سٹی کورٹ میں پیشی کے موقع پر یوٹیوبر ملزم رجب بٹ اور وکلا کے کے جھگڑے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی۔اس حوالے سے ایکسپریس نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے ریاض علی سولنگی ایڈووکیٹ نے کہا کہ کہ ہم نے یوٹیوبر ملزم رجب بٹ کیخلاف مقدمہ درج کرایا تھا، اس نے نماز کی بے حرمتی کی تھی۔معزز عدالت سے حکم نامہ لیکر حیدری تھانے میں مقدمہ درج کرایا۔ یہ ملزم ایک سال سے غائب تھا، پی سی ایل میں نام آنے کے بعد اس نے حفاظتی ضمانت کرائی اور یہ یہاں پیش ہوا۔ جب یہ اپنے وکیل کے ساتھ داخل ہوا تو اس کے ساتھ تقریبا 15 یا اس سے زیادہ نامعلوم افراد تھے یا اس کے گارڈ تھے، وہ وی لاگ بناتے ہوئے آرہے تھے۔ریاض سولنگی نے کہا کہ اس دوران انہوں نے ایک وکیل صاحب کو دھکا دیا، دھمکیاں دیں، سیلف ڈیفنس میں پھر اس کے ساتھ جو ہوا وہ سوشل میڈیا پر ہے۔ پہلی پیشی کے بعد اس نے وی لاگ بھی بنایا تھا جس میں اس نے کہا تھا کراچی کے وکیل ڈڈو، کچرا اور پان گٹکا کھانے والے ہیں۔انہوں نے کہا کہ وکلا کے لیے وی لاگ میں بھی نازیبا الفاظ استعمال کیے گئے تھے اور آج بھی وہی عمل دہرایا گیا، اگر ہم نے اس کے ساتھ کچھ کرنا ہوتا تو پہلے کرتے جب 19 دسمبر کو یہ پہلی آیا تھا تو وکلا نے اسے عزت دی، اجرک پہنائی تھی۔اس کے بعد اس نے وی لاگ بنایا۔ ان کا کہنا تھا کہ 19 تاریخ سے آج تک مجھے دھکی آمیز کالز آرہی ہیں۔ جس کی اطلاع کراچی بار ایسوسی ایشن کو کردی گئی ہے۔ جھگڑے کے دوران موبائل فون گرا یا ملزم کے گارڈز لے گئے اس کی بھی درخواست سٹی کورٹ تھانے میں دیدی ہے۔ دریں اثنا یوٹیوبر رجب بٹ کو تشدد کا نشانہ بنانے والے وکلاء کے لائسنس معطل کرنے کی درخواست جمع کروادی گئی۔وکیل میاں علی اشفاق نے رجب بٹ پر تشدد کرنے کے الزام میں مدعی مقدمہ ریاض سولنگی ایڈووکیٹ،فتح چانڈیو اور دیگر کے خلاف کارروائی اور لائسنس معطل کرنے کی درخواست جمع کروائی ہے۔درخواست میں وکیل میاں علی اشفاق نے دعویٰ کیا ہے کہ رجب بٹ کو پیشی کے دوران مارا پیٹا گیا۔ اس کے علاوہ انہیں بار روم میں لے جا کر بھی تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ مار پیٹ کے دوران3 لاکھ روپے بھی غائب کردیئے گئے ۔
