صحافتی عہدے ختم،تمام صحافی پریس ورکرز ہونگے،ری اسٹرکچرنگ کا آغاز۔۔

ملک کے سب سے بڑے اور قدیم میڈیا گروپ روزنامہ جنگ میں بڑے پیمانے پر تبدیلیوں کا عمل شروع ہو گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق سینکڑوں صحافیوں اور دیگر عملے کی برطرفیوں کے بعد ادارے کی وسیع پیمانے پر ری اسٹرکچرنگ جاری ہے۔اطلاعات کے مطابق آئی این سی ایل سمیت تمام پرانی کمپنیوں کو ختم کر کے ایک نئی کمپنی “ایچ ٹی اےکے نام سے تشکیل دی گئی ہے، جو آئندہ ادارے کے تمام انتظامی اور مالی امور کی ذمہ دار ہوگی۔ذرائع کا کہنا ہے کہ نئی پالیسی کے تحت ادارے میں موجود تمام صحافتی عہدے — جن میں نیوز ایڈیٹر، سب ایڈیٹر، رپورٹر، پروف ریڈر، پیج میکرز اور دیگر شامل ہیں — ختم کر کے تمام ملازمین کو “پریس ورکر” کا نام دیا جا رہا ہے۔ اس فیصلے کے بعد ملازمین کے صحافتی اسٹیٹس اور پیشہ ورانہ شناخت پر سنگین سوالات اٹھ گئے ہیں۔مزید برآں، پالیسی کے مطابق ساٹھ (60) سال یا اس سے زائد عمر کے ملازمین کو فارغ کیا جائے گا، جبکہ باقی عملے کی ازسرِنو فہرست تیار کی جا رہی ہے۔ اس اقدام سے سینئر صحافیوں اور طویل عرصے سے وابستہ عملے میں شدید بے چینی اور اضطراب کی فضا پیدا ہوگئی ہے۔ذرائع کے مطابق ادارے میں تبدیلیوں کا دوسرا مرحلہ آئندہ چند ہفتوں میں متوقع ہے، جس کے دوران مختلف شعبوں کے انضمام، نئے کنٹریکٹ سسٹم کے نفاذ اور تنخواہوں کے ڈھانچے میں بھی بنیادی تبدیلیاں متعارف کرائی جائیں گی۔انتظامیہ کے مطابق یہ اقدامات ادارے کو مالی مشکلات سے نکالنے اور جدید میڈیا ماڈل کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے لیے کیے جا رہے ہیں۔

Facebook Comments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں