صحافیوں سے تعاون پر ایف آئی اے افسر معطل۔۔

معروف یوٹیوبر ڈکی بھائی کے خلاف کارروائی کرنے والےایف آئی اے افسر سرفراز چوہدری کو معطل کردیاگیا، ایڈیشنل ڈائریکٹر این سی سی آئی اے سرفراز چودھری جوئے کی تشہیر کے کیس میں متحرک تھے، اب جنت مرزا اور متھیرا کو بھی نوٹس جانیوالے تھے جبکہ ایک اطلاع یہ بھی ہے کہ لاہور پولیس کے افسرا ن کیخلاف صحافیوں کی درخواست قبول کرنے پر بھی ان سے بازپرس ہوئی تھی لیکن معطلی کے بعد سرفراز چوہدری نے لاہور میں اپنے دفتر کا چارج چھوڑ دیا، یہ بات صحافی و ولاگر منصور علی خان نے بتائی۔اپنے ولاگ میں منصور علی خان نے بتایاکہ ڈکی بھائی جوئے کی تشہیر کے کیس میں گرفتار ہیں، دیگر لوگوں کو بھی نوٹس دیے گئے ، جوئے کی تشہیر کرنیوالے ٹک ٹاکرزاور یوٹیوبرز کیخلاف کام انہوں نے بڑی سختی سے کیا  اور ڈکی بھائی کے بھی کروڑوں روپے کا پتہ لگا یالیکن ضروری نہیں کہ دو نمبر کمائی ہو، اس سے جڑے کیسز کی چھان بین کررہے تھے اور ذرائع بتاتے ہیں کہ اگلے مرحلے میں جنت مرزا اور متھیرا کونوٹس جانے والے تھے کہ سرفرازچوہدری کو معطل کردیاگیا، ندیم نانی والا ،رجب بٹ اور اقرارکنول کو نوٹس جاچکے ہیں، اس سب تفتیش کا فیس وہی تھے ، ویسے کام تو باقی لوگ بھی ساتھ کررہے تھے۔ان کا مزید بتانا تھاکہ ایک تھیوری چل رہی ہے کہ شاید ٹک ٹاکرز کے کیس کا پریشر ہو، ایک اور تھیوری بھی چل رہی  ہے جس کاشایدآپ کو پتہ نہ ہو، چند ہفتوں سے لاہور کے صحافیوں اور پنجاب پولیس کا آکڑا چل رہاہے،کچھ صحافیوں نے پولیس کے افسران کیخلاف پریس کانفرنس بھی کی ، بنیادی طورپر ان صحافیوں کی طرف سےاین سی سی آئی اے سے رابطہ کیاگیا اور شکایت کی گئی جو منظور کرلی گئی، اس کا مدعا بھی سرفراز چوہدری پر ڈالا گیاکہ شکایت قبول کیوں کی گئی؟ سرفراز چوہدری نے موقف یہ دیا کہ اگر سائل آئے تو شکایت تو سننی ہے، واپس تو نہیں بھیج سکتے، بہت بڑے لوگ بھی اس جھگڑے میں شامل ہوسکتے ہیں۔انہوں نے مزید بتایاکہ سرفراز چوہدری نے لاہور میں اپنے دفتر کاچارج چھوڑ دیا ہے اور انہیں اسلام آباد میں رپورٹ کرنے کی ہدایت کی گئی، جوئے کی تشہیر کے کیس پر بھی شبہ ظاہر کیاجارہاہے کہ کہیں اسے بھی بریک نہ لگ جائے کیونکہ اس کیس میں ملوث مزید افراد کے بارے میں بھی ماضی میں اشتہار جاری ہیں، شواہد موجود ہیں کہ ان لوگوں نے بھی کام کیا ہوا ہے۔

Facebook Comments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں