سی پی جے کا پاکستان سے  سہراب برکت کی رہائی کا مطالبہ

کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس (سی پی جے) نے  کہا کہ پاکستانی حکام کو چاہیے کہ وہ صحافی سہراب برکت کو فوری اور بلا شرط رہا کریں اور ان کے ادارے سیاست کو آزادانہ رپورٹنگ جاری رکھنے کی اجازت دیں۔ آزادیٔ صحافت کی اس تنظیم کے مطابق برکت کی مسلسل حراست اور ان کی صحافت سے جڑے قانونی مقدمات سائبر کرائم قوانین کے غلط استعمال کی مثال ہیں۔سہراب برکت کو 26 نومبر کو اس وقت حراست میں لیا گیا جب وہ اقوامِ متحدہ کی ایک کانفرنس میں شرکت کے لیے سفر کر رہے تھے۔ ان کے خلاف پاکستان کے پریوینشن آف الیکٹرانک کرائمز ایکٹ 2016 کے تحت تین شکایات درج ہیں، جو ان کی صحافتی سرگرمیوں سے متعلق ہیں۔ سی پی جے کے مطابق یہ مقدمات غلط معلومات پھیلانے اور ریاستی اداروں کے بارے میں توہین آمیز بیانات دینے کے الزامات پر مبنی ہیں۔لاہور ہائی کورٹ نے  تیسرے مقدمے میں سہراب برکت کی ضمانت مسترد کر دی، جس کے نتیجے میں ان کی حراست دو ماہ سے زائد عرصے تک جاری رہی۔ اس فیصلے کی تصدیق سی پی جے کی جانب سے دیکھے گئے عدالتی حکم نامے اور برکت کے وکیل سعد رسول کی ایکس پر  پوسٹ کے ذریعے ہوئی۔چند روز قبل، 18 جنوری کو، سیاست نے اپنے اسلام آباد دفتر کی بندش کا اعلان کیا، اور اس فیصلے کو براہِ راست سہراب برکت کی حراست اور نیوز روم کو درپیش دباؤ سے جوڑا۔سی پی جے کے مطابق نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی نے سب سے پہلے 5 اگست 2025 کو سہراب برکت کے خلاف شکایت درج کی، جس کے بعد 26 اگست اور 5 دسمبر کو مزید دو شکایات سامنے آئیں۔ اگرچہ برکت کو ابتدائی دو مقدمات میں ضمانت مل گئی تھی، تاہم لاہور ہائی کورٹ نے انہیں مفرور قرار دیتے ہوئے تیسرے مقدمے میں ضمانت کی درخواست مسترد کر دی۔سعد رسول نے سی پی جے کو بتایا کہ گرفتاری سے قبل ان کے مؤکل کو پہلے درج کی گئی شکایات کے بارے میں آگاہ نہیں کیا گیا تھا۔ سی پی جے کے مطابق اس سے قانونی عمل (ڈیو پراسیس) سے متعلق سنگین خدشات جنم لیتے ہیں، خاص طور پر اس لیے کہ ایک ہی نوعیت کے الزامات پر متعدد مقدمات درج کیے گئے۔سیاست ڈاٹ پی کے کے ایک  صحافی نے، ممکنہ انتقامی کارروائی کے خوف کے باعث نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر، سی پی جے کو بتایا کہ سہراب برکت کی حراست کے بعد فزیکل نیوز روم کو برقرار رکھنا دن بہ دن مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ اگرچہ کچھ عملہ ریموٹ طور پر کام جاری رکھے ہوئے ہے، مگر ذرائع خبر اس ادارے سے بات کرنے میں ہچکچاہٹ دکھا رہے ہیں، اور صحافیوں کو خبردار کیا گیا ہے کہ رپورٹنگ جاری رکھنے کی صورت میں انہیں بھی  سہراب برکت جیسے نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔پاکستان کے وفاقی وزیرِ اطلاعات عطا اللہ تارڑ اور نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی کے ڈائریکٹر سید خرم علی نے سی پی جے کی جانب سے ٹیکسٹ میسج اور ای میل کے ذریعے بھیجے گئے تبصرے کی درخواستوں کا کوئی جواب نہیں دیا۔

Facebook Comments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں