صحافی کی گرفتاری، صحافی کی زبانی۔۔

تحریر: فہد کیہر

آپ کو لگتا ہے کہ آپ ایک شریف شہری ہیں، قانون کا احترام کرتے ہیں، تو آپ محفوظ ہیں؟بالکل نہیں۔۔کیونکہ کراچی میں پولیس کے لیے سب سے بڑا مجرم ہی “شریف شہری” ہے۔

پرسوں رات ساڑھے 9 بجے کا وقت تھا۔ اچانک گھر کا دروازہ بجایا گیا۔ باہر دیکھا تو ایک لیڈی پولیس اہلکار سمیت 12 سے 13 پولیس مین باہر کھڑے تھے، جن میں سے آدھے سویلین کپڑوں میں تھے۔ اُن کا انداز، تیور اور باڈی لینگویج ایسی تھی جیسے اندر کوئی مطلوب دہشت گرد چھپا بیٹھا ہو جسے پکڑنے کے لیے یہ پورا لاؤ لشکر آیا ہے۔

مجھ سے پوچھا گیا کہ مالک مکان ہو؟ میں نے کہا نہیں، میں تو کرائے دار ہوں۔

کرایہ نامہ مانگا، میں نے اپنا ایگریمنٹ لا کر دکھا دیا۔

فوراً کہا کہ یہ پولیس ویریفائیڈ نہیں ہے، اگر نہیں ہے تو ہمارے ساتھ تھانے چلیں، ہم ابھی آپ کو بنا کر دے دیں گے۔

مجھے لگا شاید واقعی قانونی کارروائی مکمل کروانی ہے، اس لیے میں اور بلڈنگ کے دیگر کرائے دار اُن کے ساتھ موبائل میں بیٹھ گئے۔ اور تھانے پہنچتے ہی پولیس کا رویہ مکمل طور پر بدل گیا۔ ایک کرائے دار کی فوراً جامہ تلاشی لے کر اسے تو لاک اپ کر دیا گیا جبکہ ہم دو کو بٹھا دیا گیا۔

شاید کسی “کھانچے”  کے انتظار میں۔ جب کافی دیر بٹھانے کے بعد انھیں اندازہ ہو گیا کہ میں تو انھیں ایک روپیہ رشوت نہیں دوں گا ، تو مجھے بھی لاک اپ میں پھینک دیا گیا۔ موبائل، بٹوہ، سب کچھ لے لیا گیا۔

کچھ دیر میں اہلِ محلہ پہنچے تو انھیں کہا گیا کہ اب کچھ نہیں ہوسکتا، ایف آئی آر کٹ چکی ہے۔

جی ہاں یہ وہی پولیس ہے جسے عام شہری کے لیے ایف آئی آر کاٹتے ہوئے موت پڑتی ہے۔ جب ہمارا موبائل چھنتا ہے، گھر میں چوری ہوتی ہے تو یہی پولیس فلسفہ جھاڑتی ہے کہ چھوڑیں صاحب! پرچہ کٹوائیں گے تو خوار ہوں گے، اللہ کی رضا سمجھ کر نیا لے لیں۔ لیکن ایک شریف کرائے دار پر پرچہ کاٹنے میں انھیں ایک منٹ نہیں لگا۔

تو۔۔۔ اب ہم تھے اور شاید دنیا کے غلیظ ترین لاک اپ میں اِس سال کی اب تک کی سب سے ٹھنڈی رات۔ یہ ایک چھوٹی سی جگہ تھی، جس کے اندر ہی چوتھائی حصے پر ایک اوپن واش روم تھا، اتنی بدبو اور گندگی کہ میں بیان نہیں کر سکتا۔

اگلی صبح فجر کے بعد اپنی کارروائی کو قانونی رنگ دینے کے لیے ایک جعلی ڈراما کیا۔ ایک کانسٹیبل آیا اور ہم سے 26 نومبر کی پرانی تاریخ کے ایک نوٹس پر دستخط کروائے۔ مقصد یہ ثابت کرنا تھا کہ پولیس ہمیں پہلے نوٹس دے چکی تھی اور ہم نے غفلت برتی، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ ہمیں کبھی کوئی نوٹس ملا ہی نہیں تھا۔ تو انھوں نے اپنی “غفلت” چھپانے کے لیے ہم سے جھوٹے کاغذات پر سائن لیے تاکہ عدالت میں ہمارا “جرم” ثابت کر سکیں۔

دوپہر ایک بجے تک ہمیں باقاعدہ مجرم بنا دیا گیا۔ ہر اینگل سے ہماری تصاویر لی گئیں، دونوں ہاتھوں کی انگلیوں کے نشانات لیے گئے اور سندھ پولیس کے کرمنل ریکارڈ کا حصہ بنا دیا گیا۔

اب عدالت جانا تھا اور پولیس نے ہاتھ کھڑے کر لیے کہ ہمارے پاس موبائل کے لیے فیول نہیں ہے۔ فیول دیں، پھر چلتے ہیں۔ ہمارے ایک دوست کے پاس گاڑی تھی، اسی میں پولیس کو بھی بٹھایا، خود بھی بیٹھے اور پھر عدالت گئے، جہاں ضمانت ہو گئی!

میں ایک قانون پسند شہری ہوں۔ میں کبھی رانگ سائیڈ سے نہیں جاتا، نہ کسی کو جانے دیتا ہوں، کبھی سگنل نہیں توڑا، میرے نام پر آج تک ایک ٹریفک چالان بھی نہیں کٹا۔ میرے ساتھ ایسا سلوک کیا گیا جیسے میں ہیروئن بیچتے ہوئے پکڑا گیا ہوں۔ شاید بیچتے ہوئے پکڑا جاتا تو یہ سلوک نہ ہوتا۔

اس واقعے پر ایک دوست نے کہا: بھائی! ریاست کہاں ہے؟

میں نے کہا: یہی ریاست ہے بھائی! ہمت ہے تو پاس کر، ورنہ “برداش” کر۔۔( فہد کیہر)۔۔۔

Facebook Comments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں