صوبائی دارلحکومت لاہور میں قائم صحافی کالونی کی کمرشل پراپرٹی پر قبضہ ۔بدھ کی صبح سے قبضہ گروپ نے وہاں تعمیرات شروع کر دیں۔پروگریسیوگروپ کے سربراہ معین اظہر کا کہنا ہے کہ لاہور پریس کلب کے صدر ارشد انصاری۔ سیکرٹری زاہد عابد اور تمام عہدے دار کی پر اسرار خاموشی۔ سپریم کورٹ کے اسٹے آڈر کے باوجود قبضہ گروپ کو وہاں تعمیرات کرنے کی اجازت جبکہ صحافی نے گھر بنانا ہو تو اس کو اجازت نہیں دی جاتی ہے۔محکمہ اطلاعات کے زیر اہتمام جرنلسٹ ہاؤسنگ فاؤنڈیشن کا عملہ غائب اور وزیر اطلاعات بھی خاموش ہیں۔ پروگیسیو گروپ صحافیوں کو زمین دینے کی بجائے قبضہ گروپوں کی طرف سے صحافی کالونی پر کڑروں روپے کی اراضی پر قبضہ کی شدید مذمت کرتا ہے۔ اور وزیر اعلی پنجاب سے مطالبہ کرتا ہے کہ کالونی میں قبضہ فوری طور پر روکا جائے۔ اس کی تحقیقات کےلئے ایماندار افسران پر مشتمل کمیٹی بنائی جائے اور قبضہ گروپ اور اہم شخصیات کو بے نقاب کیا جائے۔پروگیسو گروپ مطالبہ کرتا ہے کہ پہلے بھی اس جگہ پر قبضے کی تین بار کوشیش ناکام کی گئی ہے۔اگر قبضہ کو نہ روکا گیا تو صحافی محکمہ اطلاعات کے سامنے بھرپور احتجاج کریں گے۔معین اظہرچیرمین پروگیسو گروپ کا کہنا ہے کہ۔۔لاہور پریس کلب کی مجرمانہ خاموشی کئی صحافی پلاٹوں کے قبضہ کی وجہ سے اپنی قبروں میں چلے گئے۔ کئی قبضہ گروپوں کے ہاتھوں پریشان ہیں۔ان کے مسائل حل کرنے کی بجائے اسسٹنٹ کمشنر کے دفتر میں اس زمین کی بندر بانٹ کی جارہی ہے۔پروگیسو گروپ نے ہمیشہ صحافیوں کے حقوق کے تحفظ کے لئے آواز بلند کی ہے۔ایک مرتبہ پھر مطالبہ کر رہا ہے کہ انتظامیہ قبضہ گروپ کی تعمیرات فوری بند کروائے۔دوسرا وزیر اعلی پنجاب اعلی اختیاراتی کمیٹی تشکیل دیں اور قبضہ گروپ اوران کی حکومت میں قبضہ گروپوں کی سپورٹ کرنے والے عناصر کو فوری برطرف کیا جائے۔کمیٹی صحافیوں کے اندر سے ملے ہوئی کالی بھیڑوں کو بھی بے نقاب کریں۔انہوں نے ارشد انصاری صاحب۔ زاہد عابد صاحب۔ افضال طالب صاحب۔۔ سالک نواز صاحب کو مخاطب کرکے کہا کہ ۔۔مجھے بہت یقین تھا کہ آپ لوگ صحافیوں کے حقوقِ کے لئے سمجھوتا نہیں کریں گے۔ لیکن آج میرے لئے انتہائی افسوسناک لمحات ہیں جب آپ ایک قبضہ گروپ کو سپورٹ کر رہے ہیں۔ آپ نے شاید چھوٹے مفادات کے حصول کے لئے صحافیوں کے مفادات کا سودا کر رہے ہیں۔ میری طرف سے پوائنٹ آؤٹ کئے گئے ایشو پر جھوٹی پریس ریلیز جاری کر دی۔ میں نے تو آج صبح ایک مسلئے کی نشان دہی کی تھی بطور سابق صدر میرا یہ فرض بنتا ہے کہ میں صحافیوں کے حقوق کے تحفظ کے لئے آواز اٹھاوں۔ میں تو صبح سے وزیر اعلی پنجاب سے مطالبہ کرتا رہا ہوں کہ محکمہ اطلاعات اور صحافی کمیونٹی کی کالی بھیڑوں کو بے نقاب کرنے کے لئے اعلی سطحی کمیٹی بنائیں۔ آپ کو مجھے سپورٹ کرنا چاہیے تھا الٹا جھوٹ بولنا شروع کر دیا ہے۔ میں کالونی انتقال نمبر شئیر کر رہا ہوں جس میں جس خسرہ اور جگہ کی نشاندہی میں کر رہا ہوں وہ کالونی کا حصہ ہے۔ یہ میرے کاغذ نہیں محکمہ اطلاعات کی فائلوں میں لگے کاغذ ہیں۔ اور دوسری بات جو شخص قبضہ کر رہا ہے اس نے جو ملکیت کے کاغذ آپ کو دئیے ہیں وہ بھی کمیونٹی کے ساتھ شئیر کر دیں۔
