صحافت یا سرکس؟

تحریر :سیدہ نگہت رضوی

ایک وقت تھا جب “صحافی” کا لفظ سن کر ذہن میں ایک باخبر، باشعور اور بااصول فرد کا تصور ابھرتا تھا۔ جو معاشرے کے نبض شناس ہوتے، جو الفاظ کو تراشتے اور سچائی کو بے نقاب کرنے کے مشن پر ہوتے۔ آج کل؟ ایک موبائل، ایک مائیک، ایک فیس بک پیج، اور کوئی بھی خود کو “صحافی” کہلوانے لگتا ہے۔ بس ایک “بریکنگ نیوز” کا نعرہ اور چند تصاویر یا ویڈیوز ۔صحافت مکمل۔

یہ کالم ان افراد کے لیے نہیں جو سچائی کی تلاش میں شب و روز ایک کرتے ہیں، بلکہ ان کے لیے ہے جو صرف “ویووز” اور “لائکس” کی دوڑ میں خبروں کی حرمت، الفاظ کی نزاکت اور سچ کی قدر کو پامال کر رہے ہیں۔

 صحافت صرف آلہ نہیں، فہم اور سلیقہ ہے۔

صحافت کی روح صرف مائیک یا کیمرے میں نہیں، بلکہ زبان کے چناؤ، معلومات کے توازن اور تحقیق کے گہرے عمل میں  ہوتی ہے۔ صحافت ایک امانت ہے، جہاں ہر لفظ، ہر تصویر، ہر جملہ ایک ذمہ داری کے ساتھ ادا ہونا چاہیے۔ جب کوئی شخص بغیر تحقیق، بغیر املا کی درستی، اور بغیر سیاق و سباق کے خبر لگا دیتا ہے، تو وہ صرف عوام کو گمراہ نہیں کرتا، بلکہ صحافت کی ساکھ کو بھی مجروح کرتا ہے۔

خبر اور افواہ میں فرق سیکھنا ہوگا۔

جلد بازی نے آج کی رپورٹنگ کو افواہوں کا بازار بنا دیا ہے۔ کسی کی موت کی جھوٹی خبر، کسی سیاستدان پر بلاوجہ الزام، کسی ویڈیو کو سیاق سے ہٹ کر پیش کرنا — یہ سب چالاکیاں نہیں، بلکہ اخلاقی بددیانتی ہے۔ صحافی کا کام سچ کو تلاش کرنا، چھپے پہلو سامنے لانا، اور غلط کو غلط کہنا ہے نہ کہ خود خبر بن جانا۔

 سستی شہرت کا دور ختم، اعتماد کا وقت ہے

عوام اب اتنی بھی سادہ لوح نہیں کہ ہر “وائرل” چیز کو حقیقت مان لے۔ چند لمحوں کی شہرت سمیٹنے والے، بعد میں اپنا اعتبار کھو بیٹھتے ہیں۔ جو صحافی خود کو وقت کے ساتھ بہتر کرتا ہے، تحقیق میں گہرائی لاتا ہے، اور زبان میں صفائی پیدا کرتا ہے — وہی عوام کا اعتماد جیتتا ہے۔

نتیجہ: صحافت سیکھو یا شوق ترک کرو

صحافی بننا ہے تو پہلے لکھنا سیکھو۔ پڑھو، سنو، سمجھو اور پھر بولو۔ اگر زبان ٹھیک نہیں، اگر تحقیق نہیں، اگر مقصد صرف دکھاوا ہے — تو یہ صحافت نہیں، ایک تماشہ ہے۔

یہ وقت محاسبے کا ہے: خود سے سوال کرو کہ تم صحافت کے خدمتگار ہو یا صرف سکرین کے تماشائی؟

سچ کی مشعل تھامنی ہے یا صرف روشنی کی نمائش کرنی ہے؟(سیدہ نگہت رضوی)۔۔

Facebook Comments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں