تحریر: آغا خالد۔۔
آغا سراج درانی کی فوتگی اور ان کی زندگی میں پی پی قیادت کے رویوں پر لکھی تحریر نے سب سے زیادہ کہلائی جانے والی ملکی سیاسی جماعت کے رویہ نے مجھے حیران کردیا بلکہ یہ کہنا زیادہ بہتر ہوگا کہ سندھ کی حکمراں جماعت کا اتنا سخت رد عمل آیا کہ جس نے مجھے وقتی طور پر خوف زدہ کردیا کیونکہ مجھے غصہ سے بڑھ کر اس نفرت کی ان سے ہرگز توقع نہ تھی برسوں کا یارانہ رہا اور ہم نے ان کے خلاف جنگ، جیو، امت، پبلک اور خبریں میں بہت بڑی بدعنوانیوں کی اسٹوریاں فائل کیں مگر پی پی کی یہی ادا ہمیں بھاتی تھی کہ اس کے باوجود ان کے رہنما یا کارکن حتی کہ اسٹوری کے متاثرین بھی ملتے تو پھیکی ہی سہی مگر مسکراہٹ سے استقبال کرتے کبھی منفی بات نہیں کی جبکہ آغا سراج درانی تو ان کے اہم رہنما رہے اور پارٹی کے لیے ان کی گراں قدر قربانیاں تھیں جن میں سے دس 20 تو میں انگلیوں پر گنوا سکتا ہوں پھر ان کے ساتھ شریک چیرمین کا ان کی زندگی میں جو بھی رویہ رہا مگر مرنے کے بعد تو ہم دشمن کو بھی معاف کر دیتے ہیں مگر ہوا کچھ اس مرتبہ بالکل الٹ کہ جب آغا سراج کی فوت گی پر لکھی پہلی قسط مینے واٹس پر مختلف شخصیات کو بھیجی تو پی پی کے 4 اہم اور مرکزی رہنمائوں کا فوری ردعمل یہ آیاکہ انہوں نے فیس بک کو میری چغلی لگادی جس نے مجھے محدود طور پر بلاک کردیا، فیس بک پر ایک جیالے نے غلیظ گالی بھی دی دوسری قسط پر پہلی سے زیادہ شدید اور سخت ردعمل دیکھنے کو ملا مینے فیس بک اور واٹس اپ سے ردعمل دینے والوں کی شناخت حاصل کی تو بہت ہی دکھ ہوا ایک تو مرکزی عہدیدار خاتون تھیں جو خود بھی قبل ازیں صحافت سے وابستہ رہی ہیں جبکہ دو صوبائی وزیر اور محترمہ فریال تالپور کے حلقہ احباب میں شمار ہوتے ہیں یقینا انہوں نے ہی بقیہ عام شکایت کنند گان کو مشتعل کیا ہوگا مجھے ان کی شناخت افشا کرنے میں کوئی دل چسپی نہیں تاہم تحقیقاتی صحافت یا غیر جانبدار تحریریں لکھنے والوں کے لیے یہ کوئی انوکھی بات نہیں تبھی اساتذہ کہتے تھے صحافت پھولوں کی سیج ہرگز نہیں، 2000 کی پہلی دہائی کا قصہ ہے عشرہ محرم کے ابتدائی دنوں میں ملیر کی ایک شیعہ آبادی سے بسوں کا ایک جلوس نمائش پر مرکزی جلوس میں شرکت کے لیے جارہا تھا کہ نرسری کے پل پر ایک بس میں بم دھماکہ ہوا جس میں کچھ شہادتیں بھی ہوئیں ان دنوں کراچی سمیت ملک بھر میں اس طرح کی فرقہ وارانہ دہشت گردی عام تھی اس پر پولیس کی ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ میں اسے لشکر جھنگوی کی بدترین دہشت گردی قرار دیتے ہوے اس میں اہل تشیع کی ایک طلبہ تنظیم کی کوتاہی کی بھی نشاہدہی کی گئی تھی رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ علی الصبح جلوس کی روانگی کے لیے رات کو ہی بسیں بک کرلی گئی تھیں اور وہ بسیں ملیر میں رات کو ہی شیعہ آبادی سے ملحق سڑک پر لاکر کھڑی کردی گئیں تھیں جہاں امن دشمن دہشت گردوں نے ایک بس میں ریموٹ کنٹرول بم نصب کردیا تھا اور پھر جونہی وہ بس نرسری پل پر پہنچی تو دھماکہ کردیا رپورٹ میں نشان دہی کی گئی تھی کہ اس جلوس اور بسوں کی حفاظت کی زمہ داری اس شیعہ طلبہ تنظیم کی تھی جس کی لا پرواہی کے سبب دہشت گرد اپنے مذموم عزائم میں کامیاب ہوے یہ خبر روزنامہ عوام میں چھپی تو دن بھر دھمکیاں ملتی رہیں کہ “اساں تینوں نیوں چھڈڑاں” شام کو ہمارے استاد محترم اور ایڈیٹر عوام نذیر لغاری کا فون آیا کہ بھائی ان سے معاملات درست کرلو ورنہ یہ لوگ رات کو دفتر پر جلوس لے کر آنے اور دھرنا دینے کی دھمکیاں دے رہے ہیں اپنے پشت بان کو ہتھیار ڈالتے دیکھ کر میرا بھی حوصلہ جواب دے گیا اس پریشانی میں پریس کلب پہنچا جہاں پیارے دوست اور سب کے ہمدرد اکبر جعفری نے دیکھتے ہی پریشانی کی وجہ پوچھی تفصیل جان کر اس نے چٹکی بجائی اور مجھے حوصلہ دیتے ہوے کہا کہ ابھی مسلہ حل کروا دیتے ہیں آپ پریشان نہ ہوں تھوڑی دیر بعد ہی اس تنظیم کے کرتا دھرتا ہمارے درمیان موجود تھے جنہیں مینے پولیس کی رپورٹ دکھائی اور ہمیشہ کی طرح خبر درست ہونے کے باوجود معافی کے طلب گار ہوے مگر اللہ اجر دے ان نوجوانوں کو انہوں نے میری خبر کو درست تسلیم کرتے ہوے معاملہ وہیں رفع دفع کردیا اور یوں جعفری کی مدد سے ذہن پر سوار بوجھ گھنٹوں میں اتر گیا،
ایسا ہی ایک واقعہ سنہ 2000 میں پیش آیا جب چوبیس دسمبر 1999 کو کھٹمنڈو سے دلی جانے والے انڈین ایئر لائن کے طیارے کو اغوا کر لیا گیا، اس طیارے کو قندھار میں اتارا گیا جہاں طالبان کی حکومت تھی ہائی جیکروں نے طیارے میں سوار 155 مسافروں کی رہائی کے بدلے مولانا مسعود اظہر کی رہائی کا مطالبہ کیا اور طویل مذاکرات کے بعد مولانا مسعود اظہر کے ساتھ عمر سعید شیخ اور کشمیری رہنما مشتاق زرگر کو رہائی مل گئی رہائی کے بعد تینوں رہنماؤں نے اطلاعات کے مطابق اسامہ بن لادن اور ملا عمر سے ملاقات بھی کی تھی۔ عمر شیخ کو بعد میں کراچی میں امریکی صحافی ڈینیئل پرل کے قتل کے الزام میں گرفتار کیا گیا اور وہ آج بھی قید میں ہیں مولانا مسعود اظہر کو اس وقت کی اسٹبلشمنٹ اپنا اثاثہ قرار دیتی تھی، مسعود اظہر عالمی جہاد کے قائل ہیں انھوں نے انڈیا، بنگلہ دیش، سعودی عرب اور زیمبیا کے علاوہ برطانیہ کے بھی دورے کیے ایسے ہی دورے کے دوران انھیں سنہ 1994 میں انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں انہیں گرفتار کر لیا گیا،انڈیا میں گرفتاری سے قبل مولانا مسعود حرکت المجاہدین میں شامل تھے انھوں نے رہائی کے بعد کراچی میں اپنی الگ تنظیم (جیش محمد) کے قیام کا اعلان کیا اور اس سلسلے میں انھیں جامعہ بنوریہ ٹاؤن سمیت مختلف مدارس کے علما کی حمایت بھی حاصل رہی بعض ذرائع