صحافت یا ذاتی برانڈنگ؟؟

تحریر: عقیل انجم اعوان۔۔

شہر کی صحافتی دنیا میں کچھ ایسی مخلوق بھی پائی جاتی ہے جو نہ تو باقاعدہ صحافی ہےنہ ہی کبھی کسی معتبر ادارے سے ان کا دور پار کا کوئی تعلق رہا ہے مگر “قلم بردار” ایسے کہ بندہ اصل صحافیوں سے بھی شرما جائے۔یہ وہ نابغہ روزگار ہستیاں ہیں جو کسی اخبار کے ایڈیٹر کے دفتر کے باہر مہینوں چکر لگاتے ہیں کبھی چائے منگوا کر کبھی دربان کو پلاؤ کھلا کر کسی نہ کسی طرح ایک آدھ کالم یا مضمون چھپوا لیتے ہیں۔وہ بھی اس شرط پر کہ دوبارہ ایسی جرأت نہ کریں۔ لیکن صاحب! جب وہ ایک دفعہ چھپ جائے تو پھر بس! دنیا کو ان سے بڑا صحافی نظر ہی نہیں آتا۔ اب وہ ہر سوشل میڈیا بایو میں “نامور صحافی، معروف کالم نگار، ادبی شخصیت” لکھنے کے مجاز ہو جاتے ہیں۔

یہ ڈھیٹ پن میں اپنی مثال آپ ہوتے ہیں۔ تقریب کہیں بھی ہو۔چاہے وہ کتاب کی تقریبِ رونمائی ہوکسی پرانے شاعر کے قل کا اجتماع ہو یا گلی محلے کے اسکول کی سالانہ تقریب۔یہ وہاں موجود ہوتے ہیں اور صرف موجود نہیں بلکہ اگلی نشستوں پر بغیر دعوت نامے کے بڑے طمطراق سے بیٹھے ہوتے ہیں۔

ان کے “صحافی” ہونے کا سب سے بڑا ثبوت؟ جی ہاں تصاویر! ہر تقریب میں سب سے اہم کام نہ کوریج نہ رپورٹنگ نہ تجزیہ بس تصاویر۔ اور وہ بھی مشہور صحافیوں معروف ادیبوں اور ہر اس شخص کے ساتھ جو کیمرے میں معقول لگے۔ پھر ان تصویروں کو فیس بک پر یوں سجایا جاتا ہے جیسے اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کر کے لوٹے ہوں۔ کیپشن کچھ یوں ہوتا ہے:”معروف صحافی محترم فلانا فلان کے ساتھ یادگار لمحہ یا۔۔ ۔ تقریب میں اپنی موجودگی کو اعزاز سمجھتا ہوں

ان کے تقریب میں داخلے کا طریقہ واردات بھی بڑا لطیف ہے۔ یہ صحافیوں کے واٹس ایپ گروپس میں کسی سفارش یا جعلی تعارف کے ذریعے گھس جاتے ہیں۔ وہاں سے معلومات حاصل کرتے ہیں کہ کس دن کہاں تقریب ہے پھر نکل پڑتے ہیں بغل میں موبائل جیب میں پاور بینک اور دل میں فالوورز بڑھانے کی آرزو لیے۔

ان کا سالانہ معمول بھی بڑا منظم ہوتا ہے۔ سال میں ایک آدھ تقریب خود بھی کروا لیتے ہیں۔کبھی “ادبی خدمات پر خراجِ تحسین”کبھی “نوجوان نسل کا مستقبل اور صحافت” جیسے بے ضرر عنوانات کے تحت۔ مقصد؟ تصویریں بنواناشیلڈ لینا اور سوشل میڈیا پر یہ تاثر دینا کہ بس اب تو اگلا ستارہ امتیاز ان ہی کا ہے۔

اب ذکر ہو جائے ان صحافیوں کا جن کا پیشہ واقعی صحافت ہے مگر شوق… شوق ہے ہر تقریب میں جانے کا۔ ان کا ماٹو ہے: “جہاں دعوت ہے وہاں ہم ہیں!” یہ صحافی تو ہوتے ہیں مگر ایسے “تقریبی صحافی” کہ صحافت کم اور فوٹوگرافی زیادہ کرتے ہیں۔ ان کا کیمرا ہر وقت آن دل ہر وقت بے چین اور آنکھیں ہر وقت تقریب کی کھوج میں۔ آپ انہیں کسی بھی تقریب میں موجود پائیں گے چاہے وہ نعتیہ مشاعرہ ہو یا سیاسی لیکچر بس کہیں کوئی مائیک ہو اور چند کرسیاں یہ وہیں جلوہ افروز ہوتے ہیں۔کسی تقریب میں اگر انہوں نے نہ آنا ہو تو سمجھو کہ یا تو طبیعت سخت خراب ہے یا پھر دعوت نامہ نہیں ملا اور اگر یہ کہیں نہ ہوں تو تقریب خود ادھوری لگتی ہے۔ کچھ تو اتنے پرانے ہو چکے ہیں کہ منتظمین کو ان کے بغیر تقریب کا آغاز کرنا بدشگونی لگتا ہے۔اور مزے کی بات یہ کہ یہ تمام حضرات چاہے نام نہاد ہوں یا پروفیشنل ہر تقریب کے بعد تصویریں اپلوڈ کرتے ہیں اور کیپشن میں “خصوصی شرکت”، “صدر محفل سے تبادلہ خیال”، “تقریب کی رونق”، جیسے القابات خود ہی خود کو دیتے ہیں۔ ان کے کیپشن دیکھ کر تو لگتا ہے جیسے ساری تقریب انہی کے گرد گھوم رہی تھی حالانکہ اصل میں تو یہ بغیر بلائے مہمان تھے۔یہ وہ لوگ ہیں جو کیمرے کے سامنے کھڑے ہو کر اپنا اصل قد کئی فٹ بڑھا لیتے ہیں اور سوشل میڈیا پر ایسا جادو جگاتے ہیں کہ دیکھنے والا یقین کر لے کہ اگر پاکستان میں صحافت زندہ ہے تو انہی کی بدولت۔

آخر میں بس اتنا کہوں گا

صحافت ایک مقدس پیشہ ہے مگر کچھ لوگ اسے فوٹوگرافی سوشلائزنگ اور ذاتی برانڈنگ کا ذریعہ سمجھ بیٹھے ہیں۔ ایسے صحافیوں کے ہوتے ہوئے عوام کا اعتماد میڈیا سے اٹھ جانا بعید نہیں۔ تقریب میں جانا بری بات نہیں مگر ہر بار صرف تصویر کھنچوانے جانا اور ہر بار خود کو مرکزی کردار ظاہر کرنا۔یہ وہ لطیف مزاح ہے جو طنز کی انتہا پر پہنچ چکا ہے۔(عقیل انجم اعوان کی وال سے)۔۔

Facebook Comments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں