خالد آرائیں کی ایک ماہ میں دوسری دعوت حلیم یادگار پارٹی ۔۔

تحریر: آغا خالد۔۔

کیبل ایسوسی ایشن کے چیرمین خالد آرائیں نے  چینل 5 کے دفتر میں ایک مختصر اور لذت دار دعوت حلیم کا اہتمام کیا تھا جس میں بطور خاص گورنر سندھ کامران ٹیسوری اور سندھ کے ہر دل عزیز صوبائی وزیر سید ناصر حسین شاہ نے شرکت کی خالد آرائیں یوں تو ہر محرم کی دسویں شب کو حلیم کا اہتمام کرتے ہیں اور حال ہی میں میٹرو چینل کے ڈائرکٹر امیر علی چانڈیو کے تعاون سے نیاز حلیم ہمیشہ کی طرح ان کی نیاز یادگار رہی جس میں شہر بھر کے معززین اور ہر طبقہ فکر کے زعما شریک ہوے مگر اس مرتبہ روایت سے ہٹ کر انہوں نے اگست 2025 کی دوسری دہائی میں دوبارہ سے حلیم کے ساتھ شیریں بافت حلوہ کا بھی اہتمام کرکے معزز مہمانوں کو لذت یاب کیا حلیم کے لیے سکھر سے بطور خاص گندم جو اور دالوں سمیت دیگر اشیاء منگوائی گئی تھیں ان کے پسندیدہ باورچی نے مشرق سینٹر کے سامنے حلیم اور شیریں ڈش تیار کی جس کا گھوٹہ لگا کر گورنر سندھ نے مقبول عام جملہ کہا جو سوشل میڈیا پر زیر گردش ہے کہ “لوگ ہمیں بلاتے ہیں تو پودوں کی پنیری لگواتے ہیں جبکہ خالد آرائیں نے حلیم کا گھوٹہ لگوایا ہے” تصاویر میں دیکھ سکتے ہیں کہ گورنر کے ساتھ سابقہ وزیر بلدیات ڈاکٹر فاروق ستار اور 90 کے ماضی کے بادشاہ گر انیس قائم خانی بھی تبرکا گھوٹہ لگارہے ہیں کراچی کے لوگوں کو حیرت کے ساتھ یہ بھی دیکھنا پڑ رہاہے کہ ماضی کے سندھ کے سینیر وزیر مگر عملا صوبے کے وزیر اعلی ڈاکٹر فاروق ستار آج کل کامران ٹیسوری کے پیچھے ہاتھ باندھے یوں کھڑے ہوتے ہیں کہ دیکھ کر بے ساختہ خدا یاد آجاتا ہے حالانکہ ڈاکٹر فاروق ستار میں ان کے عروج کے دنوں میں بھی رتی بھر تکبر نہ تھا وہ ہمیشہ سے ہمدرد ملنسار غریب نواز اور سادہ دل مگر سندھ کے طاقت ور وزیر تھے مگر رب کے اپنے فیصلے ہیں یوں آج کل انیس بھائی بھی بہت ہی فرماں بردار بچے بنے ہوے ہیں جبکہ گورنر سندھ نے تو کمال ہی کردیا ماضی کے کیسے کیسے نا خدائوں کو اپنی خدا داد صلا حیتوں سے مقتدی بنا لیاہے دیکھ کر دل دہل جاتاہے آج کل کامران ٹیسوری سیاست کے لبادے میں ہلکی پھلکی پھل جھڑیاں چھوڑ کر سیاسی مخالفین کو بچوں کی طرح تنگ کرتے رہتے ہیں خالد ارائیں کی حلیم میں بھی انہوں نے آرائیں کے ولی عہد بیٹے کو گود میں بٹھاتے ہوے صحافیوں کو مخاطب ہوکر کہا کہ “کل یہ نہ لکھ دینا کہ گورنر صاحب نے خالد آرائیں کو گود لے لیا” ان کے جملہ پر حاضرین کے قہقہے گونجے مگر ان کے سامنے بیٹھے سید ناصر حسین شاہ زیر لب مسکرادیئے اور گورنر کے چھوڑے شگوفوں پر وہ مسکرانے میں بھی بخل کرتے رہے یوں تو شاہ کی زندہ دلی اور شاداں چہرہ آج کل مستقل مرجھایا ہوا نظر آتا ہے مگر اس محفل میں بطور خاص ان کا محتاط رہنا تو بنتا ہی تھا کیونکہ آج کل گورنر کی ان کی پارٹی سے ہلکی پھلکی نوک جھونک چل رہی ہے ایسے میں ان کی احتیاط مجبوری تھی حالانکہ ناصر شاہ صوبے کی حکمراں جماعت میں قلندرانہ مزاج کے وزیر ہیں جو صبح سے رات گئے تک عوامی خدمت میں مصروف نظر آتے ہیں ان کا گھر اور دفتر سائلین سے بھرا رہتا ہے دوست ہو یا دشمن ان کے در پر جو پہنچ گیا وہ مراد پاکر ہی پلٹتاہے ایسا خدا ترس وزیر پی پی کے لیے نعمت خدا وندی سے کم نہیں وہ خصوصی رفاقت کی وجہ سے خالد آرائیں کی دعوت حلیم میں آ تو گئے مگر ان کی موجودگی کسی آزمائش سے کم نہ تھی جبکہ دعوت حلیم میں گورنر پوری طرح چھائے رہے اور ان کے تفنن طبع مزاج سے حاضرین لطف اندوز ہوتے رہے اور وہ جب تک موجود رہے محفل کشت زعفران بنی رہی۔(آغا خالد)۔۔

Facebook Comments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں