تحریر: سجاد اظہر۔۔
رانا ابرار خالد اترا سے پہلا تعارف ان دنوں ہوا تھا جب میں روزنامہ پاکستان کا میگزین ایڈیٹر تھا جاوید قریشی ڈپٹی ایڈیٹر تھے ایک روز انہوں نے ابرار خالد اترا سے میرا تعارف کراتے ہوئے کہا کہ نوجوان بائیں بازو کے ایک تحریکی جریدے میں لکھتا رہتا ہے اور اسے نوکری کی ضرورت ہے شہر میں اس کا ٹھکانہ بھی کوئی نہیں ۔ اس لیے اسے میگزین میں ہی جاب دے دیں ۔ میں نے ابرار خالد اترا کو ایڈیٹوریل پیجز کے مضامین پڑھنے اور ایڈیٹ کرنے پر لگا دیا ۔ آفس کے ہی ایک کمرے میں اس کے رہنے کا بندو بست کر دیا گیا۔ روزنامہ پاکستان کا دفتر ان دنوں میلوڈی مارکیٹ کے ہارون چیمبر میں ہوتا تھا جو اخبارات میں جدت کا حامل دفتر گنا جاتا تھا یہیں پر آج کل انڈیپنڈنٹ اردو اور عرب لیگ کے دفاتر ہیں اور ہارون چیمبر اب ریٹالیہ بلڈنگ کہلاتی ہے۔
میں صبح دفتر آتا تو ابرار کینٹین میں ناشتہ کر رہا ہوتا۔ اس دور میں نو آموز صحافیوں کی تنخواہیں اتنی ہی ہوتی تھیں کہ کینٹین کا بل ہی ادا کیا جا سکتا تھا ۔ دن اسی طرح گزرتے رہے ابرار خالد اترا یا تو مضمون ایڈیٹ کرتا نظر آتا یا پھر سگریٹ پھونکتا اور چائے کی چسکیاں لگاتے ہی دکھائی دیتا۔ ہر روز مجھے مضامین دکھاتا کہ آج یہ والے لگنے ہیں میں ایک نظر دیکھتا اگر کوئی تبدیلی ہوتی تو بتا دیتا اور اداریہ لکھ کر ابرار کے حوالے کر دیتا۔ دن گزرتے رہے پھر مجھے یہ ملک چھوڑنا پڑ گیا۔ میں واپس آیا تو اب ابرار خالد اترا ایڈیٹوریل انچارج بن چکا تھا۔ سید رسول ترگوی میگزین ایڈیٹر تھے اس لیے سردار خان نیازی نے مجھے سینئر میگزین ایڈیٹر بنا دیا۔ اب ابوبکر مشتاق ڈپٹی ایڈیٹر تھے۔ ابرار خالد کی ذاتی زندگی پر اس کے نظریات حاوی رہے اس لیے اس کی ذاتی زندگی کے بارے میں ہم کم ہی جانتے تھے بس اتنا جانتے تھے کہ وہ سرائیکی وسیب کی شناخت اور کبھی کبھی اس کے الگ صوبے پر کھل کر بات کرتا۔ وہ لیفٹ کا جیالہ نما کارکن تھا جس کے رویے باہمی گفتگو میں انتہا پسندانہ حدوں کو چھونے لگتے۔ میں آج تک یہ سمجھنے سے قاصر ہوں کہ ہمارے سرائیکی وسیب سے تعلق رکھنے والے ایکٹوسٹ لوگ پنجاب کے بارے میں ویسے ہی خیالات کیوں رکھتے ہیں جیسے غیر پنجابی رکھتے ہیں ۔ کیا یہ پسماندگی ہے یا پھر شناخت کا کوئی گہرا بحران ہے ۔
وقت گزرتا رہا میں اور ابرار خالد الگ الگ میدانوں میں چلے گئے ۔ ایک روز پریس کلب میں سندھ سے آئے صحافیوں کے جھرمٹ میں وہ بیٹھا تھا کہ بات پنجاب کی تاریخ پر چلی گئی۔ جو لوگ پنجاب کی تاریخ نہیں جانتے وہ جب سوال اٹھاتے ہیں تو پھر میں پنجاب کا مقدمہ تاریخی حوالوں سے لڑنا ضروری سمجھتا ہوں۔ سندھی بھائی تو نہ صرف میری باتوں سے قائل ہو گئے بلکہ ایک صحافی نے تو بیٹھے بیٹھے میری کتاب راول راج کے دس نسخے آن لائن آرڈر بھی کر دیے ۔ یہ پہلا موقعہ تھا کہ میرے اور رانا ابرار خالد اترا کے درمیان تلخی ہو گئی۔ لیکن اگلی ہی ملاقات میں نہ میں نے اسے یاد رکھا نہ ابرار خالد اترا نے ، عمران خان کی حکومت کے آخری دنوں میں اس کی توشہ خانہ والی سٹوری ہر کہیں ڈسکس ہو رہی تھی مگر اس کے حالات ابھی بھی دگرگوں تھے وہ اپنا میڈیا ٹاؤن والا پلاٹ اونے پونے داموں بیچ چکا تھا اس سے شاید اتنے ہی پیسے ملے تھے کہ دو چار ماہ عافیت سے گزر گئے ہوں۔ شہباز شریف کے انٹرم سیٹ اپ میں اسے پی ٹی وی پر اینکر کی ملازمت مل گئی تھی۔ اب اس کے اچھے دن شروع ہو گئے تھے اسے دیکھ کر دل خوش ہوتا کہ چلیں اس کی دال روٹی تو چل پڑی ہے لیکن ایک بار پھر وہ بے روزگار ہو گیا اس بار کی بیروزگاری بیماری بھی ساتھ لے کر آئی۔ نیشنل پریس کلب کے صدر اظہر جتوئی جو خود بھی سرائیکی وسیب سے تھے وہ بھی ابرار خالد اترا جیسے پروفیشنل صحافی کی ہیلتھ انشورنس میں کوئی مدد نہیں کر سکے جس کی وجہ سے اس کے علاج میں غیر معمولی تاخیر ہوئی اور ایک اہم صحافی اس دنیا سے چلا گیا۔ حکومت کی جانب سے ایک ارب روپے سالانہ کہ ہیلتھ انشورنس اگر ابرار خالد اترا کے کام نہیں آ سکی تو پھر وہ کون سے صحافی ہیں جو اس سے مستفید ہو رہے ہیں ۔
میں اپنے صحافی رہنما دوستوں سے یہ سوال ضرور کرتا ہوں کہ یہ جو جو صحافی ناگہانی موت مر رہے ہیں یہ قدرتی موتیں نہیں بلکہ قتل ہیں اور ان کے زمہ دار صرف میڈیا مالکان ہی نہیں بلکہ وہ یونینز بھی ہیں جو صحافیوں کے مفادات کے تحفظ میں بری طرح ناکام ہو چکی ہیں ۔
ابرار خالد اترا بڑے خواب لے کر بڑے شہر آیا تھا وہ اپنے خوابوں کی تعبیر کر سکتا تھا مگر اس کے پیش نظر اپنے خواب نہیں قوم کے خواب اہم تھے ۔ وہ اپنے ساتھ وہ ساری حسرتیں لے کر گیا ہے جن میں اس ملک کا اکثریتی طبقہ روزانہ جیتے جی مر رہا ہے۔ابرار خالد اترا اللہ تمہاری روح کو سکون دے کیونکہ یہ دنیا تو تمہیں چین نہیں دے سکی۔بے چین روح کو شاید جنت میں قرار آجائے۔(سجاد اظہر)۔۔
