دادو پریس کلب چیک پوسٹ میں تبدیل، جہاں سے کلب کے اراکین کو بھی تلاشی دیئے بغیر اندر جانے کی اجازت نہیں۔۔پپو کا کہنا ہے کہ لیڈرز کی سیاست میں صحافیوں کے لیے سیکیورٹی کے نام پر تذلیل کانیا سلسلہ شروع ہوگیا ہے۔ دادو پریس کلب میں صحافتی آزادی کے بجائے اب جان کے خطرے اور تلاشی کی سیاست کا راج ہے۔ اطلاعات کے مطابق کلب کے کرتا دھرتا نے دعویٰ کیا ہے کہ انہیں “خطرہ” خود صحافیوں سے ہے، جس پر ان کی حفاظت کے لیے پریس کلب کے اندر باقاعدہ پولیس پکٹ قائم کردی گئی ہے۔نئے احکامات کے مطابق اب پریس کلب میں داخل ہونے سے پہلے ہر رکن صحافی کو تلاشی دینا ہوگی ۔ سوائے ان چار “خاص رہنماؤں” کے، جو بقول صحافیوں کے، احتساب سے بالاتر طبقہ بن چکے ہیں جس میں ایک سرکاری ملازم بھی شامل ہے۔صحافتی برادری نے اس اقدام کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ“یہ پریس کلب ہے یا وی آئی پی جیل؟ذرائع کے مطابق اس “غیر معمولی” فیصلے کے پیچھے کلب کے اعلیٰ عہدیدار سمیت سندھ کے دوسرے بڑے شہر کے پریس کلب کے کچھ اہم ذمہ داران کی مشاورت بھی شامل ہے۔ جنہوں نے دادو کے مقدس صحافتی پلیٹ فارم کو مذاق بنا کر رکھ دیا ہے۔سینئر صحافیوں نے طنزیہ تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ:“اب اگلی پریس کانفرنس میں مائیک نہیں، میٹل ڈیٹیکٹر سامنے رکھا جائے گا ۔ اور شاید سوال پوچھنے سے پہلے جامہ تلاشی کی اجازت لینی پڑے!”دادو کے دردمند قلمکاروں نے مطالبہ کیا ہے کہ پریس کلب کو خوف کی علامت نہیں، احترامِ صحافت کا استعارہ بنایا جائے ۔ ورنہ تاریخ یاد رکھے گی کہ دادو میں سب سے زیادہ خطرہ، “خبر دینے والے” کو ہی تھا۔
