تحریر: عمران ملک۔۔
ایک زمانہ تھا جب ٹی وی چینلز کے اینکرز کا طوطی بولتا تھا۔ مالک حضرات ان کے سامنے جھک کر بات کرتے، اور ایک اشارے پر لاکھوں روپے کے معاہدے طے پا جاتے۔ مگر اب حالات بدل چکے ہیں۔ ٹیکنالوجی کا پہیہ ایسی تیزی سے گھوما کہ بڑے بڑے اینکرز کے چراغ بجھنے لگے۔
اب زمانہ ریٹنگ کا نہیں، وی لاگ اور سبسکرائبر کا ہے۔ اینکرز اب ناظرین نہیں، بلکہ ’’ویوز‘‘ گنتے ہیں۔ ایسے میں جب مفاد کا ٹکراؤ پیدا ہو جائے تو بھلا چینل مالکان کب تک برداشت کریں؟
ایکسپریس نیوز نے آخرکار فیصلہ کر لیا کہ بس بہت ہو گیا۔ اور یوں پاکستان کے مشہور کالم نگار، اوسط درجے کے اینکر اور جدوجہد کرتے کاروباری شخصیت جاوید چوہدری کو کہہ دیا گیا —
“خدا حافظ جناب، دروازہ اُس طرف ہے!”
جاوید چوہدری صاحب کو گمان تھا کہ وہ تا حیات ایکسپریس کے ساتھ بندھے رہیں گے، مگر وقت بدل گیا۔ وہ زمانہ گیا جب وہ شو کے آغاز میں بھاری آواز میں فلسفیانہ جملہ بولتے اور قوم جھوم اٹھتی۔ اب وہی قوم ان کا وی لاگ دیکھ کر کمنٹس میں لکھتی ہے: ’’سر، دوا اصلی ہے یا ریپلیکا؟‘‘
مشکلات تب شروع ہوئیں جب جاوید صاحب نے دفتر کے بعد یوٹیوب پر وی لاگ بنانا شروع کیا۔ پھر یوٹیوب سے آگے بڑھ کر انہوں نے ’’مردانہ طاقت‘‘ کی دوائیں بیچنا شروع کر دیں۔ اب بھلا یہ سب دیکھ کر ایکسپریس کے مالک کیا سوچتے؟ چینل پر قوم کو اخلاقیات کے سبق، اور وقفے میں خود ’’طاقت کا راز‘‘ فروخت کرنا — یہ تو حد ہو گئی!
پھر ’’سیلیبریٹی ٹور‘‘ کا کاروبار آیا۔ جاوید صاحب نے دنیا بھر کے دوروں کو کاروبار بنا دیا۔ اب وہ صرف صحافی نہیں، ایک مکمل برانڈ بن چکے تھے۔ ان کی متوازی کاروباری سلطنت نے ایکسپریس نیوز کے لیے دردِ سر پیدا کر دیا، کیونکہ ان کی پہچان ہی ایکسپریس کا پلیٹ فارم تھا — اور وہی پلیٹ فارم ان کے کاروبار کی تشہیر کا ذریعہ بن گیا۔
جب پانی سر سے گزرا تو مینجمنٹ نے چپکے سے پیغام بھیجا:
“جاوید صاحب، اب آپ کا وی لاگ بولے گا، ہمارا چینل نہیں۔”
جاوید چوہدری صاحب کی رخصتی پر کچھ لوگ افسردہ ہیں، مگر حقیقت یہ ہے کہ وہ کبھی ریٹنگ کے شہزادے نہیں رہے۔ ان کا انٹرو ہمیشہ متاثر کن ہوتا تھا، باقی شو میں وہی پرانے سیاستدان، وہی گھسی پِٹی بحث، اور وہی ’’ایک کے مقابلے میں تین‘‘ والا فارمولہ۔
اب میڈیا بدل چکا ہے۔ وہ دور گیا جب اینکرز مالکوں کے سامنے تخت پر بیٹھے تھے۔ آج وہی اینکرز ڈیجیٹل اسکرین پر ’’لائکس‘‘ اور ’’ویوز‘‘ کے محتاج ہیں۔
اب ہر اینکر کو فیصلہ کرنا ہو گا ۔۔یا وہ سیٹھ کے ملینوں پر گزارا کرے،یا پھر اپنے ڈیجیٹل پلیٹ فارم کو روزگار بنائے۔
کیونکہ…دو کشتیوں کا سوار، کبھی پار نہیں لگتا!(عمران ملک)۔۔
