وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے برطانوی ہائی کمشنر جین میریٹ سے ملاقات کی، جس میں انہوں نے سابق وزیراعظم کے معاونِ خصوصی شہزاد اکبر اور یوٹیوبر عادل راجا کی حوالگی (ایکسٹریڈیشن) کے کاغذات ہائی کمشنر کے حوالے کیے۔یہ پیش رفت محسن نقوی کے جعلی خبروں میں ملوث افراد کے خلاف کریک ڈاؤن کے اعلان کے 3 دن بعد سامنے آئی ہے، وزیر داخلہ نے دوران پریس کانفرنس کہا تھا کہ برطانیہ میں موجود جعلی خبریں پھیلانے یا ریاستی اداروں کو نشانہ بنانے میں ملوث افراد کو حکومت واپس لائے گی۔وزارتِ داخلہ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق محسن نقوی نے اسلام آباد میں ہائی کمشنر جین میریٹ سے اہم ملاقات کی، جہاں پاک-یوکے تعلقات، سکیورٹی تعاون اور باہمی دلچسپی کے دیگر امور پر بات چیت ہوئی۔بیان میں کہا گیا کہ وفاقی سیکریٹری داخلہ محمد خرم آغا اور دیگر متعلقہ افسران بھی ملاقات میں موجود تھے، جس میں برطانیہ میں غیر قانونی طور پر مقیم پاکستانیوں کی واپسی پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔بیان کے مطابق پاکستانی حکومت کی جانب سے شہزاد اکبر اور عادل راجا کی حوالگی کے کاغذات جین میریٹ کے حوالے کیے گئے، محسن نقوی نے کہا کہ دونوں افراد پاکستان میں مطلوب ہیں، انہیں فوری طور پر پاکستان کے حوالے کیا جانا چاہیے۔انہوں نے ان پاکستانی شہریوں کے خلاف بھی ثبوت فراہم کیے جو پروپیگنڈا پھیلا رہے تھے۔بیان کے مطابق محسن نقوی نے کہا کہ میں اظہارِ رائے کی آزادی پر مکمل یقین رکھتا ہوں لیکن جعلی خبریں ہر ملک کے لیے مسئلہ ہیں۔وزیر داخلہ نے مزید کہا کہ کوئی بھی ملک بیرونِ ملک بیٹھے افراد کو اپنے ریاستی اداروں کے خلاف بہتان تراشی یا انہیں بدنام کرنے کی اجازت نہیں دے سکتا، محسن نقوی کا کہنا تھا کہ پاکستان اُن افراد کی واپسی کے لیے برطانوی تعاون کا خیرمقدم کرے گا جو پاکستان مخالف پروپیگنڈا پھیلاتے ہیں۔بیان میں مزید کہا گیا کہ وزارت داخلہ نے وزارتِ خارجہ کے ذریعے حوالگی کا باضابطہ عمل شروع کر دیا ہے۔
شہزاداکبر، عادل راجہ کی پاکستان واپسی کا مطالبہ۔۔۔
Facebook Comments
