سب حکمران اپوزیشن میں میڈیافرینڈلی لگتے ہیں، رؤف کلاسرا۔۔

میرے دوست کاشف عباسی نے اچھی باتیں کی ہیں خصوصا یہ کہا کہ اب ٹی ای اینکرز کو پتہ نہیں کیا کہنا ہے کیونکہ اوپر سے بتایا جاتا ہے فلاں بات کہنی ہے اور فلاں نہیں کہہ سکتے۔ بہت جبر ہے۔میرے خیال میں ایجسنیوں کو اس کام پر عمران خان نے پہلے سے زیادہ لگایا جب وہ وزیراعظم بنے۔ پہلے بھی ہوتا تھا لیکن خان کے دور میں عروج پر پہنچا۔ان کے دور میں ہی ایک کرنل پوری پارلیمنٹ چلانے لگا تو ائی ایس پی آر کا ایک کرنل صاحب پورا ٹی وی میڈیا چلانے لگا۔وہ کرنل صاحب اینکرز /صحافیوں کو پہلے خود فون کرتے جو خان حکومت کی گڈ بکس میں نہ تھے کہ فلاں ٹوئٹ ڈیلیٹ کریں۔ اگر کوئی اکڑ جاتا تو اس کے مالک کو فون جاتا کہ وزیراعظم افس سے فلاں ٹوئٹ کا سکرین شاٹ ہے اسے ڈیلیٹ کرائیں۔ سینئر صحافی و تجزیہ کار رؤف کلاسرا سوشل میڈیا اکاؤنٹ ایکس پر لکھتے ہیں کہ ۔۔ٹی وی شوز تو بہت بڑی بات ہے وزیراعظم ہاوس تو ٹوئٹ تک کی رعایت نہیں دیتا تھا۔خود میں ٹی وی چینل میں تھا تو مجھے چینل انتظامیہ نے کہا ایجنسی کا فون ہے آپ فلاں ٹوئٹ ڈیلیٹ کر دیں۔میں نے کہا ٹوئٹ ایجنسی بارے تو نہیں ہے بولے ان کی وزیراعظم آفس کی ڈیوٹی ہے۔ مجھے کہا گیا عمران خان، ائی ایس پی اور ایجنسی سے معاملات ٹھیک کرو ورنہ گھر جائو۔میں نے مٹی تے سوا معاملات ٹھیک کرنے تھے۔ میں گھر چلا گیا اور کئی ماہ بیروزگار رہا۔جنرل فیض کا ایک بندہ مجھے خصوصی طور پر ایف سکس میں کافی بینز پر ملا کہ ان کا کہنا ہے ہمارا شو بند کرانے میں ان کا ہاتھ نہیں۔ عمران خان کا حکم تھا۔ ہم نے تو انہیں کہا یہ ہمارا کام نہیں وہ نہیں مانے اور کہا انہیں فکس کرو۔شکر ہے ایجنسی نے فکس کرنے کا مطلب وہ نہیں سمجھا جو بھٹو صاحب بارے روایت ہے انہوں نے اپنے ایم این اے قصوری کے بارے اپنی ایجنسی کوکہا تھا ۔اب کی دفعہ چینل سے نکلوا دیا گولی نہیں مار دی۔یہ سب حکمران اپوزیشن میں شودے، معصوم، میڈیا فرینڈلی لگتے ہیں۔ پاور ملتے ہی فرعون کی شکل اختیار کر لیتے ہیں۔ جس جبر کی بات کاشف کر رہا ہے یہ ہر دور میں رہا ہے بس محسوس اس وقت ہوتا ہے جب ہم اس کا خود شکار ہوتے ہیں جیسے اس وقت میرے دوست کاشف عباسی کو ہورہا ہے۔میری ساری ہمدردی اور سپورٹ کاشف عباسی کے ساتھ ہے۔

Facebook Comments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں