سہراب برکت کی تیسرے مقدمہ میں درخواست ضمانت مسترد۔۔

لاہور ہائی کورٹ نے زیرِ حراست صحافی سہراب برکت کی تیسری مقدمے میں ضمانت کی درخواست مسترد کر دی ہے، جس کے نتیجے میں ان کی حراست دو ماہ سے زائد عرصے تک بڑھ گئی ہے۔ اس فیصلے پر صحافتی اور قانونی حلقوں میں تشویش پائی جا رہی ہے۔ یہ فیصلہ جسٹس ایم۔ جواد ظفر نے محفوظ کرنے کے تقریباً دس روز بعد جاری کیا، سہراب برکت کے وکیل بیرسٹر سعد رسول کے مطابق  عدالت نے ضمانت اس بنیاد پر مسترد کی کہ صحافی کو وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) اور نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کے درج مقدمے میں مفرور قرار دیا گیا تھا۔ یہ فیصلہ برکت کے خلاف دائر متعدد مقدمات میں سے ایک سے متعلق ہے، حالانکہ وہ دو دیگر مقدمات میں پہلے ہی ضمانت حاصل کر چکے ہیں، اس کے باوجود وہ تاحال حراست میں ہیں۔سوشل میڈیا پر ایک بیان میں سعد رسول نے عدالت کے اس مؤقف کو چیلنج کرتے ہوئے کہا کہ برکت کو نہ تو ایف آئی اے یا این سی سی آئی اے کی جانب سے کسی ایف آئی آر کے سلسلے میں طلب کیا گیا اور نہ ہی انہیں کسی عدالت کی جانب سے مفرور قرار دینے کا کوئی نوٹس موصول ہوا۔ان  کا کہنا تھا کہ برکت کو سفر کے وقت کسی زیرِ التوا مقدمے کا علم نہیں تھا۔وکیل کے مطابق سہراب  برکت نے اس سے قبل اسلام آباد ہائی کورٹ سے بیرونِ ملک سفر کی اجازت طلب کی تھی، جس دوران ایف آئی اے نے مبینہ طور پر عدالت کو بتایا کہ ان کے خلاف کوئی مقدمہ یا انکوائری زیرِ التوا نہیں ہے۔ اس کے باوجود، سہراب  برکت کو 26 اور 27 نومبر 2025 کی درمیانی شب اسلام آباد ایئرپورٹ سے گرفتار کیا گیا، جو ان کے بقول اسلام آباد ہائی کورٹ کے احکامات کی خلاف ورزی ہے۔سہراب برکت دو ماہ سے زائد عرصے سے حراست میں ہیں اور پاکستانی قوانین کے تحت متعدد مقدمات کا سامنا کر رہے ہیں۔ ان کے ایک ساتھی کے مطابق الزامات کا تعلق ان کے انٹرویوز اور حساس سیاسی موضوعات، جن میں کشمیر اور بلوچستان شامل ہیں، پر عوامی تبصروں اور حکومت پر تنقید سے ہے۔ تاہم ان الزامات کا تاحال جاری عدالتی کارروائی میں میرٹ پر فیصلہ نہیں ہوا۔لاہور ہائی کورٹ کا یہ فیصلہ تیسرا مقدمہ ہے جس میں  سہراب برکت نے ضمانت کی درخواست دی تھی۔ ان کی قانونی ٹیم نے اعلان کیا ہے کہ وہ اس فیصلے کو سپریم کورٹ آف پاکستان میں چیلنج کرے گی اور مقدمات کے دوران ان کی رہائی کی درخواست دائر کرے گی۔۔

Facebook Comments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں