تحریر: ظفر نقوی۔۔
نوٹ: اسلام آباد کے باخبر صحافی ظفر نقوی نے یہ تحریر اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ ایکس پر ڈالی ہے جو ہم یہاں شیئر کررہے ہیں۔۔
آج یعنی 10 اور 11 دسمبر کی درمیانی رات میرا کزن(ماموں کا بیٹا) عمرہ کی سعادت حاصل کرنے کے بعد واپس آیا، وہ ایک کالج میں لیکچرر ہیں، انہوں نے اسلام آباد ایئرپورٹ پر رات تقریبا ساڑھے بارہ بجے لینڈ کرنا تھا، ہمارے گاؤں سے کچھ رشتہ دار بھی آئے ان کے استقبال کیلئے، وہ ایئر پورٹ پہنچنے سے پہلے ہمارے پاس آئے، چائے وغیرہ پی اور فلائیٹ کے وقت کا انتظار کیا، ہمارے گھر سے تقریبا وہ 12 بجے رات ایئرپورٹ کیلئے روانہ ہوئے، میرا بیٹا بھی ان کیساتھ ایئرپورٹ چلا گیا، زائرین کو ایئرپورٹ سے ریسیو کیا اور اسلام آباد کی جانب چل پڑے کیونکہ انہوں نے واپسی میرے بیٹے کو گھر چھوڑنا تھا، مجھے تقریبا پونے چار بجے بیٹے کے نمبر سے کال آئی، ابھی تک میں سو رہا تھا، میں نے انہیں واپسی کال کی تو بیٹے نے بتایا کہ ابو 26 نمبر چونگی کے قریب پولیس ناکے پر ہمیں پولیس والوں نے روکا ہے، کہتے ہیں تمہاری گاڑی سے چرس کا پیکٹ نکلا ہے اور میں نے جب سرچ کے دوران ویڈیو بنانے کی کوشش کی تو مجھ سے موبائل چھین لیا اور ویڈیو ڈیلیٹ کر کے اب مجھے واپس کیا، پولیس والے پیسے مانگ رہے ہیں، گاؤں سے آئے مہمان بیچارے بہت پریشان ہو گئے، جب تھوڑی دیر کے بعد بیٹے کو چھوڑنے وہ گھر آئے، میں نے بیٹے سے پوچھا تو اس نے مجھے بتایا کہ ابو پولیس والوں نے چاچو لوگوں سے پیسے لئے ہیں۔۔
اب دو، تین باتیں ہیں، میرا اور میرے بیٹے ڈوپ ٹیسٹ کروا لیں میں، میرے باپ، میرے دادے تک نے کبھی سگریٹ کو ہاتھ بھی نہیں لگایا، دوسرا اگر چرس گاڑی سے نکلی تو پرچہ کیوں نہیں دیا جو کہ میرا بیٹا بار بار چیختا رہا کہ آپ پرچہ دیں، تیسرا یہ بیغیرتی کیوں کی پیسے لینے والی، مہمانوں اور اللہ کے گھر کے زائرین کی بے عزتی کیوں کی؟ ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی حالیہ رپورٹ کے مطابق اسلام آباد پولیس پنجاب پولیس کے بعد کرپشن میں ٹاپ پر ہے، مجھے اس بیغیرتی کا جواب چاہیے، پہلے ہم سنتے تھے اور یہ واقعہ ہمارے اپنے ساتھ پیش آیا، دارالحکومت میں یہ کیسی بیغیرتی شروع ہے کہ شریف النفس، عزت دار شہریوں کو قانون کے رکھوالے بلیک میل کر رہے ہیں، میرا مطالبہ ہے کہ اس واقعے کی پوری انکوائری کرائی جائے اور جو دو تین لوگ اسلام آباد پولیس کے ملوث ہیں انہیں قرار واقعی سزا دی جائے, وزیر داخلہ اور آئی جی پولیس اس کی انکوائری کروائیں۔(ظفر نقوی، سینئر صحافی)۔۔
