حمید نظامی، جدوجہد کا استعارہ

تحریر: میاں حبیب۔۔

لوگ پاکستان کے قیام کو معجزہ کہتے ہیں لیکن معجزے ایسے ہی رونما نہیں ہو جاتے ان کے پیچھے تگڑی سوچ ہوتی ہے بلا کی جدوجہد انتھک محنت اور لازوال قربانیوں کی داستان چھپی ہوتی ہے حضرت انسان جس کام کا تہیہ کرلے وہ کر گزرتا ہے لیکن دیکھا جاتا ہے کہ اس کام کی تکمیل کے لیے  اس کی نیت کیا ہے اس کے لیے وہ اپنے آپ کو آخری حد تک جانے کے لیے فنا کرنے کو تیار ہے اس کے حصول کے لیے اس کی لگن کا لیول کیا ہے اگر ہم تحریک پاکستان کا جائزہ لیں تو اس میں بےشمار ایسے لوگ ملیں گے جنھیں حصول پاکستان کا جنون تھا ان لوگوں نے اپنی زندگیاں حصول پاکستان کے لیے وقف کر چھوڑیں تھیں ان کی زندگیوں کا اولین مقصد قیام پاکستان تھا ان کا اوڑھنا بچھونا جدوجہد تھی ایسی ہی ایک شخصیت حمید نظامی صاحب تھے جن کی زندگی کا احاطہ کیا جائے تو ان کی پوری زندگی جہد مسلسل دکھائی دیتی ہے تحریک پاکستان سے لے کر تکمیل پاکستان تک اور پھر قیام پاکستان سے استحکام پاکستان کی طرف سفر ہمیں یاد دلاتا ہے کہ انھوں نے اپنی زندگی کا ہر لمحہ نظریہ پاکستان سے جوڑ رکھا تھا وہ سانگلہ ہل میں پیدا ہوئے پڑھائی کے لیے جب لاہور آئے تو وہ لاہور کے ہو کر رہ گئے انھوں نے زمانہ طالبعلمی سے ہی اپنے آپ کو پاکستان کے لیے وقف کر دیا تھا انھوں نے ہندو طلباء کے مقابلے میں مسلمان طلباء کو اکھٹے کیا پنجاب میں ایم ایس ایف کی بنیاد رکھی ان کی لگن محنت کو دیکھ کر بانی پاکستان بھی متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکے حضرت قائد اعظم نے انھیں مسلم سٹوڈنٹس فیڈریشن کا صدر مقرر کیا پھر حمید نظامی صاحب کی سربراہی میں مسلم طلباء نے تحریک پاکستان میں اہم کردار ادا کیا انھوں نے اس زمانے میں پنجاب یونیورسٹی سے انگریزی میں ماسٹر کیا لیکن انھوں نے ملازمت پر نظریہ کو ترجیح دی جب 23 مارچ 1940 کو لاہور میں قرار داد پاکستان منظور ہوئی تو اس موقع پر مسلم لیگ کے برصغیر بھر سے تمام لیڈران موجود تھے حمید نظامی صاحب محسوس کرتے تھے کہ مسلمانوں کی آواز اٹھانے والا کوئی موقر اخبار نہیں تو انھوں نے اس خلا کو پر کرنے کا فیصلہ کیا انھوں نے قرار داد پاکستان کے تاریخی لمحات میں نوائے وقت کا اجراء کیا ابتدائی طور پر پندرہ روزہ سے آغاز ہوا پھر ہفت روزہ اور پھر روزنامہ میں تبدیل ہو گیا جس طرح حمید نظامی صاحب جدوجہد کا استعارہ تھے روزنامہ نوائے وقت نظریہ پاکستان کا استعارہ بن گیا نوائے وقت پر اچھے برے وقت آتے رہے نوائے وقت بند بھی ہوا جرمانے بھی ہوئے کئی قسم کی مشکلات کا بھی سامنا کرنا پڑا لیکن حمید نظامی صاحب نے نظریات کو کبھی ماند نہ پڑنے دیا اسی لیے کہتے ہیں کہ نوائے وقت اخبار نہیں ایک نظریہ ہے لوگوں کی نوائے وقت کے ساتھ وابستگی ایک نظریہ کے ساتھ وابستگی ہے جس نظریہ کا بیڑہ جناب حمید نظامی صاحب نے اٹھایا تھا اسی نظریاتی اساس پر جناب مجید نظامی صاحب نے ساری زندگی پہرہ دیا ہرقسم کے حالات میں کلمہ حق کہنے کا درس نوائے وقت سے ملتا ہے نوائے وقت نے حکمرانوں کی پالیسیوں کی بجائے وہ کہا جو ملک وقوم کے مفاد میں تھا جس طرح نظامی خاندان نسل در نسل نظریہ پاکستان کی آبیاری کر رہا ہے اسی طرح لوگوں کی بھی نوائے وقت سے وابستگی نسل در نسل ہے جناب حمید نظامی اور مجید نظامی صاحب کی اساس پر آج کل محترمہ رمیزہ نظامی صاحبہ پہرہ دے رہی ہیں آج کل کے نامساعد حالات میں بھی وہ اپنے اسلاف کی سنت پوری کر رہی ہیں نوائے وقت ایک اخبار نہیں ایک تحریک ہے جو ہر دور میں نظریاتی لوگوں کا محور رہا ہے میرے خیال میں تحریک پاکستان کے وقت نظریہ پاکستان کی ترویج کی ضرورت تھی آج کے دور میں اس سے بڑھ کر نظریاتی سرحدوں کی حفاظت کی ضرورت ہے جس طرح افواج پاکستان جغرافیائی سرحدوں کی حفاظت سے غافل نہیں اسی طرح نوائے وقت بھی پاکستان کی نظریاتی سرحدوں کی حفاظت کے لیے ہمہ تن جوش ہے آج یوم حمید نظامی پر انھیں خراج عقیدت پیش کرنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ آج ہم نئی نسل کو نظریہ پاکستان سے جوڑنے کے لیے کام کریں کیونکہ آج جتنی ضرورت نوجوان نسل کو نظریہ پاکستان سے ہم آہنگ کرنے کی ہے پہلے کبھی نہ تھی۔(بشکریہ نوائے وقت)۔۔

Facebook Comments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں