geo news se meera istefa

سہیل وڑائچ مجھ سے ناراض ہوگئے، انصار عباسی۔۔

سینئر صحافی اور ایڈیٹر انویسٹی گیشن دی نیوز انصار عباسی کا کہنا ہے کہ میں ایک عام سا رپورٹر ہوں اور اس پیشے میں جب سے آیا ہوں، خبر ہی میری ترجیح رہی ہے۔ میں نے نہ کبھی دانشور ہونے کا دعویٰ کیا اور نہ میں کوئی جوتشی ہوں جو مستقبل کے بارے میں بتا سکے کہ کل کیا ہونے والا ہے۔ میں کوئی بڑا کالم نگار بھی نہیں کہ جسکے لکھے پر کتابیں شائع ہو جاتی ہوں۔میرا اصل کام رپورٹنگ ہی ہے، البتہ ہفتے میں دو بار جنگ میں کالم بھی لکھتا ہوں۔ مجھے کالم لکھنے کا کوئی خاص ہنر حاصل ہے اور نہ وہ زبان و بیان جو ہمارے بعض سینئر صحافیوں کا خاصہ ہے، لیکن اپنی سوچ کو بیان کرنے کا ایک ذریعہ ضرور ہے، جس پر میں اپنے رب کا شکر ادا کرتا ہوں۔میں نے ہمیشہ کوشش کی کہ خبر دوں، اور جب کالم لکھوں تو کسی مسئلے پر لکھوں۔ جنگ میں شائع ہونے والے ان کے تازہ ویلاگ میں انصار عباسی لکھتے ہیں کہ ۔۔میرا نظریہ میری سب سے بڑی ترجیح ہے اور رپورٹنگ میرا بنیادی کام اور ذمہ داری۔ خبر جب اور جہاں ہو، اسے اسی طرح سامنے آ جانا چاہیے۔اب کچھ عرصے سے موجودہ حکومت کے حوالے سے میڈیا میں لکھا اور کہا جا رہا ہے کہ شہباز شریف کی جگہ کسی’’ونڈر بوائے‘‘ کی تلاش کی جا رہی ہے۔ اب تو ٹاک شوز میں بڑے بڑے صحافی یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ شہباز حکومت کو چھ ماہ کا الٹی میٹم دیا جا چکا ہے کہ معیشت درست کرو، ورنہ کچھ بھی ہو سکتا ہے۔بحیثیت رپورٹر یہ میری ذمہ داری تھی کہ معلوم کروں آیا واقعی موجودہ حکومت رخصت ہونے جا رہی ہے اور شہباز شریف کی جگہ کوئی ونڈر بوائے ڈھونڈا جا رہا ہے یا نہیں۔ میں نے خود ایک ایسے ذریعے سے رابطہ کیا جس کے بارے میں میرا خیال تھا کہ اگر اس حوالے سے کوئی سوچ موجود ہے تو وہ اس سے باخبر ہوگا۔ مجھے بتایا گیا کہ کوئی ونڈر بوائے نہیں آئے گا۔میں نے ایک رپورٹر کی حیثیت سے یہ خبر دی، جس پر جنگ کے سینئر کالم نگار، معروف صحافی اور پاکستان کے سب سے بڑے اخبار کے ایڈیٹوریل پیج کے ایڈیٹر محترم جناب سہیل وڑائچ صاحب شاید ناراض ہو گئے، جس پر میں ان سے معذرت کا طلبگار ہوں۔ میں اپنے کالم کو ذاتی جھگڑوں کی نذر نہیں کرنا چاہتا، اس لیےبلا چون و چرا اپنی خبر کی’’تردید‘‘ کرتے ہوئے اور ان کی ہاں میں ہاں ملاتے ہوئے کہتا ہوں کہ چوہے بلی کا کھیل دوبارہ شروع ہو چکا ہے اور شہباز شریف کی جگہ ونڈر بوائے کی تلاش بھی شروع ہو چکی ہے۔

Facebook Comments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں