخرکر دیا گیا۔اجلاس میں  صحافی طارق علی ورک کو زدو کوب کرنے کا معاملہ بھی زیر غورآیا، جس پر وفاقی وزیر اطلاعات عطاء تارڑ  نے کمیٹی کا بتایا کہ  صحافی کو زدو کوب کرنے میں ملوث افسر معطل کر دیا گیا ہے۔ آر پی او راولپنڈی نے گزشتہ روز پریس کلب میں صحافیوں سے ملاقات کی، معاملہ خوش اسلوبی سے حل کر لیا گیا ہے۔دوران اجلاس سینیٹر پرویز رشید نے صحافی طیب بلوچ پر بھی  سیاسی جماعت کے کارکنان کی جانب سے تشدد کا معاملہ اٹھا دیا، انہوں نے کہا کہ دونوں واقعات میں تشدد صحافی پر کیا گیا ہے، سوال پوچھنے کی پاداش میں سیاسی جماعتوں کے کارکنوں نے صحافی کو زدو کوب کیا۔ دلیل کی جگہ طاقت کے استعمال کی روش کو ختم ہونا چاہیے۔ جس پر چیئرمین کمیٹی سینیٹر علی ظفر نے کہا  ہم سب کا مقصد جمہوریت کو آگے بڑھانا ہے۔ ہم سے بعض اوقات پلانٹڈ سوالات بھی پوچھے جاتے ہیں۔ صحافی کو بھی دائرہ اخلاق میں رہتے ہوئے سوال پوچھنا چاہئے۔ اس واقعے کی ایف آئی آر درج ہو چکی  ہے۔قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں  شہریوں کے خلاف صوبوں میں پیکا ایکٹ کے تحت 372 غیر قانونی مقدمات درج ہونے کا انکشاف بھی ہوا، جس پر کمیٹی اراکین نے کہا کہ  پیکا ایکٹ میں تازہ ترین ترمیم کے بعد صوبے پیکا ایکٹ کے تحت مقدمہ درج نہیں کر سکتے۔   حکام این سی سی آئی اے نے بتایا کہ پیکا ایکٹ 2025 کے بعد صوبوں میں درج ہونے والے مقدمات این سی سی آئی کو بھیجے جائینگے ۔قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات نے اراکین کی رائے پر صوبوں میں غیر قانونی مقدمات کے اندراج پر ذیلی کمیٹی تشکیل دے دی۔

Facebook Comments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں