سینئر صحافی رضوان رضی اور رضی دادا نے متنازع وی لاگ میں سندھ کے عوام کے بارے میں توہین آمیز ریمارکس دینے پر عوامی معافی مانگ لی ہے۔ یہ ریمارکس ڈیم کی تعمیر اور سیلاب کی روک تھام کے حوالے سے گفتگو کے دوران کیے گئے تھے۔ان بیانات کی ملک بھر میں شدید مذمت کی گئی، جس کے بعد پاکستان ٹیلی وژن (پی ٹی وی) نے پہلے انہیں معطل اور بعد ازاں ملازمت سے برطرف کر دیا۔اپنی معافی میں رضی دادا نے الزام پی ٹی آئی اور اپنے ایڈیٹر پر ڈالنے کی کوشش کی، یہ کہتے ہوئے کہ وی لاگ میں شامل وہ 13 سیکنڈ کا حصہ ایڈٹ کرکے ہٹایا نہیں گیا۔ ان کا کہنا تھاکہ جس نوجوان کو یہ حصہ کاٹنے کا کہا گیا تھا، اس نے وی لاگ ایڈٹ کرکے اپلوڈ کر دیا۔تنازعے کے باوجود ان کا اصرار تھا کہ یہ سب پروپیگنڈا ہے جس سے ان کے بارے میں غلط فہمیاں پیدا ہوئیں۔ انہوں نے کہاکہ میں تو اس دھرتی سندھ بارے میں کوئی نامناسب بات سوچ بھی نہیں سکتا جس کے ساتھ میرا گہرا عقیدت بھرا تعلق ہے۔ اگر وہاں رہنے والے کسی شخص کو اس پروپیگنڈے یا جھوٹ کے باعث دکھ پہنچا ہے تو میں دلی طور پر معافی چاہتا ہوں۔رضی دادا نے اپنے خلاف قانونی کارروائی کی خبروں کو بھی مسترد کر دیا اور کہا کہ انہیں یقین نہیں کہ صدر آصف علی زرداری انہیں جیل بھجوانا چاہیں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ صحافی وقار ستی کی جانب سے ان کے خلاف زیر سماعت مقدمات سے متعلق دی گئی معلومات بے بنیاد ہیں۔ اپنی گفتگو کے اختتام پر انہوں نے اشارہ دیا کہ ان کے پیچھے “طاقتور حلقے” موجود ہیں، اس لیے ممکنہ مقدمات کے بارے میں وہ فکرمند نہیں ہیں۔
