سہراب برکت کی ایک اور مقدمہ میں ضمانت منظور۔۔

صحافی سہراب برکت، جو 90 دن سے زائد عرصے سے حراست میں تھے، کو پیر کے روز پریوینشن آف الیکٹرانک کرائمز ایکٹ(پیکاایکٹ) کے تحت ان کے خلاف  درج کئی مقدمات میں سے تازہ ترین کیس میں ضمانت دے دی گئی۔ یہ فیصلہ اس وقت سامنے آیا جب نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) نے انہیں  ایف آئی آر نمبر 343/2025 میں جسمانی ریمانڈ کی درخواست کے لیے مجسٹریٹ کے روبرو پیش کیا۔سہراب  برکت کے وکیل بیرسٹر سعد رسول نے بتایا کہ  دفاع نے ریمانڈ کی مخالفت کی اور ضمانت کی درخواست دائر کی، جسے مجسٹریٹ نے دونوں جانب کے دلائل سننے کے بعد منظور کر لیا۔ اس وقت صرف ایک مقدمہ زیرِ التوا ہے، جو اسلام آباد ہائی کورٹ میں اپیل کی صورت میں موجود ہے، جس میں جج مجوکا کے اس حکم کو چیلنج کیا گیا ہے جس کے تحت برکت کی سابقہ ضمانت منسوخ کی گئی تھی۔ عدالت نے اس اپیل کی سماعت پیر، 2 مارچ 2026 کو مقرر کر رکھی ہے، اور اسی مقدمے کا فیصلہ ان کی رہائی کے حتمی وقت کا تعین کرے گا۔ قانونی ماہرین کے مطابق یہ طرزِ عمل ظاہر کرتا ہے کہ کس طرح یکے بعد دیگرے مقدمات درج کر کے قبل از مقدمہ حراست کو طول دیا جا سکتا ہے، حتیٰ کہ جب عدالتیں ملزم کے حق میں فیصلے دے چکی ہوں۔یہ کیس اس امر کو اجاگر کرتا ہے کہ پاکستان میں صحافیوں کو پیکا کے تحت کن چیلنجز کا سامنا ہے، اور کس طرح بار بار ایف آئی آرز اور ضمانت کی منسوخی کے ذریعے عدالتی مداخلت کے باوجود حراست کو طول دیا جا سکتا ہے۔ میڈیا تنظیموں اور صحافیوں کو چاہیے کہ وہ ایسے قانونی ہتھکنڈوں سے باخبر رہیں جو آزادیٔ صحافت کے خلاف استعمال ہو سکتے ہیں، اور متوازی مقدمات اور عدالتی تاخیر سے نمٹنے کے لیے پیشگی تیاری رکھیں۔

Facebook Comments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں