پاکستان کی صحافیوں کی ایک بڑی تنظیم پی ایف یوجے نے خواتین کے عالمی دن کے موقع پر عورت مارچ کے دوران اسلام آباد پولیس کی جانب سے خواتین صحافیوں کی گرفتاری اور پولیس کے مبینہ سخت رویہ کی شدید مذمت کی ہے۔۔پی ایف یو جے کا کہنا ہے کہ اسلام آباد پولیس اور وفاقی انتظامیہ کے اقدامات پُرامن شرکاء اور مارچ کی کوریج کرنے والے میڈیا کارکنوں کے خلاف اختیارات کے حد سے زیادہ استعمال کی عکاسی کرتے ہیں۔ تنظیم نے خاص طور پر تین خواتین صحافیوں کی حراست کا ذکر کیا، جن میں سحرش قریشی بھی شامل ہیں جو انڈیپنڈنٹ اردو سے وابستہ ہیں۔۔ پی ایف یوجے کے صدر افضل بٹ ، سیکرٹری ارشد انصاری نے ایک مشترکہ بیان میں معروف سماجی کارکن ڈاکٹر فرزانہ باری ، مارچ کے منتظمین اور درجنوں شرکا کی حراست پر تشویش کا اظہارکیا، یہ افراد سیکرٹر ایف سکس کے سپرمارکیٹ کے قریب اس وقت روکے گئے جب وہ نیشنل پریس کلب کی جانب جانے کی کوشش کررہے تھے، پی ایف یوجے کی قیادت کے مطابق گرفتاریاں اسوقت کی گئیں جب حکام نے دفعہ ایک سو چوالیس نافذ کیا ہوا تھا، جو عوامی اجتماعات کو محدود کرتا ہے، پی ایف یوجے کا موقف ہے کہ پرامن اجتماع کو روکنے کیلئے اس قانون کا استعمال پاکستان کے آئین میں دیئے گئے بنیادی حقوق کو کمزور کرتا ہے۔ پی ایف یوجے نے انتظامیہ کے اس موقف کو بھی مسترد کردیا کہ سیکورٹی خدشات یا لال مسجد کی انتظامیہ کی جانب سے ممکنہ خطرات کے باعث پیشگی گرفتاریاں ضروری تھیں۔۔پی ایف یوجے کے مطابق ریاست کی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ اپنے حقوق استعمال کرنے والے شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنائے، نہ کہ انہیں پیشگی طور پر حراست میں لے۔صحافیوں کی اس تنظیم نے ان اطلاعات کی بھی مذمت کی کہ کارروائی کے دوران بعض زیرِ حراست افراد کے ساتھ مبینہ طور پر سختی کی گئی۔ مزید یہ کہ کچھ افراد کو اس وقت بھی حراست میں لیا گیا جب وہ پہلے سے گرفتار افراد کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کے لیے خواتین کے پولیس اسٹیشن گئے تھے۔پی ایف یو جے رہنماؤں نے کہا کہ انٹرنیشنل ویمنز ڈے دنیا بھر میں خواتین کے حقوق اور مساوات کے لیے آواز بلند کرنے کا دن سمجھا جاتا ہے۔ انہوں نے اسلام آباد انتظامیہ کو تنقید کا نشانہ بنایا کہ اس نے دارالحکومت میں شہری سرگرمیوں کو سہولت فراہم کرنے کے بجائے انہیں محدود کیا، حالانکہ نیشنل پریس کلب کو وہ اظہارِ رائے کی آزادی کی ایک دیرینہ علامت قرار دیتے ہیں۔یونین نے تمام گرفتار کارکنوں کی فوری اور غیر مشروط رہائی کا مطالبہ کیا اور کارروائی کے دوران خواتین کے خلاف پولیس کی جانب سے مبینہ طاقت کے استعمال کی آزادانہ تحقیقات کا بھی مطالبہ کیا۔افضل بٹ اور ارشد انصاری نے وزارتِ داخلہ سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ اسلام آباد انتظامیہ کو اس غیر ضروری طاقت کے استعمال پر جوابدہ بنائے، جو ان کے بقول عالمی سطح پر پاکستان کے جمہوری تشخص کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔پُرامن احتجاج کی کوریج کے دوران صحافیوں کی حراست اس بات کو ظاہر کرتی ہے کہ پاکستان میں عوامی مظاہروں کی رپورٹنگ کرنے والے صحافیوں کو کس طرح کے عملی خطرات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ خبر رساں اداروں کے لیے ایسے واقعات آزادیٔ صحافت، نیوز روم کے حفاظتی پروٹوکولز اور احتجاجی مظاہروں کی کوریج سے متعلق قانونی ماحول پر سنجیدہ سوالات اٹھاتے ہیں۔ یہ معاملہ اس بات کی اہمیت کو بھی اجاگر کرتا ہے کہ پی ایف یو جے جیسے پیشہ ورانہ ادارے ایسے اقدامات کے خلاف آواز اٹھاتے ہیں جو میڈیا کی عوامی تقریبات تک رسائی کو محدود کر سکتے ہیں۔
