سما ٹی وی کے رپورٹر پر بھتہ خوری کا الزام ثابت نہ ہوسکا۔۔

سما ٹی وی کے رپورٹر پر بھتہ خوری کا الزام ثابت نہ ہوسکا۔ پولیس نے دوران تفتیش رپورٹر کو بے قصور ثابت ہونے پر مقدمہ کو سی کلاس قرار دے دیا۔۔ سما کے رپورٹر حافظ محمد قیصر نے بوسٹن انجکشن کی مبینہ غیر قانونی ڈیل سے متعلق خبر اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر شیئر کی تھی۔ اس خبر کے بعد سابق ایس ایچ او سکھن  نے پہلے صحافی کے خلاف پیکا ایکٹ کے تحت جھوٹا مقدمہ درج کیا، بعد ازاں اپنی تعلق واسطے والی ایک خاتون کو مدعیہ بنا کر بھتے کا ایک اور مقدمہ قائم کر دیا۔ سما کے رپورٹر  کے خلاف پیکا ایکٹ کے تحت جھوٹا مقدمہ نمبر 642/2025 درج کیا گیا، جبکہ جس خبر کی بنیاد پر یہ کارروائی کی گئی تھی، اسی خبر میں نامزد بوسٹن انجکشن مافیا کے مبینہ کردار وقاص گجر کے خلاف بعد ازاں مقدمہ نمبر 644/2025 درج کر لیا گیا۔ اس صورتحال نے کئی سوالات کو جنم دے دیا ہے۔صحافتی حلقوں کا کہنا ہے کہ کراچی میں صحافیوں کے خلاف جھوٹے مقدمات کے اندراج کا سلسلہ تشویشناک حد تک معمول بنتا جا رہا ہے، تاہم آئی جی سندھ غلام نبی میمن صحافیوں کو انتقامی کارروائیوں سے بچانے کے لئے تاحال کوئی مؤثر اور عملی اقدام کرنے میں ناکام دکھائی دیتے ہیں۔ شہر میں ایسے مقدمات کے خلاف نہ تو کوئی مؤثر نگرانی کا نظام موجود ہے اور نہ ہی ذمہ دار افسران کا احتساب کیا جا رہا ہے۔شہری و صحافتی حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر صحافی کی خبر غلط اور بے بنیاد تھی تو پھر وقاص گجر کے خلاف مقدمہ کیسے درج ہو گیا؟ اس تضاد کا جواب ایس ایس پی ملیر  کو دینا ہوگا۔کراچی میں صحافیوں کے تحفظ، جھوٹے مقدمات کے خاتمے اور پولیس کے اندر موجود کالی بھیڑوں کے خلاف بلاامتیاز کارروائی نہ کی گئی تو آزادیٔ صحافت اور قانون کی بالادستی کے دعوے محض نعرے ہی ثابت ہوں گے۔

Facebook Comments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں