تحریر: آغا خالد
کلیم اشرف کلیمی 1980 کی دہائی کا معروف صحافی تھا جب بھی کوئی نیا اخبار یا رسالہ نکلتا یا نیوز ایجنسی بنتی تو اس میں نیوز ڈیسک کے بادشاہ کلیم اشرف کلیمی یا سید نعمت اللہ بخاری ہوتے اتفاق دیکھیے دونوں پنجاب اور کے پی کی بڑی روحانی درگاہوں کے متعلقین میں سے تھے اور یہ دونوں اخبار کی جان سمجھے جانے والے سٹی یا ڈسٹرکٹ ڈیسک کے انچارج ہوتے میری خوش قسمتی تھی کہ دونوں مجھ پر مہربان رہتے اور میں جب بھی نمائندگی کے لیے ان کے پاس جاتا یہ مجھے مایوس نہ کرتے یوں ہمارا ایک مضبوط تعلق قائم ہوگیا تھا پھر 1984 میں ایک اور قلندرانہ مزاج کے شریف النفس صحافی انور عباس نے روزنامہ مزدور نکالا تو اس میں مجھے چیف رپورٹر کے ساتھ ادارے کا انتظامی سربراہ ایڈ منسٹریٹر مقرر کیا اور اس اخبار میں بھی کلیم اشرف کلیمی ہمارے سینیر ساتھی تھے مزدور اخبار انور عباس نے انگریزی اخبار ڈان کی مارکیٹنگ سے ریٹائر ہونے والے ریاض کے ساتھ مل کر نکالا تھا اس کا دفتر آئی آئی چندریگر روڈ پر اسپنسر بلڈنگ میں تھا 8 صفحات کے رنگین اخبار نے کراچی شہر میں دھوم مچادی تھی جبکہ ہفتہ میں دو رنگین میگزین بھی نکل رہے تھے اخبار کی تیزی سے بڑھتی مانگ نے اخباری صنعت میں ہلچل پیدا کردی تھی یہاں تک کہ ایک روز پاکستان میں صحافت کے امام جنگ کے مدیر اعلی میر خلیل الرحمان نے انہیں اپنے دفتر چائے پر مدعو کیا انور عباس نے واپسی پر بتایا کہ میر صاحب مرحوم بار بار ایک ہی سوال کرہے تھے کہ تمھارے پیچھے کون ہے یہ پیسہ کہاں سے آرہاہے، بہر صورت اس شاندار اخبار کا انجام بھی وہی ہوا جو گزشتہ صدی میں محدود سر مایہ سے نکلنے والے ہزاروں یا شاید لاکھوں اخبارات و رسائل کا ہوا، سنہ 2000 کے بعد ایک بار پھر کلیمی سے رابطہ ہوا جو صوتی رابطوں تک محدود رہا البتہ اکثر مشترکہ دوستوں کے ذریعے معلوم ہوتا رہتا کہ کلیم اشرف کلیمی روحانیت کی طرف زیادہ مائل ہوگئے ہیں تاہم صحافت کو انہوں نے چھوڑا نہیں بلکہ سینہ سے چمٹائے رکھا ہے کچھ عرصہ سے کلیمی مسلسل دعوت دے رہے تھے کہ ہمارے آستانہ عالیہ پر تشریف لائیں تاکہ پرانی یادیں تازہ کی جا سکیں مگر اس ظالم سماج کی مصروفیات کلیمی کے خلوص کے آڑے آتی رہیں تاہم 28 نومبر کو وعدہ پختہ کرلیا کہ یکم دسمبر 2025 کو حاضری بمع دوستوں کے ہوگی جناب کے آستانہ پر یوں ہم نے ارادہ کرلیا اور معروف صحافی رہنما خورشید عباسی کی قیادت میں خبریں گروپ کے جنرل مینیجر رانا فیصل، مساوات فیم ستار میمن اور اخبار جہاں کے سابق فوٹو جرنلسٹ شعیب مختار کے ساتھ جانا ٹھرا، مگر عین وقت پر کچھ دوستوں کی مصروفیات آڑے آگئیں تاہم ہم نے اپنا وعدہ نبھایا اور خور شید عباسی اور ستار میمن کے ہمراہ آستانہ کلیمی پر حاضر ہوگئے جسے کلیمی نے ایوان صحافت کا نام دے رکھا ہے میزبان نے بھرپور تکلفات کے ساتھ ہمارا استقبال کیا فروٹ اور سمن آباد گلبرگ کے حلیم سے ہماری تواضع کی تحفے تحائف سے نوازا گھنٹوں سیر حاصل گفتگو ہوئی بھولی بسری یادوں کو خوب کریدا یہ پر تکلف ملاقات اگلے کئی برسوں کا سرمایہ ہوگی شکریہ کلیمی تمہارے اخلاص اور عزت افزائی کا رب کریم تمھارے رزق میں مزید برکتیں عطا فرمائے اور جگ جگ جیو ۔۔(آغا خالد)۔۔
