وفاقی حکومت نے میڈیا پروفیشنلز کے حقوق کے لیے ’تحفظِ صحافی و میڈیا پروفیشنلز ایکٹ 2021‘ کے تحت آزاد کمیشن کا باضابطہ اجرا کر دیا۔وفاقی حکومت نے 14 نومبر 2025 کو صحافیوں کے تحفظ اور میڈیا پروفیشنلز کے بنیادی و قانونی حقوق کے مؤثر تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے ’تحفظِ صحافی و میڈیا پروفیشنلز ایکٹ 2021‘ کے تحت ایک آزاد کمیشن کے قیام کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔ نئے قائم شدہ کمیشن میں وزارتِ اطلاعات، وزارتِ انسانی حقوق اور قومی و صوبائی صحافتی تنظیموں کے نامزد نمائندے شامل ہوں گے جنہیں صحافیوں کے خلاف تشدد، دھمکیوں، ہراسگی، جبری گمشدگی، پابندیٔ اظہار اور پیشہ ورانہ فرائض میں رکاوٹ جیسے سنگین معاملات کی نگرانی، انکوائری اور فوری حل کے اختیارات تفویض کیے گئے ہیں۔ یہ کمیشن میڈیا پروفیشنلز کے حقوق کے تحفظ، رپورٹنگ کے دوران پیش آنے والے خطرات کے سدباب، متاثرہ صحافیوں کو قانونی معاونت کی فراہمی اور ذمہ داران کے خلاف کارروائی کی سفارشات تیار کرے گا۔ کمیشن کے قیام کو ملک میں آزادیٔ اظہار، صحافتی آزادی اور محفوظ صحافت کے فروغ کے لیے اہم سنگ میل قرار دیا جا رہا ہے، جب کہ صحافتی تنظیموں نے امید ظاہر کی ہے کہ اس اقدام سے صحافیوں کے خلاف جرائم کی روک تھام اور ان کے تحفظ کے نظام میں عملی بہتری آئے گی۔حکومت نے میڈیا پروفیشنلز کے حقوق کے لیے ’تحفظِ صحافی و میڈیا پروفیشنلز ایکٹ 2021‘ کے تحت آزاد کمیشن میں شامل اراکین کے ناموں کا اعلان کردیا۔ وزارت اطلاعات و نشریات کے چودہ نومبر کے نوٹی فیکیشن کے مطابق کمیشن میں بارہ اراکین شامل ہوں گے ۔ جن میں سے ایک پریس انفارمیشن ڈپارٹمنٹ کا سابق افسر، ڈی جی ایچ آر سابق، پریس ایسوسی ایشن آف سپریم کورٹ سے غلام نبی یوسف زئی، نیشنل پریس کلب کی سیکرٹری نیئر علی، پارلیمانی رپورٹرز ایسوسی ایشن پاکستان کے نوید اکبر چودھری، پی ایف یوجے (برنا ) کے افضل بٹ، پی ایف یوجے برنا (عظیم گروپ) سے حسن عباس، پی ایف یوجے دستور سے محمد نواز رضا، کے یوجے کے صدر طاہر حسن خان، پنجاب یونین آف جرنلٹس کی تمثیلہ چشتی، خیبر یونین آف جرنلٹس سے نادیہ صبوحی اور بلوچستان یونین آف جرنلٹس کے خلیل احمد شامل ہیں۔۔
