صحافی پر تشددیا دھمکی دینا ناقابل ضمانت جرم قرار۔۔

صحافی کو دھمکی دینا یا تشدد کرنا اب ناقابلِ ضمانت جرم قرار، جرنلسٹ پروٹیکشن بل منظورکرلیا گیا۔۔پارلیمنٹ نے صحافیوں کے تحفظ کے لیے ایک اہم قانون، “جرنلسٹ پروٹیکشن بل” منظور کر لیا ہے، جس کے تحت صحافیوں کو ان کے پیشہ وارانہ فرائض کی انجام دہی میں رکاوٹ ڈالنے، زبانی یا جسمانی دھمکیاں دینے، یا ان پر تشدد کرنے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔نئے بل کے مطابق  کسی بھی  صحافی کو زبان درازی، گالم گلوچ یا تشدد کا نشانہ بنانے پر ناقابلِ ضمانت مقدمہ درج کیا جائے گا۔ذرائع ( سورس) کے بارے میں  معلومات لینے کے لیے دباؤ ڈالنے کو بھی جرم تصور کیا جائے گا۔صحافی کو پیشہ وارانہ کام سے روکنے یا ڈرانے دھمکانے پر ملوث شخص یا ادارے کے خلاف قانونی کارروائی ہوگی۔قانونی ماہرین اور صحافتی تنظیموں نے اس اقدام کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ بل صحافیوں کو مزید بااختیار اور محفوظ بنائے گا، اور آزاد صحافت کے فروغ میں مددگار ثابت ہوگا۔ “جرنلسٹ پروٹیکشن بل” جو صحافیوں کے جان و مال، عزت اور پیشہ ورانہ آزادی کو قانونی تحفظ فراہم کرتا ہے۔ اب اگر کوئی صحافی کو زبانی یا تحریری طور پر دھمکی دیتا ہے، اس پر تشدد کرتا ہے، خبر کے ذرائع بتانے پر زور دیتا ہے یا پیشہ ورانہ امور میں رکاوٹ بنتا ہے تو اس کے خلاف ناقابلِ ضمانت مقدمہ درج ہوگا اور سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔1. زبانی دھمکی بھی سنگین جرم: کسی صحافی کو محض ڈرانا یا زبان سے دھمکی دینا اب ناقابلِ برداشت تصور ہوگا۔ قانون ایسے افراد کے خلاف فوری ایکشن کی اجازت دیتا ہے۔2. تشدد یا معلومات لینے کی کوشش ناقابلِ ضمانت جرم: اگر کوئی طاقتور شخص یا ادارہ صحافی سے خبر کا ماخذ یا ذریعہ پوچھے، یا اس پر جسمانی یا ذہنی دباؤ ڈالے، تو اب یہ عمل بھی قابلِ گرفت ہوگا۔3. صحافیوں کی خودمختاری محفوظ: صحافی اپنے ذرائع، مواد اور تحقیقاتی رپورٹنگ کے مکمل آزاد ہیں۔ کوئی ادارہ یا شخص انہیں مجبور نہیں کر سکتا کہ وہ اپنی معلومات ظاہر کرے۔ڈسٹرکٹ انجمن صحافیاں کے ضلعی صدر اور معروف کالم نگار محمد زاہد مجید انور نے اس بل کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ “یہ بل صحافیوں کو طاقتور طبقات اور عناصر کے دباؤ سے نکالنے میں مدد دے گا۔ اب صحافی خوف و خطر کے بغیر تحقیقاتی صحافت کر سکیں گے، جو کسی بھی جمہوری معاشرے کی بنیاد ہے۔”انہوں نے مزید کہا کہ یہ قانون صرف صحافیوں کا تحفظ ہی نہیں بلکہ عوام کے حقِ معلومات کو محفوظ بنانے کا ذریعہ بھی ہے۔ صحافی، جو عوام کی آنکھ اور آواز ہوتے ہیں، ان کا آزاد اور محفوظ ہونا معاشرتی ترقی کے لیے ناگزیر ہے۔ملک بھر کی صحافتی تنظیموں، بالخصوص پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس(پی ایف یوجے) نے  اس بل کو ایک “انقلابی قدم” قرار دیا ہے اور حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ اس پر فوری اور موثر عملدرآمد یقینی بنایا جائے تاکہ زمینی سطح پر بھی اس کے ثمرات دکھائی دیں۔اگرچہ اس بل کی منظوری صحافیوں کی جدوجہد کی بڑی کامیابی ہے، مگر اس پر عملدرآمد اصل امتحان ہوگا۔ ماضی میں بھی کئی قوانین صرف کاغذوں کی زینت بن کر رہ گئے۔ اس لیے ضرورت اس امر کی ہے کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے، ضلعی انتظامیہ، اور عدلیہ اس قانون کو سنجیدگی سے نافذ کریں۔ “جرنلسٹ پروٹیکشن بل” ایک نئی صبح کی نوید ہے، جو نہ صرف صحافیوں بلکہ پوری قوم کے لیے امید کی کرن ہے۔ اب صحافی خوف کے سائے سے نکل کر حق و سچ کی شمع کو جلا سکیں گے، اور طاقت کے ایوانوں میں چھپی کہانیوں کو عوام تک پہنچا سکیں گے۔دریں اثنا الیکٹرانک میڈیا رپورٹرز ایسوسی ایشن (ایمرا) کے مرکزی صدر محمد آصف بٹ اور سیکرٹری جنرل سلیم احمد شیخ نے حکومت پاکستان کی جانب سے “جرنلسٹ پروٹیکشن بل” کی پارلیمنٹ سے منظوری کو صحافتی تاریخ کا سنگ میل قرار دیتے ہوئے وزیر اعظم پاکستان میاں محمد شہباز شریف، وزیر اعلیٰ پنجاب محترمہ مریم نواز شریف، وفاقی وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ، اور صوبائی وزیر اطلاعات محترمہ عظمیٰ بخاری سمیت مسلم لیگ (ن) کی قیادت کا دل کی گہرائیوں سے شکریہ ادا کیا ہے۔اپنے مشترکہ بیان میں ایمرا قیادت نے کہا کہ یہ قانون صحافیوں کو پیشہ ورانہ امور کی انجام دہی میں نہ صرف تحفظ فراہم کرے گا بلکہ انہیں آزادی، اعتماد اور میرٹ پر رپورٹنگ کا عملی موقع دے گا۔ یہ ایک ایسا تاریخی قدم ہے جو نہ صرف بڑے شہروں کے صحافیوں بلکہ علاقائی و ضلعی سطح پر کام کرنے والے رپورٹرز، کیمرہ مین، سب ایڈیٹرز اور دیگر میڈیا ورکرز کے لیے بھی ایک نئی روشنی لے کر آیا ہے۔محمد آصف بٹ نے کہا کہ اس بل کی منظوری ان ہزاروں بے آواز صحافیوں کے حق میں ایک مضبوط آواز ہے، جو سالہا سال سے خطرات کے باوجود سچ اور حق کی بات عوام تک پہنچاتے آ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے ماضی میں خبروں کی پاداش میں کئی صحافیوں کو شہید کیا گیا، کئی کو لاپتہ کیا گیا، اور متعدد کو سنگین دھمکیوں، تشدد اور گالی گلوچ جیسے واقعات کا سامنا کرنا پڑا۔ اس تناظر میں جرنلسٹ پروٹیکشن بل ایک انقلابی قدم ہے۔سیکرٹری جنرل سلیم احمد شیخ نے کہا کہ ایمرا اس بل کو خوش آئند قرار دیتی ہے اور اس امر پر زور دیتی ہے کہ صرف قانون بنانا کافی نہیں، بلکہ اس پر شفاف، غیر جانبدار اور مؤثر عملدرآمد بھی ناگزیر ہے تاکہ تمام صحافی خود کو محفوظ سمجھتے ہوئے اپنے فرائض سر انجام دے سکیں۔ایمرا قیادت نے مزید کہا کہ پاکستان میں آزادی صحافت کے لیے یہ بل ایک سنگ بنیاد ثابت ہوگا اور اس کے مثبت اثرات نہ صرف ملکی سطح پر بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی ظاہر ہوں گے۔ ایمرا ہمیشہ سے صحافیوں کے تحفظ، ان کے حقوق، اور آزادی اظہار کی حامی رہی ہے اور آئندہ بھی اپنی جدوجہد جاری رکھے گی۔

Facebook Comments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں