nawabshah train haadsa Ghair mehfooz safar

سندھ میں مزید ایک صحافی قتل، اور بے حسی کا اندھیرا

تحریر: علی انس گھانگھرو۔۔

سندھ میں صحافت کرنا جہاد کرنے کے برابر ہے. یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں سندھ واحد صوبہ ہے جہاں سب سے زیادہ صحافیوں کو قتل کیا جاتا ہے، مقدمات درج کیے جاتے ہیں، حراساں کیا جاتا ہے، تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے. وجہ حق سچ کا آواز اعلی ایوانوں تک پہنچانا ہوتا ہے. کاوش کے ٹی این نیوز کے بہادر صحافی جان محمد مہر کو سکھر بیچ شہر میں قتل کر دیا گیا، ماتھیلو میں نصر اللہ گڈانی، ٹھری میرواہ میں اے ڈی شر، عزیز میمن، اجئے کمار لالوانی، مشتاق کھنڈ، اصغر کھنڈ، عزیز میمن، بہت لمبی فہرست ہے اب سید محمد شاہ جو اب تک کے تعلقہ رپورٹر تھے. گڑھی خیرو، سندھ کا ایک پسماندہ مگر جرات مند صحافت سے جڑا ہوا علاقہ، ایک بار پھر صحافت کے ماتھے پر خون کا تازہ نشان چھوڑ گیا۔ شہید سید محمد شاہ کا قتل نہ صرف ایک انسان کی جان لینے کا سانحہ ہے بلکہ یہ پاکستان میں صحافیوں کی سلامتی، حکومتی بے حسی اور جاگیردارانہ ظلم کی گہری جھلک بھی ہے۔ یہ کہانی محض ایک صحافی کی شہادت نہیں، بلکہ ریاستی و سماجی ناانصافیوں کا نوحہ ہے جو ہر روز اس ملک کے کسی نہ کسی گوشے میں لکھا جا رہا ہے۔ شہید صحافی سید محمد شاہ ایک سادہ، دیانت دار اور عوام دوست شخصیت کے مالک تھے۔ وہ صرف مقامی خبریں جمع نہیں کرتے تھے، بلکہ وہ اپنے علاقے کے مسائل کو اجاگر کر کے عوام کی آواز بنے ہوئے تھے۔ ان کی صحافت کا محور عوام کے حقوق، پانی کی قلت، زمینداروں کے ظلم اور پولیس کی ملی بھگت پر تھا۔ لیکن ان کی بے باک تحریریں طاقتور حلقوں کو ایک آنکھ نہ بھاتی تھیں۔ سید محمد شاہ کا قتل ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت ہوا۔ ملزم ان کے گھر پہنچا، پانی مانگا، شہید کا بیٹا پانی لینے گیا، اور اسی دوران قاتل نے سید محمد شاہ پر فائرنگ کر دی۔ یہ قتل نہ کسی ذاتی جھگڑے کا نتیجہ تھا، نہ ہی کوئی فوری طیش، یہ ایک سوچے سمجھے منصوبے کا حصہ تھا جس کا مقصد علاقے میں سچ لکھنے والی آواز کو ہمیشہ کے لیے خاموش کرنا تھا۔ اس واقعے کے بعد جس طرح علاقائی، ضلعی اور صوبائی نمائندوں نے خاموشی اختیار کی، وہ سندھ میں صحافت اور انصاف کی حالت زار کی واضح عکاسی کرتا ہے. سوئم کی دعا تک نہ کوئی ایم پی اے، نہ ایم این اے، نہ ایس ایس پی، اور نہ ہی کوئی ایس ایچ او تعزیت کے لیے پہنچا۔ شہید کے گھر پر صرف صحافی ہی موجود تھے. وہ بھی لالا اسد پٹھان کی قیادت میں، جو کراچی سے قافلے کی صورت میں پہنچے۔ ان کے ہمراہ گھوٹکی، سکھر، خیرپور، شکارپور اور جیکب آباد کے صحافی آصف ظہیر لودھی، امداد بوزدار، سلیم سہتو، نصر اللہ وسیر، جہانزیب وسیر، مجیب الرحمٰن ورند، عبدالغفور شیخ، خالد بانبھن، رضوان لودھی، زاہد نون، عامر چنہ، شہزاد تابانی، جلال الدين بھیو، آغا اسرار، فرید سومرو، جاوید جتوئی، کاشف پھلپوٹو ولی شاہ، موجود تھے۔ انھوں نے نہ صرف لواحقین سے تعزیت کی بلکہ ہر فورم پر آواز بلند کرنے کا وعدہ بھی کیا. ملزم نے گرفتاری سے بچنے کے لیے بروہی قبیلے کے گاؤں میں پناہ لی۔ جب گاؤں کی عورتوں نے اُسے وہاں سے بھگا دیا تو وہ گاؤں کے باہر ایک (گاھ بھوسے) میں چھپ گیا۔ اطلاع ملنے پر پولیس پہنچی، اور اسے گرفتار کیا۔ مگر گرفتاری سے قبل اس نے خود کو پستول سے زخمی کر لیا تاکہ پولیس کے ہاتھوں مزید تفتیش یا مبینہ تشدد سے بچ سکے۔ افسوس کا مقام یہ ہے کہ بعد میں پولیس نے صحافیوں اور سوشل میڈیا پر الزام دھر کر خود کو بری الذمہ قرار دیا۔ یہ قتل صرف سید محمد شاہ کا نہیں تھا. یہ ایک پیغام تھا۔ ان تمام صحافیوں کے لیے جو اب بھی اپنے قلم سے حق اور سچ کا پرچم بلند کیے ہوئے ہیں۔ سندھ میں خاص طور پر اندرون علاقوں میں صحافی دوہری مار جھیل رہے ہیں: ایک طرف جاگیردارانہ نظام، دوسری طرف ریاستی اداروں کی بے حسی۔ ان کے خلاف جھوٹی ایف آئی آرز کٹوانا، سازشی مقدمات بنوانا، جان سے مارنے کی دھمکیاں دینا اب معمول بن چکا ہے۔ گڑھی خیرو کے صحافیوں نے بتایا کہ وہ بھوتاروں، سرداروں اور سیاسی نمائندوں کے مسلسل عتاب کا شکار ہیں۔ صحافیوں کی موٹر سائیکلیں چوری کی جاتی ہیں، گھر پر حملے کیے جاتے ہیں، اور ان کی کوئی سنوائی نہیں ہوتی۔ پولیس صرف طاقتوروں کی خادم بنی ہوئی ہے۔ جیکب آباد سے گڑھی خیرو تک کا سفر گویا سندھ کے زخموں کا مشاہدہ ہے۔ اس راستے پر درجنوں وڈیروں، سرداروں اور بھوتاروں کے ناموں کے بورڈ لگے ہوئے ہیں، مگر ان کے نیچے بس ویرانی ہے۔ نہروں میں پانی نہیں، کھیت بنجر ہیں، اور بجلی کا نام و نشان نہیں۔ نوجوان بے روزگار ہیں، بچے تعلیم سے محروم، اور عورتیں پینے کے پانی کے لیے میلوں کا سفر طے کرتی ہیں۔ علاقے میں جرم، بدامنی، قتل، اغوا اور جنسی زیادتی عام ہو چکی ہے۔ ایسے ماحول میں سچ بولنے والا صحافی گویا موت کو دعوت دیتا ہے۔ اور جب وہ شہید ہوتا ہے، تو نہ حکومت افسوس کرتی ہے، نہ انصاف کی کرسی جنبش لیتی ہے۔ سید محمد شاہ ایک بیوہ، ایک نوجوان بیٹے اور نو معصوم بچوں کو یتیم کر گیا۔ ان کا گھر ایک نہر کے کنارے تھا — وہی نہر جیسے چیخ چیخ کر کہہ رہی ہو: “میرا پانی مجھے لوٹا دو!” یہ پانی کی فریاد اپنی جگہ، مگر شہید کا بہتا ہوا خون بھی انصاف کی دہائی دے رہا ہے۔ کیا ان کے بچے بھی اُسی خاموشی میں پلیں گے جس خاموشی نے ان کے والد کو نگل لیا؟ کیا اُنہیں بھی وہی بے حسی ملے گی جو ان کے والد کے خون کے ساتھ روا رکھی گئی؟ یہ سوالات سندھ حکومت، قانون نافذ کرنے والے اداروں، اور انسانی حقوق کے علمبرداروں کے لیے ایک چیلنج ہیں۔ ایسے اندھیرے ماحول میں لالا اسد پٹھان جیسے لوگ روشنی کی کرن بن کر سامنے آتے ہیں۔ وہ کراچی سے آئے، سکھر سے قافلہ لے کر گڑھی خیرو پہنچے، لواحقین سے تعزیت کی، دو لاکھ روپے کی مالی امداد کا اعلان کیا، اور سندھ حکومت سے ایک کروڑ روپے دلوانے کی یقین دہانی کرائی۔ ان کی قیادت میں صحافی برادری نے یہ ثابت کیا کہ صحافت محض خبر کی دنیا نہیں، بلکہ انسانیت، انصاف اور مزاحمت کا نام ہے۔ اس وقت سندھ حکومت، آئی جی سندھ، اور دیگر اعلیٰ حکام پر فرض ہے کہ شہید کے قاتل کو سخت سے سخت سزا دی جائے۔ شہید کے بیٹے کو فوری طور پر سرکاری نوکری دی جائے تاکہ گھر کا چولہا جلتا رہے۔ شہید کے خاندان کو مالی امداد (کم از کم ایک کروڑ روپے) فراہم کی جائے۔ گڑھی خیرو اور دیگر علاقوں میں صحافیوں کو سیکیورٹی فراہم کی جائے۔ علاقائی سطح پر صحافیوں کے تحفظ کے لیے ہنگامی قانون سازی کی جائے۔ شہید سید محمد شاہ نے سچ لکھا، اور اس کی قیمت اپنی جان سے چکائی۔ مگر وہ اکیلا نہیں — ہر وہ شخص جو سچ بولتا ہے، آج خطرے میں ہے۔ اگر آج بھی ہم خاموش رہے، تو کل ہر گھر سے ایک سید محمد شاہ اٹھے گا — مگر ہمیں یہ نہ بھولنا چاہیے کہ ہر شہادت صرف خون نہیں بہاتی، بلکہ یہ سوال بھی چھوڑ جاتی ہے، کیا یہ زمین سچ بولنے والوں کے لیے ہے؟ یا صرف اُن کے لیے جو بندوق، طاقت اور دھونس سے فیصلے کرتے ہیں؟(علی انس گھانگھرو)۔۔۔

Facebook Comments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں