سرخ لکیریں اور اظہارِ رائے کی آزادی، میڈیا کو وارننگ کا مطلب؟

خصوصی رپورٹ۔۔

کسی ملک کی خارجہ پالیسی کے بارے میں صحافی کیا کہہ سکتے ہیں اور کیا نہیں؟ اس کا فیصلہ آخر کون کرتا ہے؟ پاکستان میں یہ سوال اس وقت دوبارہ اہمیت اختیار کر گیا ہے جب وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے صحافیوں اور تجزیہ کاروں کو خبردار کیا کہ وہ ملک کے سفارتی تعلقات پر بات کرتے ہوئے آئینی “سرخ لکیروں” کو عبور نہ کریں۔ ان کے اس بیان نے اظہارِ رائے کی حدود، میڈیا کی ذمہ داریوں اور اس بات پر نئی بحث چھیڑ دی ہے کہ کیا جدید معلوماتی دور میں خارجہ پالیسی کو عوامی نگرانی سے باہر رکھا جا سکتا ہے یا نہیں۔وزیرقانون اعظم نذیرتارڑ نے اپنی بات کو آئین پاکستان کے  آرٹیکل 19 کے تناظر میں بیان کیا، جو اظہارِ رائے کی آزادی کی ضمانت دیتا ہے مگر ساتھ ہی قومی سلامتی، امن عامہ اور دیگر ممالک کے ساتھ تعلقات کے مفاد میں اس آزادی پر کچھ پابندیوں کی بھی اجازت دیتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ شہریوں کو اظہارِ رائے کا حق حاصل ہے، لیکن سفارتی تعلقات پر گفتگو انہی آئینی حدود کے اندر رہنی چاہیے۔

وزیر قانون کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور بدلتے ہوئے اتحاد خطے کی سیاست کو متاثر کر رہے ہیں۔ اس کے اثرات پاکستان کی داخلی بحث میں بھی نظر آتے ہیں۔حکومتی حلقوں کو خدشہ ہے کہ ٹی وی ٹاک شوز، ڈیجیٹل پلیٹ فارمز یا سوشل میڈیا پر کیے جانے والے بعض تبصرے بیرونِ ملک اس طرح سمجھے جا سکتے ہیں جیسے وہ حکومتِ پاکستان کا سرکاری مؤقف ہوں۔لیکن اس تنبیہ نے ایک بنیادی سوال بھی پیدا کر دیا ہے: آخر وہ “سرخ لکیر” کیا ہے جسے عبور نہیں کیا جا سکتا؟ اور یہ لکیر کہاں کھینچی جاتی ہے؟

صحافیوں اور تجزیہ کاروں کے لیے اس طرح کی مبہم تنبیہات خود ایک بڑا مسئلہ بن سکتی ہیں۔ اگرچہ وزیر قانون نے کسی نئے قانون یا ضابطے کا اعلان نہیں کیا، لیکن یہ اشارہ کہ تنقیدی یا قیاس آرائی پر مبنی گفتگو کے نتیجے میں قانونی کارروائی ہو سکتی ہے، میڈیا کے رویّے کو متاثر کر سکتا ہے۔ میڈیا کے ماہرین اس صورتحال کو اکثر “چِلنگ ایفیکٹ” قرار دیتے ہیں۔ جب اظہارِ رائے کی حدود واضح نہ ہوں تو صحافی ممکنہ قانونی خطرات سے بچنے کے لیے حساس موضوعات پر بات کرنے سے ہی گریز کرنے لگتے ہیں۔

پاکستان میں گزشتہ چند برسوں کے دوران اظہارِ رائے کی حدود کے بارے میں بحث پہلے ہی جاری ہے، خاص طور پر ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے حوالے سے۔ آن لائن اظہارِ رائے سے متعلق قوانین، جیسے پریوینشن آف الیکٹرانک کرائمز ایکٹ (پیکاایکٹ) بعض صحافیوں اور سوشل میڈیا صارفین کے خلاف استعمال کیے جا چکے ہیں، جس کے باعث قومی سلامتی اور اظہارِ رائے کے توازن پر بحث تیز ہوئی ہے۔ایسے ماحول میں خارجہ پالیسی سے متعلق تنبیہات ممکن ہے کہ ایڈیٹرز اور تجزیہ کاروں کو سفارتی تعلقات یا عالمی اتحادوں پر گفتگو کرتے وقت مزید محتاط بنا دیں۔

 جمہوری معاشروں میں خارجہ پالیسی تاریخی طور پر عوامی بحث کا ایک اہم موضوع رہی ہے۔مثال کے طور پر امریکہ میں میڈیا ادارے باقاعدگی سے سفارتی حکمت عملی، فوجی اتحادوں اور بین الاقوامی مذاکرات کا جائزہ لیتے ہیں۔ صحافی اور تجزیہ کار فوجی مداخلتوں سے لے کر تجارتی معاہدوں اور سفارتی اقدامات تک ہر معاملے پر کھل کر بحث کرتے ہیں۔اسی طرح برطانیہ میں خارجہ پالیسی پارلیمنٹ میں بھی زیرِ بحث آتی ہے اور میڈیا میں بھی اس پر وسیع تجزیہ کیا جاتا ہے۔ اخبارات، ٹی وی نیٹ ورکس اور ماہرین اکثر حکومتی پالیسیوں پر تنقید کرتے ہیں۔بھارت میں بھی ہمسایہ ممالک کے ساتھ کشیدگی کے دوران ٹی وی مباحثوں اور ڈیجیٹل تبصروں میں خارجہ تعلقات ایک مستقل موضوع بن جاتے ہیں۔ اسی طرح یورپ کے مختلف ممالک میں صحافی اور تجزیہ کار علاقائی تنازعات، اتحادوں اور سفارتی مذاکرات پر کھل کر گفتگو کرتے ہیں۔ماہرین کے مطابق یہ مباحثے نہ صرف عوام کو عالمی معاملات سمجھنے میں مدد دیتے ہیں بلکہ بعض اوقات پالیسی سازی کو بھی متاثر کرتے ہیں۔

دنیا بھر میں حکومتیں بعض اوقات حساس سفارتی معاملات پر اظہارِ رائے کو محدود کرنے کے لیے قومی سلامتی کا حوالہ دیتی ہیں۔ لیکن قومی سلامتی اور آزادیٔ صحافت کے درمیان لکیر اکثر دھندلی ہو جاتی ہے۔اس کی ایک نمایاں مثال ہانگ کانگ ہے، جہاں قومی سلامتی کے قانون کے تحت میڈیا شخصیات اور کارکنان کے خلاف مقدمات قائم کیے گئے ہیں۔ میڈیا کاروباری شخصیت جمی لائی کا کیس اکثر پریس فریڈم تنظیموں کی جانب سے اس مثال کے طور پر پیش کیا جاتا ہے کہ قومی سلامتی کے قوانین میڈیا کے کام کو کس طرح متاثر کر سکتے ہیں۔ایسے واقعات ایک عالمی رجحان کی نشاندہی کرتے ہیں، جب حکومتیں میڈیا کے تبصروں کو قومی سلامتی سے جوڑتی ہیں تو آزادیٔ صحافت پر بحث مزید شدت اختیار کر جاتی ہے۔

پاکستان میں وزیر قانون کے بیان پر صحافیوں، تجزیہ کاروں اور سابق سفارت کاروں نے سوشل میڈیا پر ردعمل دیا۔سابق پاکستانی سفیر ملیحہ لودھی نے اس تجویز پر سوال اٹھاتے ہوئے لکھا کہ۔۔اظہارِ رائے کو محدود یا دبانے کی کوئی بھی کوشش ناقابلِ قبول ہونی چاہیے۔ کھلی بحث نہ صرف جمہوری حق ہے بلکہ پالیسی سازوں کے لیے بھی مددگار ثابت ہوتی ہے۔ کھلی بحث سے آخر خوف کیوں؟۔۔ سینئر صحافی زاہد حسین نے اس بیان کو اظہاررائے پر  ایک اور قدغن قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ۔۔یہ اظہارِ رائے کی آزادی پر ایک اور پابندی ہے۔ اس سے پہلے ہم نے خارجہ پالیسی پر بحث پر کبھی پابندی نہیں دیکھی۔معروف صحافی ماریانا بابرنے بھی سخت ردعمل دیتے ہوئے کہاکہ۔۔جائیں اور قانون پڑھیں۔ ہمیں کسی غیر ملکی حکومت کے کہنے پر خاموش نہیں کرایا جا سکتا۔

صحافت طویل عرصے سے عوام کو عالمی امور سے آگاہ کرنے میں اہم کردار ادا کرتی رہی ہے۔ سفارتی مذاکرات، عالمی تنازعات اور بین الاقوامی اتحادوں کی رپورٹنگ کے ذریعے صحافی عوام کو بتاتے ہیں کہ عالمی فیصلوں کا ملکی زندگی پر کیا اثر پڑ سکتا ہے۔میڈیا تجزیہ کاروں، ماہرین تعلیم اور سابق سفارت کاروں کو بھی اپنی رائے دینے کا پلیٹ فارم فراہم کرتا ہے۔ اس طرح مختلف آراء سامنے آتی ہیں اور پالیسی سازوں کو عوامی سوچ کا اندازہ ہوتا ہے۔ جمہوری معاشروں میں اس قسم کی بحث کو صحت مند سیاسی عمل کا حصہ سمجھا جاتا ہے۔حکومتی نقطۂ نظر سے دیکھا جائے تو وزیر قانون کی تنبیہ اس خدشے کی عکاسی کرتی ہے کہ غیر ذمہ دارانہ تبصرے سفارتی تعلقات کو پیچیدہ بنا سکتے ہیں یا شراکت دار ممالک کے ساتھ غلط فہمیاں پیدا کر سکتے ہیں۔آج کے دور میں ٹی وی یا سوشل میڈیا پر دیا گیا بیان چند منٹوں میں عالمی سطح پر پھیل سکتا ہے۔ اسی وجہ سے حکام کو خدشہ ہے کہ قیاس آرائی پر مبنی تجزیے بیرونِ ملک پاکستان کے سرکاری مؤقف کے طور پر سمجھے جا سکتے ہیں۔

ناقدین کا کہنا ہے کہ بحث کو محدود کرنے کے بھی اپنے خطرات ہوتے ہیں۔ اگر عوامی مباحثے کو کم کر دیا جائے تو شفافیت متاثر ہو سکتی ہے اور شہریوں کے لیے خارجہ پالیسی کے فیصلوں کو سمجھنا اور ان کا جائزہ لینا مشکل ہو جاتا ہے۔لہٰذا احتیاط اور کھلے پن کے درمیان توازن قائم کرنا حکومتوں اور صحافیوں دونوں کے لیے ایک دیرینہ چیلنج رہا ہے۔وزیر قانون کے بیان کے بعد پیدا ہونے والی بحث ایک بنیادی سوال کو اجاگر کرتی ہے: قومی مفاد اور اظہارِ رائے کی آزادی کے درمیان لکیر کہاں کھینچی جائے؟

اگر خارجہ پالیسی کو عوامی بحث کے لیے بہت حساس قرار دیا جائے تو صحافیوں کے لیے بین الاقوامی معاملات کی نگرانی اور تشریح کرنا مشکل ہو جائے گا۔ دوسری جانب اگر تبصرہ غیر ذمہ دارانہ یا غلط معلومات پر مبنی ہو تو اس سے سفارتی تعلقات متاثر بھی ہو سکتے ہیں۔بالآخر اصل چیلنج یہی ہے کہ ان حدود کو واضح اور مستقل انداز میں متعین کیا جائے۔

صحافیوں کے لیے اس کا حل پیشہ ورانہ اصولوں—درست معلومات، سیاق و سباق اور ذمہ دارانہ تجزیے—میں پوشیدہ ہے۔ جبکہ حکومتوں کے لیے اصل امتحان یہ ہے کہ وہ قومی مفادات کا تحفظ کرتے ہوئے جمہوری معاشروں میں ضروری سمجھی جانے والی آزاد بحث کو بھی برقرار رکھیں۔اور عوام کے لیے سوال آج بھی وہی ہے: اس دور میں جب معلومات سرحدوں کے پار چند لمحوں میں پھیل جاتی ہیں، آخر یہ فیصلہ کون کرے گا کہ “سرخ لکیریں” کہاں کھینچی جائیں؟(خصوصی رپورٹ)۔۔۔

Facebook Comments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں