صحافی اور آج کے حالات

تحریر:حسین آزاد

صحافت معاشرہ کی آنکھ بھی ہے اور زبان بھی ہے۔ یہ وہ چراغ ہے جو اندھیروں میں راستہ دکھاتا ہے وہ آئینہ ہے جو اقتدار کو حقیقت کا عکس دکھاتا ہے اور وہ پُل ہے جو عوام اور ریاست کے درمیان اعتماد قائم رکھتا ہے مگر افسوس کہ آج کا یہ چراغ تیز آندھیوں کے بیچ جل رہا ہے۔ یہ آئینہ بار بار ٹوٹنے کے خطرہ سے دو چار ہے اور یہ پُل کمزور ستونوں پر لرز رہا ہے۔ آج کا صحافی شاید سب سے مشکل دور سے گزر رہا ہے۔ ایک طرف معاشی بحران نے اخبارات اور ٹی وی چینلز کو دیوالیہ پن کے دہانے پر پہنچا دیا ہے یہی وجہ ہے کہ آج تنخواہوں کی کٹوتیاں اور بیروزگاری عام ہو چکی ہے۔ کئی صحافی مہینوں کی محنت کے باوجود خالی ہاتھ گھر لوٹتے ہیں۔ دوسری طرف ان پر جان کا خوف سایہ فگن ہے۔ کبھی جلسہ کی کوریج پر لاٹھیاں اور گولیاں، کبھی کرپشن بے نقاب کرنے پر دھمکیاں اور کبھی با اثر طبقات کے ہاتھوں عزت و وقار کی پامالی ہے۔ صحافی کے لئے یہ دور دوہری تلوار کے نیچے کھڑے ہونے جیسا ہے۔ سیاسی تقسیم نے صحافت کو بھی ٹکڑوں میں بانٹ دیا ہے۔ کوئی چینل کسی جماعت کے رنگ میں ڈوبا ہے تو کوئی اخبار دوسرے کے پرچم تلے دکھائی دیتا ہے۔ عوام کا اعتماد اس تقسیم کی بھینٹ چڑھ رہا ہے اور صحافی سے تقاضہ کیا جا رہا ہے کہ وہ حقیقت نہیں بلکہ “ہدایات” کے مطابق بولے، لکھے اور شائع یا نشر کرے۔ یہی وہ لمحہ ہے جب آزادیٔ صحافت کی روح زخمی دکھائی دیتی ہے لیکن تمام تر مشکلات کے باوجود اگر کوئی عہد آج بھی زندہ ہے تو وہ صحافت ہی ہے۔ چھوٹے قصبوں کا رپورٹر جو بغیر وسائل اور بغیر تحفظ کے خبر پہنچاتا ہے یا بڑے شہروں کا صحافی جو ریاستی اور عوامی مسائل کو اپنی آواز دیتا ہے۔ یہی وہ لوگ ہیں جو اندھیروں میں روشنی کے سفیر ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ صحافت کو محض ایک پیشہ نہ سمجھا جائے بلکہ ایک مقدس مشن مانا جائے۔ ریاست صحافی کے لئے تحفظ کے فولادی حصار بنائے، میڈیا ادارے اپنے کارکنوں کے ساتھ انصاف کریں اور عوام یہ پہچانیں کہ اگر یہ چراغ بجھ گیا تو معاشرہ اندھیروں میں ڈوب جائے گا۔ آج کا صحافی ایک بغیر ہتھیار سپاہی ہے۔ اس کی ڈھال سچائی ہے اور اس کا ہتھیار قلم ہے اگر معاشرہ یہ چاہتا ہے کہ یہ سپاہی ہمت و حوصلہ کے ساتھ میدان میں ڈٹا رہے تو اسے تحفظ، عزت اور انصاف دینا بھی معاشرہ کی اجتماعی ذمہ داری ہے۔(حسین آزاد)۔۔

Facebook Comments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں