تحریر: وارث رضا۔۔
دردناک لکھوں، افسوسناک لکھوں، حیرت ناک لکھوں، عبرت ناک لکھوں یا چاہی ان چاہی موت لکھوں، عجیب موت ہے جو کہ اس دیس کے ریاستی چلن کے خلاف واقع ہوئی، نہ صحافی اغوا ہوا، نہ لاپتہ کیا گیا، نہ دھمکی ملی، نہ گھریلو ناچاقی کا کوئی اندیشہ ظاہر کیا گیا اور نہ ہی پولیس کی نا اہلی یعنی ذاتی دشمنی کا بے سروپا شوشہ چھوڑا گیا، بس لے دے کر خودکشی کا راگ الاپا جا رہا ہے، جس پر کسی بھی جانب سے کوئی اعتبار کرنے پر راضی ہی نظر نہیں آتا۔ بیوی پر غشی طاری ہے یا بچے بلک بلک کر سہم گئے ہیں۔ کچھ اندازہ نہیں کیا جا سکتا، جنم دینے والے والدین اور بھائی صرف یہی کر سکے کہ فوری طور سے بدیس امریکہ سے دیس میں اپنے ہونے کا ثبوت فراہم کرنے کے لئے موجود ہوں، سو وہ بھی دکھی دل کے ساتھ بیٹے یا بھائی کو کاندھا دینے کا حصہ بن گئے۔ رہا سوال دوست احباب اور صحافی برادری کا سو وہ بھی دامے درمے سخنے دکھی دل اور بوجھل قدموں کے ساتھ اپنے ساتھی کا آخری دیدار ہی کر سکنے میں کامیاب رہے۔
اس ناگہانی اور کربناک صورتحال میں اب ان احباب کے اندازوں اور خدشات کے قصے کیا خاور کے وجود، بچوں کے باپ، بیوہ کے شوہر، والدین کا چین اور بھائی کا سہارا لا پائیں گے یا ان سب کی اشک شوئی کر سکیں گے؟ یہ کہنا ابھی قبل از وقت ہے، بظاہر اعلی سطح کی حکومتی کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے جبکہ حکومتی وزرا اور اعلی قیادت کے روایتی قابل افسوس بیانات بھی منظر عام پر آ چکے ہیں، پر اب تک یہ اعلی سطحی کمیٹی یا وزرا کے بلنگ بانگ دعوے خاور حسین کی موت کا اصل سراغ اور اس کے لواحقین سے لے کر صحافی برادری کو کوئی اطلاع فراہم نہ کرسکے ہیں بلکہ جوں جوں وقت گزر رہا ہے چند ناعاقبت افراد خاور کی موت کو نجی قضیے کا شاخسانے کا شبہ بھی قرار دینے سے بھی گریز نہیں کر رہے، جو کہ کسی طور مناسب رویہ نہیں کہا جا سکتا بلکہ اس بے سروپا الزام سے شاید ممکنہ قاتلوں کو بچانے کی کوششیں کی جا رہی ہیں جو کہ یقینی طور پر با اثر دکھائی دیتا ہے۔ ویسے بھی ہمارے ہاں انگریزی محاورے Delay Tactics کا اس قدر چلن ہے کہ کسی بھی سانحے کی شدت کو کم کرنے یا عوام کی توجہ ہٹانے کی ”مجرمانہ ریاستی انصاف فراہم کرنے کی دیری“ سب کچھ چند دنوں بعد بھلا دیتی ہے۔
یہاں تو اب تک سب کے سامنے قتل کی گئی بلوچستان کی ”بانو“ کی افسوسناک موت کو نہ صرف بلوچستان کا سرداری نظام بلکہ ملک بھر کی انسانی حقوق کی تنظیمیں بھی بھلا بیٹھی ہیں، سو خاور حسین کی موت کے اسباب کی فکر چند دنوں بعد کیا ہوگی، یہ بھی سب سامنے آ جائے گا، مگر نہ ہی بلوچستان کی ”بانو“ کے قتل کے محرک سردار کو قرار واقعی سزا ملے گی اور نہ ہی خاور حسین کے بیٹوں کو ان کے ارمان پورے کرنے والا باپ ہاتھ آئے گا۔
مجھے یہ بات بتانے میں کوئی عار نہیں کہ رواں ہفتے میں کسی اور موضوع پر کالم تیار کر چکا تھا، جس کا ابتدائیہ معروف صحافی شاہد جتوئی کے سامنے رکھ چکا تھا۔ یہاں یہ بتاتا چلوں کہ میں رات مکمل پر سکون نیند لے کر صبح بیدار ہونے والا فرد ہوں، مگر رات کی نیند میں عجیب اضطرابی کیفیت رہی اور گمان ہوا کہ میرا جسم آرام میں ہے مگر ذہنی طور پر میں جاگ رہا ہوں اور میرے ارد گرد صرف ”خاور حسین“ کے قصے اور ناگہانی موت کی وجہیں میری پرسکون نیند میں نجانے کیوں بار بار حائل ہو رہی ہیں۔ اسی بنا میں اپنے وقت سے قبل جاگ گیا اور سوچتا رہا کہ نہ تو خاور حسین سے میری بہت زیادہ واقفیت تھی اور نہ ہی میں اس سے کسی بھی قسم کی دوستی کا دعویدار ہوں، تو پھر مجھے خاور حسین کیوں پریشان کر رہا ہے؟ گو خاور حسین سے میری تین سے چار مرتبہ سرسری ملاقات ہوئی تھی مگر وہ سلام دعا اور احترام کے جذبوں تک محدود رہی، اس سے زیادہ میں خاور حسین کی ذاتی زندگی یا صحافتی کیریئر سے واقف نہ تھا البتہ اتنا ضرور تھا کہ میری ہر پوسٹ پر خاور حسین لائیک ضرور کرتا تھا اور کبھی کبھار کسی نکتے پر کافی لمبی بحث بھی ہو جایا کرتی تھی اور آخر میں وہ صرف یہ کہہ کر بحث سمیٹ دیتا تھا کہ ”اپ ہمارے سینئر ہیں، ہم آپ سے رہنمائی لیتے رہیں گے۔
احباب کی صحبت کے بارے میں سعدی شیرازی کی یہ حکایت یا تلقین کمال کا درجہ رکھتی ہے کہ
یارا! بھشت صحبتِ یارانِ ہمدم است
دیدارِ یارِ نامتناسب جھنم است
”اے دوست! ہم خیال دوستوں کی رفاقت جنت ہے جب کہ کسی نامناسب دوست کا ملنا جہنم ہے“
مجھے پورا یقین ہے کہ ہر والدین اپنے بچوں کو بری صحبت سے دور رہنے اور سماجی برائیوں سے بچے رہنے کی تلقین کرتے ہوں گے، میرے نزدیک دنیا کے کوئی والدین ایسے نہیں ہوتے ہوں گے کہ وہ اپنی اولاد کی ترقی اور خوشحالی پر شاداں نہ ہوتے ہوں، مگر سوال یہ ہے کہ وہ ترقی اور خوشحالی وقت سے پہلے آ رہی ہے یا بہت زیادہ رفتار سے خوشحالی دروازے پر دستک دے رہی ہے تو اسی مقام پر والدین کو کم از کم ٹھہرنا تو ہو گا اور اپنے بچوں کی صحبت و سماجی چلن کی تحقیق کرنی پڑے گی، یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ الہڑ پن کی عمر میں کوئی ”بالک“ اس قدر با اثر یا خوشحال ہو جائے جو فطری اور صحافتی طور سے ممکن نہیں۔ اسی طرح والدین کو بچوں کی اس صحبت یا احباب پر بھی کڑی نظر رکھنی ہوگی جو اس کے بچے کے سنگی ساتھی کہلانے کی آڑ میں اس کی ”با اخلاق تربیت“ میں دراڑ ڈال رہے ہیں۔
یاد رکھا جائے کہ سماج کی سمت درست رکھنے اور فرد کی شہری آزادیوں کا سب سے موثر ہتھیار ”صحافت“ اور اس کے بنیادی اصول سمجھے جاتے ہیں، صحافی کی پہلی ذمہ داری سنجیدگی سے سماج کی بگڑی پرتوں کا جائزہ لینا اور ان کی بیخ کنی سے متعلق اخبار یا چینل کو خبر دینا ہوتا ہے، صحافی تعلقات عامہ کا نہ فرد ہوتا ہے اور نہ ہی سماجی تقریبات اس کے پیشے کی ضرورت ہوتی ہے، سینئر صحافی حبیب خان غوری اکثر ڈان اخبار کے ایڈیٹر احمد علی خان کے صحافتی اصولوں کا ذکر کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ”ایک مرتبہ کسی کرائم رپورٹر کا آئی جی کی طرف سے دعوت نامہ ڈاک میں اس کے نام سے آ گیا۔ احمد علی خان نے اس رپورٹر کو بلایا اور کہا ‘یہ کیا ہے تمہارے نام آئی جی کا دعوت نامہ کیوں آیا ہے؟’ رپورٹر لاجواب ہو گیا، جس پر اس رپورٹر کو اس بیٹ سے فوری طور پر ہٹا دیا گیا“ اسی طرح ایک معروف سینئر صحافی کو بیرون ملک کے ادارے کا دعوت نامہ آیا تو احمد علی خان نے اس صحافی کی سرزنش کی اور کہا کہ اپ جتنے دن بیرون ملک رہیں گے اس کی آفس سے باقاعدہ چھٹی لیں اور وہاں سے آپ کی کسی بھی قسم کی رپورٹ اخبار کا حصہ نہیں بنے گی ۔
اسی طرح معروف سینئر صحافی علی احمد خان اور حسین نقی اپنے صحافتی دور اور اصول کی بات بتاتے ہوئے اکثر گویا ہوتے ہیں کہ ”ہمارا وہ صحافتی دور تھا کہ جس میں کسی بھی معاشرتی برائی کی خبر دینے کو اہمیت دی جاتی تھی اور شہری آزادیوں کے حق کو حکومت سے منوانا صحافتی ذمہ داری کا اصول تھا جبکہ برائے نام تنخواہ پر ہم سب صحافی نہ صرف مطمئن تھے بلکہ کسی قدر مہینے کے پہلے عشرے میں کبھی کبھار خوشحال بھی ہو جایا کرتے تھے اور ایک لگن و جستجو کے ساتھ اپنی صحافتی ذمہ داری پوری کیا کرتے تھے، نہ با اثر افراد سے تعلقات کی تمنا کی اور نہ ہی ہمیں اس بات کی اجازت دی گئی کہ ہم حکومتی افراد سے پینگیں بڑھائیں، کیونکہ ہمارے نزدیک سماجی تعلقات ہی صحافت کی قدر و منزلت گھٹانے کا سبب ہوا کرتا تھا۔
اس تربیت میں اخبار کا ایڈیٹر متحرک کردار ادا کرتا تھا کیونکہ اخبار کا ایڈیٹر ایک گھنے درخت کی مانند ہوتا ہے جو اپنے ساتھ کام کرنے والے صحافی کی ہر لمحے کی خبر گیری رکھتا ہے اور جہاں اس کا صحافی صحافیانہ دائرے سے باہر نکل رہا ہو تو فوری طور سے اس کا سدباب کرتا ہے۔ مگر اب تو چل سو چل کی رفتار سے ہماری صحافت روبہ زوال ہو رہی ہے، جو کسی طور سے اچھی نشانی نہیں۔اسی تناظر میں ایک طویل عرصے سے ہماری صحافت اور خاص طور پر نئے صحافیوں میں اعلی حکومتی افراد یا ذمہ داران سے تعلقات بنانے میں جو تیزی نظر آ رہی ہے اس پر نظر رکھنا متعلقہ اخبار یا چینل کے ایڈیٹر کی بنیادی ذمہ داری ہے، اب ایڈیٹر کا شعبہ کیسے طاقت ور ہو گا، اس پر غور کرنا اس منصب کے افراد کا کام ہے جو انہیں اور صحافتی تنظیموں کو سر جوڑ کر انجام دینا ہو گا وگرنہ صحافت تعلقات اور اثر رسوخ کی غلام ہو کر صحافتی برادری میں صرف اور صرف حادثات اور سماج دشمن سرگرمیوں کا باعث ہوگی، جس کا خطرناک پہلو صحافتی قدر کی جمہوری اور شہری آزادی کے حق سے ہاتھ دھونا ہی ہو گا، پھر نہ سماج کی سمت درست ہوگی، نہ جمہوری قدریں پروان چڑھیں گی اور نہ ہی صحافت اور قلم کو آزادی نصیب ہوگی۔
وگرنہ بقول منہاج برنا، پھر ہم صرف یہی کہتے نظر آئیں گے کہ
آ آج مرثیہ لکھیں چوتھے ستون کا
یعنی قلم کی موت، صحافت کے خون کا( وارث رضا)۔۔
