صحافتی تنظیموں کا سپریم کورٹ سے پی سی بی کے فرانزک آڈٹ کا مطالبہ

صحافتی تنظیموں نے سپریم کورٹ سے پاکستان کرکٹ بورڈ(پی سی بی) اور پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل ) کے دس ایڈیشن سمیت پی سی بی عہدیداروں کے اثاثوں کا فرانزک آڈٹ کرانے کا مطالبہ کیا اور انٹرنیشنل میچوں کی کوریج کی آڑ میں بیرون ملک روپوش ہوجانے والے رپورٹرز،کیمرہ مینوں اور فوٹو گرافرز کی معاونت کرنے والے پی سی بی ملازمین کو بے نقاب کرکے ان کا احتساب کرنے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔ جبکہ جس میڈیا ادارے کا صحافی بیرون ملک جا کر روپوش ہو ،اس ادارے کو میڈیا ایکریڈیشن کارڈ جاری کرنے پر پانچ سال تک کی پابندی لگائی جائے۔ سپورٹس جرنلسٹس ایسوسی ایشن آف پاکستان ،آل پاکستان نیوز پیپر ایمپلائیز کنفیڈریشن (ایپنک)، پنجاب یونین آف جرنلسٹس ،لاہور پریس کلب رائٹرز گروپ سمیت سینئر صحافیوں اور فوٹو جرنلسٹس نے پاکستان کرکٹ بورڈ کے میڈیا ڈیپارٹمنٹ کے ملازمین  کی جانب سے سینئر صحافیوں اور فوٹوگرافرز کی تذلیل کرنے اور انٹرنیشنل میچوں سمیت پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل ) میچوں کے میڈیا ایکریڈیشن کارڈ اپنے من پسند افراد کوجاری کرنے کی شدید مذمت کرتے ہوئے پی سی بی کی اس اقربا پروری پر سپریم کورٹ سے نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ صحافتی تنظیموں کا کہنا ہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ کے عہدیداروں کے اثاثے تنخواہوں سے مطابقت نہیں رکھتے لہٰذا سپریم کورٹ پاکستان کرکٹ بورڈاور پاکستان سپر لیگ سمیت میڈیا ڈیپارٹمنٹ کا فرانزک آڈٹ کرائے جبکہ انٹرنیشنل میچوں کی کوریج کی آڑ میں بیرون ملک روپوش ہونے والے رپورٹرز،کیمرہ مینوں اور فوٹو گرافرز کی معاونت کرنے والے پی سی بی ملازمین کو بے نقاب کرکے ان کا احتساب کرنے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔واضح رہے کہ ستائیس سالہ صحافتی تجربہ رکھنے والے سینئر سپورٹس رپورٹراورپاکستان سپورٹس جرنلسٹس فیڈریشن کے سیکرٹری انفارمیشن محمد قیصر چوہان سمیت کئی سینئرصحافی اور فوٹو گرافرز میڈیا ایکریڈیشن کارڈنہ بننے کی وجہ سے پاکستان اور جنوبی افریقہ کے مابین ہونے والی ٹیسٹ میچوں کی سیریزکی کوریج سے محروم رہے تھے ۔ لاہور پریس کلب رائٹرز گروپ سمیت صحافتی تنظیموں نے کہا کہ پی سی بی میڈیا ڈیپارٹمنٹ کے ملازمین  نے پاکستان کرکٹ بورڈ کو باپ کی جاگیر سمجھ رکھا ہے جس کے سبب انہوں نے سینئر صحافیوں اور فوٹوگرافرز کے ساتھ توہین آمیز رویہ اپنا رکھا ہے ،ان ملازمین نے اقربا پروری کی انتہا کرتے ہوئے گزشتہ کئی برس سے اپنے من پسند اورسوشل میڈیا سے وابستہ افراد کو میڈیا ایکریڈیشن کارڈ جاری کر رہا ہے جبکہ چند ایسے صحافیوں کو بھی میڈیا ایکرڈیشن کارڈبنا کر دیئے جا رہے ہیں جو عرصہ درازسے کسی ادارے کیلئے کام نہیں کر رہے ہیں ۔ پی سی بی میڈیا ڈپارٹمنٹ نے رواں برس پاکستان اور بنگلہ دیش کی مابین قذافی اسٹیڈیم لاہور میں کھےلی گئی ٹی ٹونٹی میچوں کی سیریز کی کوریج کیلئے پندرہ سال سے زائد عرصہ سے شائع نہ ہونے والے اسپورٹس میگزین کے نام پر کراچی سے تعلق رکھنے والے اپنے چہیتے کو میڈیا ایکریڈیشن کارڈجاری کرکے منفرد کارنامہ سر انجام دیا تھا۔پی سی بی ملازمین کا غیر ذمہ دارانہ طرزعمل شرمناک ہی نہیں بلکہ قابل مذمت ہے ،سینئر صحافیوں، کیمرہ مینوں اور فوٹوگرافرزپر کرکٹ بورڈ کے دروازے بند کرنا پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین محسن رضا نقوی کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے جبکہ پی سی بی کے توہین آمیز رویے اور اقربا پروری کے خلاف اسلام آباداور راولپنڈی کے صحافی پہلے ہی عدالتوں سے رجوع کرکے میڈیا ایکریڈیشن حاصل کرچکے ہیں۔

Facebook Comments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں