ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس اسلام آباد نے سینئر صحافی خالد جمیل کو مقدمے سے ڈسچارج کرنے کے جوڈیشل مجسٹریٹ کے فیصلے کے خلاف نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کی اپیل منظور کر لی ہے۔ ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج محمد افضل مجوکہ نے سماعت کی۔عدالت نے جوڈیشل مجسٹریٹ کی جانب سے خالد جمیل کو مقدمے سے بری کرنے کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے کیس بحال کر دیا۔عدالتی فیصلے کے مطابق این سی سی آئی اے کی اپیل قابلِ سماعت تھی اور جوڈیشل مجسٹریٹ نے مقدمے کے قانونی پہلوؤں کا مکمل جائزہ لیے بغیر خالد جمیل کو ڈسچارج کیا، جس کے باعث ان کا فیصلہ برقرار نہیں رکھا جا سکتا۔ عدالت نے قرار دیا کہ مقدمے میں مزید قانونی کارروائی ضروری ہے، لہٰذا کیس دوبارہ ٹرائل کورٹ کو بھجوا دیا گیا ہے۔واضح رہے کہ خالد جمیل کے خلاف این سی سی آئی اے نے پریوینشن آف الیکٹرانک کرائمز ایکٹ (پیکا) کے تحت مقدمہ درج کیا تھا، جس میں ان پر سوشل میڈیا کے ذریعے قابلِ اعتراض اور قانون کے زمرے میں آنے والا مواد پھیلانے کا الزام عائد کیا گیا تھا۔ اس سے قبل جوڈیشل مجسٹریٹ نے شواہد ناکافی قرار دیتے ہوئے انہیں مقدمے سے ڈسچارج کر دیا تھا۔این سی سی آئی اے نے اس فیصلے کو ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ میں چیلنج کیا تھا، جس پر عدالت نے دلائل سننے کے بعد اپیل منظور کرتے ہوئے جوڈیشل مجسٹریٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا۔ عدالتی فیصلے کے بعد خالد جمیل کے خلاف مقدمہ دوبارہ بحال ہو گیا ہے اور آئندہ سماعتوں میں قانونی کارروائی جاری رہے گی۔