کے مطابق کالعدم سپاہ صحابہ کے سربراہ اعظم طارق بھی جیش کے قیام میں مولانا مسعود کے ساتھ تھے جس کی وجہ سے حرکت المجاہدین کے امیر مولانا فضل الرحمان خلیل اور ان کے درمیان اختلاف پیدا ہو گئے جیش محمد نے بعد ازاں حرکت المجاہدین کے کئی کیمپوں اور دفاتر پر قبضہ کر لیا تھا اس قبضے میں سپاہ صحابہ بھی ان کی شریک کار تھی اس کے علاوہ مولانا مسعود کو لال مسجد اسلام آباد کی بھی مکمل حمایت حاصل تھی اسٹبلشمنٹ کے ہر لاڈلے کی طرح ان دنوں مولانا مسعود اظہر کو بھی مکمل سرکاری پروٹوکول حاصل تھا اور انہیں کسی وی آئی پی کی طرح ملک کے تمام بڑے شہروں کا دورہ کروایا جارہا تھا جب وہ کراچی تشریف لائے تو ان کی کراچی پریس کلب میں ایک پریس کانفرنس کروائی گئی ہر پیشہ ور صحافی کی خواہش ہوتی ہے کہ ایسی شخصیات سے چاہے وہ کتنے ہی متنازعہ کیوں نہ ہوں ان سے مل کر کرخت یا نرم سوالات کرکے پتہ چلایا جائے کہ ان کے دماغ میں کیا چل رہا ہے انہیں پرکھنے پڑھنے اور جاننے کے بعد ان پر لکھنے میں نکھار آجاتاہے کچھ ایسی ہی منشا اس روز کراچی پریس کلب کے عہدیداران کی بھی مولانا کو بلانے کی ہوگی مگر ہوا کچھ اس کے بر عکس مولانا کی سیکوریٹی کے نام پر ایک مسلح جتھا پریس کلب میں گھس آیا انہوں نے صحافیوں سے بھی بد کلامی کی انہیں دھکے دیے اور گھنٹوں وہ کلب میں دندناتے اور کلب کا تقدس پائمال کرتے رہے یہاں تک کہ مولانا کے تحفظ کے نام پر مسلح جہادی لونڈے پریس کلب کی دیوار پر چڑھ کر اسلحہ لہراتے رہے اس کی ایک تصویر کے ساتھ مینے روزنامہ عوام میں تفصیلی خبر فائل کردی جو چھپ بھی گئی دوپہر 11/12 بجے اخبار مارکیٹ میں آتا تھا بس ایک بجے سے فون پر جہادی بھائیوں کی مغلظات ، دھمکیاں آنا شروع ہوئیں اور ایسا رویہ اختیار کرنے والے مسلح گروہ نشانہ بنائے گئے صحافی کو دھمکیوں کی ابتدا اس کے بچوں سے کرتے ہیں وہ کہاں پڑھتے ہیں کہاں رہتے ہیں، اس روز بھی شام تک ان کے لہجہ کی سختی میں الفاظ کے چنائو کے ساتھ ننگا پن بڑھتا گیا شام 6 بجے کے قریب پھر میرے ایڈیٹر اور مربی نذیر لغاری کا فون آگیا جو خود بھی شدید دبائو میں لگ رہے تھے انہوں نے بڑے مجبور سے لہجہ میں کہا۔۔ آغا اس کا کوئی حل نکالیں ورنہ تمھاری اور میری نوکری دائو پر لگ جائے گی تب ایک بار پھر قاری عثمان اور قاری شیر افضل کو بیچ میں ڈالا اور معافی تلافی ہوئی ایک رپورٹر کے لیے ایسے لمحات بہت تکلیف دہ ہوتے ہیں جب وہ اپنی سچی اسٹوری پر بھی معافی مانگ کر جان چھڑ واتا ہے مگر کیا کریں تیسری دنیا میں صحافت مملکت کا سب سے کمزور ستون جو ٹھرا، الامان والحفیظ۔(آغاخالد)۔۔
(زیر نظر تحریر سینئر صحافی آغا خالد کی آپ بیتی اور دوران رپورٹنگ پیش آنے والے واقعات ہیں، جن کے مندرجات سے عمران جونیئر ڈاٹ کام کا متفق ہونا ضروری نہیں۔۔علی عمران جونیئر)۔۔
