پولیس نے دو نامعلوم افراد کی جانب سے دی نیوز کے سینئر رپورٹر فراز خان، سینئر صحافی منصور خان اور سینئر ایکزیکٹو پروڈیوسر مسرور خان کے گھر کے باہر مشکوک سرگرمیوں اور دھمکیاں دینے کے واقعے کا مقدمہ درج کرلیا ہے۔ دریں اثنا، کراچی یونین آف جرنلسٹس نے سینئر صحافیوں اور ان کے اہلخانہ کو ہراساں کرنے کی سخت مذمت کی ہے۔
پولیس کے مطابق ایف آئی آر نمبر 309/25 دفعہ 506-B/34 کے تحت تھانہ فیڈرل بی انڈسٹریل ایریا میں دی نیوز کے سینئر رپورٹر فراز خان کی مدعیت میں نامعلوم ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا۔اپنے بیان میں مدعی نے بتایا کہ 21 نومبر کی رات تقریباً 9:20 بجے دو مشکوک افراد—جن میں سے ایک شلوار قمیض میں اور دوسرا پینٹ شرٹ میں ملبوس تھا—ان کے گھر آئے اور ڈور بیل بجائی۔ جب ان کی والدہ نے دروازہ کھولا تو دونوں افراد باہر کھڑے تھے اور ان میں سے ایک موبائل فون سے گھر اور اطراف کی ویڈیو بنا رہا تھا۔والدہ کو دیکھ کر ملزمان نے پہلے مدعی کے بارے میں پوچھا اور پھر اس کے بھائیوں کے بارے میں مشکوک سوالات کیے۔ جب والدہ نے ان سے پوچھا کہ وہ کون ہیں اور اس قدر ذاتی معلومات کیوں معلوم کر رہے ہیں تو ملزمان نے اپنا تعارف کرانے کے بجائے کہا: “فراز کو باہر بلاؤ۔والدہ نے انہیں آواز دی۔ مدعی جب اوپر سے نیچے آیا تو دونوں نامعلوم افراد نے اسے دیکھتے ہی پستول نکال کر سنگین دھمکیاں دیں کہ وہ اسے اور اس کے بھائیوں کو قتل کر دیں گے۔ ملزمان موٹرسائیکل پر فرار ہوتے وقت موبائل فون سے ویڈیو بھی بناتے رہے۔ مدعی کے مطابق اس واقعے کے بعد اس کی اور اس کے اہلخانہ کی جان کو شدید خطرہ لاحق ہوگیا ہے۔
