saat samandar paar dosto ke naam

صحافی کالونی لاہور کا فیز ٹو۔۔۔۔کچھ سنجیدہ سوالات۔۔

تحریر: امجد عثمانی۔۔

الحمد للہ۔۔۔لاہور پریس کلب ہائوسنگ سکیم فیز ٹو اگلے مرحلے میں داخل ہو گیا۔۔۔صدر لاہور پریس کلب جناب ارشد انصاری کی قیادت میں یہ اہم پیشرفت ہے کہ پنجاب جرنلسٹس ہاؤسنگ فائونڈیشن کو پے آرڈر کی صورت ڈائون پے منٹ ہی پلاٹ کے لیے پہلی سند ہے۔۔۔۔خاکسار نے ایک سال پہلے بھی بطور نائب صدر لاہور پریس کلب کے معزز ممبران کو مشورہ دیا تھا کہ اپنے خواب کی تعبیر پر سمجھوتہ مت کیجیے۔۔۔مکرر عرض ہے کہ اب جب کہ گھر کی تعبیر اور واضح ہو گئی ہے تو کسی بہکاوے میں مت آئیے  اور جیسے تیسے ڈائون پےمنٹ ارینج کرلیجیے۔۔۔یہ “کڑوا گھونٹ” آپ کے بچوں کی زندگی “مٹھاس”سے بھر دے گا۔۔۔۔۔

“یار لوگوں”کے پھیلائے ابہام کے ہنگام،میں کچھ سنجیدہ سوالات بھی اٹھا رہا ہوں۔۔۔خوب سوچیے اور پھر اپنے دل سے پوچھ لیجیے۔۔۔ان شا اللہ مطلع صاف دکھائی دے گا۔۔۔۔۔

سوال یہ ہے کہ کیا صحافی کالونی فیز ٹو کا منصوبہ پنجاب جرنلسٹس ہاؤسنگ فائونڈیشن کے زیر انتظام نہیں اور کیا پی جے ایچ ایف ہی پنجاب میں صحافیوں کی ہاؤسنگ سکیموں کے انتظام و انصرام کی مجاز نہیں؟اگر جواب ہاں میں ہے تو ابہام کیسا؟؟؟؟

سوال ہے کہ کیا لاہور میں صحافی کالونی کا فیز ون اور ایف بلاک اسی معتبر ادارے یعنی پی جے ایچ ایف کے زیر انتظام قیام میں نہیں آیا تھا۔۔۔؟؟اگر جواب ہاں ہے تو پھر ابہام کیسا؟؟؟؟

سوال یہ بھی ہے کہ کیا ایک سال پہلے حکومت پنجاب نے صحافی کالونی فیز ٹو کے لیے اخبارات میں باقاعدہ اشتہارات نہیں دیے۔۔۔۔کیا حکومت نے جعلی اشتہارات دیے اور اخبارات نے جعلی اشتہارات چھاپے۔۔۔؟؟؟اگر یہ اشتہارات جعلی تھے تو پھر تو یہ حکومت اور اخبارات کیخلاف بہت بڑا سکینڈل ٹھہرا۔۔۔۔اگر ایسا ممکن نہیں اور یقینا نہیں تو پھر ابہام کیسا؟؟؟

سوال ہے کہ کیا ایک سال پہلے پی جے ایچ ایف نے فیز ٹو کے لئے جو اپنے مخصوص فیچرز والے فارم دیے وہ من و عن وہی فارم نہیں تھے جو 2005میں فیز ون اور 2007میں ایف بلاک کے صحافیوں کو دیے گئے۔۔۔۔ کیا پنجاب حکومت کا کوئی ادارہ جعلی فارم تقسیم کر سکتا ہے۔۔۔؟؟؟اور سوال یہ بھی کہ اگر 2005اور2007 میں پی جے ایچ ایف کے فارم اصلی تھے تو اب جعلی کیسے ؟اگر آپ اس بات سے اتفاق کرتے ہیں تو ابہام کیسا؟؟؟

سوال ہے کہ کیا اس سال پنجاب حکومت نے صحافی کالونی فیز ٹو کے لیے بجٹ میں 40کروڑ کی خطیر رقم مختص نہیں کی۔۔۔۔اگر جواب ہاں ہے تو ابہام کیسا؟؟؟

سوال ہے کہ راوی اربن ڈویلپمنٹ اتھارٹی اور پنجاب جرنلسٹس ہاؤسنگ فائونڈیشن کے درمیان صحافی کالونی فیز ٹو کی 200ایکڑ اراضی کی خریداری کا معاہدہ نہیں ہوا اور پنجاب حکومت کے محکمہ تعلقات عامہ نے اس کی باقاعدہ پریس ریلیز جاری نہیں کی؟؟کیا حکومت کے دو اہم اداروں کے درمیان کوئی جعلی معاہدہ ممکن ہے؟اور کیا خریداری معاہدہ بغیر ادائیگی کے ممکن ہے ؟اگر جواب نہیں میں ہے تو ابہام کیسا۔۔۔۔؟؟؟

سوال ہے کہ پی جے ایچ ایف نے 2005 اور 2007 کی طرح 2025میں بھی پرانی طرز کا چالان فارم اور حلف نامہ جاری نہیں کیا؟اگر تب یہ چالان فارم اور حلف نامہ اصل تھا تو اب جعلی کیسے ٹھہرا۔۔۔۔۔؟اگر آپ اس نکتے سے متفق ہیں تو پھر ابہام کیسا۔۔۔۔؟؟؟

اور سوال یہ بھی کہ کیا 62500کا ہے آرڈر اسی طرح پی جے ایچ ایف کے نام نہیں جس طرح 2005اور 2007میں پی جے ایچ ایف کے نام تھا۔۔۔کیا یہ ممکن ہے پی جے ایچ ایف کے نام ایک دو نہیں 2000جعلی ہے آرڈرز بن جائیں اور پنجاب بینک دھڑا دھڑ جعلی ہے آرڈرز وصول کرلے۔۔۔۔اگر جواب نہیں تو پھر ابہام کیسا۔۔۔۔؟؟؟

لاہور پریس کلب ہاؤسنگ سکیم ٹو کے دوستوں کی خدمت میں عرض ہے کہ جب کوئی ابہام ہے نہیں تو وہ بھی ایک قدم آگے بڑھیں۔۔۔کسی ابہام میں الجھے بغیر ڈائون ہے منٹ جمع کرائیں اور اپنے بچوں کا مستقبل محفوظ بنائیں۔۔۔(امجد عثمانی)۔۔

Facebook Comments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں