تحریر: عطا محمد تبسم
خاور حسین کی اچانک موت نے نہ صرف صحافتی حلقوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے بلکہ ایک سنجیدہ اور تلخ سوال بھی جنم دیا ہے۔ رپورٹوں کے مطابق خاور نے خودکشی کی، اور یہ خبر ہر اُس شخص کے لیے دکھ اور سوچ کا باعث ہے جو اُسے جانتا تھا یا اُس کے نظریاتی تعلق سے واقف تھا۔
خاور کا تعلق کے یو جے دستور سے تھا، جو ایک نظریاتی گروپ سمجھا جاتا ہے۔ دستور اپنے آپ کو مثبت سوچ، باہمی ربط، تعمیرِ انسانی اور دین سے روشناس کرانے والے حلقے کے طور پر پیش کرتا ہے۔ ان کا دعویٰ یہ ہے کہ وہ اپنے اراکین کو مایوسی سے نکالتے ہیں، مسائل میں سہارا دیتے ہیں اور ایک دوسرے کے ساتھ جڑے رہتے ہیں۔
لیکن سوال یہ ہے کہ اگر دستور واقعی ایک ایسا گروہ ہے جہاں ہر رکن دوسرے کے دکھ درد سے واقف ہے، تو خاور جیسا شخص تنہائی اور مایوسی کے اندھیرے میں کیسے ڈوب گیا؟ کیا اُس کے دکھ کو محسوس کرنے والا کوئی نہ تھا؟ کیا اُس کے قریب کے لوگ اُس کیفیت کو بھانپ نہ سکے جس نے اُسے خودکشی جیسے اندوہناک انجام تک پہنچا دیا؟
اگر دستور اور اس جیسے گروپ صرف نظریاتی دعووں تک محدود رہیں، اور عملی طور پر مشکل وقت میں اپنے ساتھی کے ساتھ نہ کھڑے ہوں، تو پھر ان کا دوسرے گروپوں سے کیا فرق رہ جاتا ہے؟ یہ سانحہ محض ایک فرد کی موت نہیں، بلکہ ایک آئینہ ہے جو دستور کے وجود اور اس کے دعووں کو پرکھنے پر مجبور کرتا ہے۔
یہ لمحہ دستور کے لیے محض افسوس کا نہیں بلکہ احتساب کا بھی ہے۔ سوال یہی ہے:
کیا دستور اپنے دعووں کو حقیقت بنانے کے لیے عملی اقدامات کرے گا؟
یا پھر خاور کی موت ایک اور بھلائی جانے والی داستان بن کر رہ جائے؟(عطامحمد تبسم )
