دو مقدمات کا سامنا ہے، صحافی شہباز رانا۔۔

معروف صحافی شہباز رانا نے انکشاف کیا ہے کہ وہ اس وقت بیک وقت دو مقدمات کا سامنا کر رہے ہیں—ایک دیوانی ہتکِ عزت کا اور دوسرا فوجداری مقدمہ—جو فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) میں مبینہ کرپشن سے متعلق ان کی رپورٹنگ کے بعد قائم کیے گئے۔ایم جے ٹی وی کو دیئے گئے انٹرویو میں انہوں نے بتایا کہ یہ معاملہ اُس وقت اُبھرا جب وزیرِاعظم شہباز شریف نے 2024 میں ایف بی آر میں بدعنوانی کے الزامات پر انکوائری شروع کی۔ اس انکوائری میں آئی ایس آئی، انٹیلی جنس بیورو اور ایف بی آر کے اپنے انٹیلی جنس وِنگ سے معلومات حاصل کی گئیں۔ بعد ازاں 26 اپریل 2024 کو جاری ہونے والے سرکاری نوٹیفکیشن کے تحت ایف بی آر کے 25 سینئر افسران (گریڈ 21 اور 22) کو او ایس ڈی بنا دیا گیا۔وزیرِاعظم نے اس فیصلے کو اپنی کامیابی قرار دیتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ انہوں نے ادارے سے “کالی بھیڑوں” کو الگ کر دیا ہے۔ شہباز رانا نے اسی سرکاری نوٹیفکیشن کی بنیاد پر یہ خبر شائع کی اور اپنے ٹی وی پروگرام میں بھی بیان کیا۔ تاہم، انہوں نے کسی افسر کا نام نہیں لیا اور صرف عہدوں کا ذکر کیا۔اس کے باوجود متاثرہ افسران میں سے ایک خاتون نے رانا کے خلاف دیوانی اور فوجداری درخواستیں دائر کر دیں، یہ الزام لگاتے ہوئے کہ انہوں نے وزیرِاعظم کے ساتھ مل کر ان کی شہرت کو نقصان پہنچانے کی سازش کی۔دلچسپ امر یہ ہے کہ فوجداری مقدمے میں وزیرِاعظم، سیکریٹری خزانہ، سیکریٹری اسٹیبلشمنٹ، سیکریٹری داخلہ اور آئی جی اسلام آباد پولیس کو بھی نامزد کیا گیا ہے، لیکن فردِ جرم صرف شہباز رانا پر عائد کی گئی ہے۔ستائیس مئی دوہزار پچیس کو عدالت نے  ان کے ناقابلِ ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کیے، تاہم اگلے روز پولیس انہیں ایکسپریس ٹریبیون کے دفتر سے گرفتار کرنے میں ناکام رہی کیونکہ عام تعطیل کے باعث وہ دفتر میں موجود نہیں تھے۔ رانا 29 مئی کو خود عدالت میں پیش ہوئے اور اُسی دن اُن پر باضابطہ فردِ جرم عائد کر دی گئی۔شہبازرانا نے ایم جے ٹی وی کو بتایا کہ میرا خیال ہے کہ درخواست گزار نے خبر پڑھی ہی نہیں اور نہ اس شخص نے جو یہ مقدمہ منظور کرگیا۔انہوں نے مزید کہا کہ ان کے پبلشر، ایڈیٹر اور ٹی وی شریک میزبان کو مقدمے میں فریق نہ بنانا قانونی کارروائی میں ایک بڑی خامی ہے۔رانا کا مؤقف ہے کہ ان کی رپورٹنگ مکمل طور پر سرکاری نوٹیفکیشن پر مبنی تھی، جو آج بھی ایف بی آر کی ویب سائٹ اور عدالت کے ریکارڈ میں موجود ہے۔ دونوں مقدمات کے ایک ساتھ چلنے سے صحافتی حلقوں میں شدید تشویش پائی جا رہی ہے اور اسے پاکستان میں آزادیٔ صحافت کے لیے خطرناک نظیر قرار دیا جا رہا ہے۔

Facebook Comments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں