جعلی صحافیوں کے خلاف کریک ڈاؤن  کا فیصلہ ۔۔

بھتہ خور مافیا جو صحافت کا لبادہ اوڑھ کر افسران اور شہریوں کو بلیک میل کر رہے ہیں جلد گرفت میں آئیں گے۔حکومت نے فیصلہ کرلیا، کہاجارہا ہے کہ  جعلی صحافتی شناخت اختیار کر کے پولیس ملزمان اور عام شہریوں سے بھتہ وصول کرنے والے عناصر کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی پولیس کے مطابق ایسے عناصر صحافت کا لبادہ اوڑھ کر افسران اور متاثرین کو دھمکیاں دے کر مال وصول کرتے رہے ہیں اور ان کے خلاف مقدمات درج کر کے گرفتاریوں کا عمل تیز کردیا گیا ہے۔پولیس ترجمان نے کہا ہم ایسے لوگوں کو بالخصوص نشانہ بنا رہے ہیں جو جعلی صحافتی اسناد کا سہارا لے کر قانون کو متاثر کرنے اور شہریوں سے بھتہ وصول کرنے کی کوشش کرتے ہیں  ترجمان نے بتایا کہ شواہد کی روشنی میں مزید گرفتاریاں متوقع ہیں۔ ترجمان نے مزید کہا کہ ابتدائی تحقیقات میں ان افراد کے نیٹ ورک کی نشاندہی ہوئی ہے جنہوں نے جعلی کارڈز، پریس شناختی کارڈز اور منظم طریقے سے دباؤ ڈالنے کے ٹھوس ثبوت جمع کیے ہیں ہم ان تمام شواہد کی بنیاد پر قانون کے مطابق کارروائی کریں گے اور کسی رعایت کی گنجائش نہیں ہوگی ۔حکام نے شہریوں سے بھی اپیل کی ہے کہ اگر کسی شخص نے صحافتی شناخت دکھا کر زبردستی رقم یا کسی قسم کی معلومات طلب کیں تو وہ فوری طور پر پولیس کو اطلاع دیں اور متعلقہ ثبوت (رنگین فوٹو کاپی واٹس ایپ پیغامات ریکارڈ شدہ کالز وغیرہ) فراہم کریں انہوں نے کہا کہ اطلاع دہندگان کی شناخت خفیہ رکھی جائے گی اور انہیں تحفظ فراہم کیا جائے گا۔ماہرینِ صحافت اور میڈیا آرگنائزیشنز نے اس اقدام کو خوش آئند قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ صحافیانہ آزادی کو تحفظ دینا اور حقیقی صحافیوں کی ساکھ بچانا ضروری ہے۔ ایک مقامی میڈیا نمائندے نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا جعلی صحافت سے حقیقی صحافت کو بڑا نقصان پہنچتا ہے یہ اقدام صحافتی پیشے کی ساکھ کے لیے اہم ہے۔قانونی ماہرین نے نشاندہی کی کہ بھتہ خوری بلیک میلنگ اور جعلی شناخت کے واقعات میں جرم ثابت ہونے پر متعلقہ افراد کے خلاف بھاری جرمانے اور طویل مدت قید کی سزا ممکن ہے۔ انہوں نے کہا کہ شواہد کی بنیاد پر سخت قانونی کارروائی انصاف کی فراہمی کے لیے ضروری ہے۔ شہریوں کو خبردار کیا گیا ہے کہ وہ اپنی حساس معلومات اور شناختی دستاویزات کسی غیر معروف شخص کے سپرد نہ کریں اور شک ہونے پر متعلقہ اداروں سے رجوع کریں حکام نے امید ظاہر کی کہ آئندہ چند روز میں اس مہم کے تحت مطلوبہ گرفتاریوں اور تفصیلی تفتیشی نتائج کا عوامی اعلامیہ جاری کیا جائے گا۔

Facebook Comments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں